اسلام آباد: احتساب عدالت نے قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کے خلاف آمدنی سے زائد اثاثے بنانے کے الزام میں دائر ریفرنس کی سماعت کے دوران اسحٰق ڈار کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے گئے۔

عدالت کی کارروائی صبح 9 بجے شروع ہوئی تو اسحٰق ڈار کے وکیل نے عدالت سے سماعت کو 12 بجے تک ملتوی کرنے کی درخواست کی جبکہ نیب کی جانب سے تفتیشی افسر بھی عدالت میں مقررہ وقت پر نہیں پہنچ سکے تھے۔

اس موقع پر وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کے ضامن احمد علی قدوسی بھی عدالت میں پیش موجود تھے۔

احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کی جانب سے اسحٰق ڈار کی پیشی کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے احمد علی قدوسی کا کہنا تھا کہ اسحٰق ڈار کو مکمل صحت یابی میں 3 سے 6 ہفتے لگ سکتے ہیں۔

تاہم عدالت نے سماعت کو ساڑھے 12 بجے تک کے لیے ملتوی کردیا تھا۔

بعد ازاں عدالت نے کارروائی کا دوبارہ آغاز کیا تو اسحٰق ڈار پر آمدنی سے زائد اثاثے رکھنے کے کیس میں ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے سماعت کو 21 نومبر تک کے لیے ملتوی کردیا۔

قبل ازیں گزشتہ سماعت کے دوران بھی احتساب عدالت نے وفاقی وزیرِ خزانہ اسحٰق ڈار کی عدالت میں حاضری سے استثنیٰ کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ان کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری برقرار رکھنے کا حکم دے دیا تھا۔

خیال رہے کہ پاناما پیپرز کیس میں سپریم کورٹ کے حتمی فیصلے کی روشنی میں قومی احتساب بیورو کو وفاقی وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثے بنانے کے الزام میں ریفرنس دائر کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ اسلام آباد کی احتساب عدالت نے اسحٰق ڈار کے خلاف نیب کی جانب سے ریفرنس کی آٹھویں سماعت میں عدم پیشی پر اسحٰق ڈار کے قابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے تھے۔

اس سے قبل اسحٰق ڈار 23 اکتوبر کو عدالت میں پیش ہوئے تھے جہاں نجی بینک کے ملازمین عبدالرحمٰن گوندل اور مسعود غنی نے عدالت کے سامنے اپنے بیانات قلمبند کرائے تھے۔

یاد رہے کہ 18 اکتوبر کو ہونے والی سماعت کے دوران وفاقی وزیر خزانہ اسحٰق ڈار احتساب عدالت میں پیش ہوئے تھے تاہم ان کے وکیل کی عدم موجودگی کی وجہ سے عدالتی کارروائی ملتوی کردی گئی تھی۔

واضح رہے کہ 16 اکتوبر کے دوران عدالت نے اسحٰق ڈار کے وکلا کی جانب سے ان کے استثنیٰ کی درخواست دائر کی گئی تھی جسے عدالت نے مسترد کردیا تھا۔

خیال رہے کہ 12 اکتوبر کو 8 گھنٹے طویل سماعت کے دوران نیب پراسیکیوٹر کی جانب سے پیش کیے جانے والے گواہان، البرکہ بینک کے نائب صدر طارق جاوید اور نیشنل انویسٹمنٹ ٹرسٹ (این آئی ٹی) کے سربراہ شاہد عزیز نے عدالت کے سامنے اپنے بیانات قلمبند کرائے تھے۔

یہ بھی یاد رہے کہ 4 اکتوبر کو ہونے والی سماعت کے دوران نیب کی جانب سے لاہور کے ایک نجی بینک (بینک الفلاح) کے سابق مینیجر اشتیاق علی کو بطور گواہ پیش کیا گیا جنہوں نے عدالت میں بیان ریکارڈ کروایا تھا کہ اسحٰق ڈار کی اہلیہ تبسم اسحٰق ڈار کے نام سے 2001 میں مذکورہ بینک میں اکاؤنٹ کھلوایا گیا تھا، جس کی تفصیلات میں انہوں نے اپنی ایک سیکیورٹی کمپنی کے بارے میں بتایا جس کا نام ایچ ڈی ایس سیکیورٹیز پرائیویٹ لمیٹڈ ہے۔

استغاثہ گواہ اشتیاق علی نے بتایا تھا کہ بینک میں کمپنی کے علاوہ اسحٰق ڈار کا ذاتی اکاؤنٹ بھی ہے جو انہوں نے 2005 میں کھولا تھا تاہم اسے 2006 میں بند کردیا گیا تھا۔

وزیر خزانہ اسحٰق ڈار پر 27 ستمبر کو نیب ریفرنسز کے سلسلے میں احتساب عدالت میں ہونے والی سماعت کے دوران فردِ جرم عائد کی گئی تھی، تاہم انہوں نے صحت جرم سے انکار کردیا تھا۔