اسلام آباد: سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں نواز شریف نے قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے ان کے اور ان کے اہل خانہ کے خلاف دائر تینوں ریفرنسز کو یکجا کرنے سے متعلق احتساب عدالت کے فیصلے کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا ہے۔

نواز شریف کی جانب سے ان کے وکیل اعظم تارڑ نے احتساب عدالت کے فیصلے کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست جمع کرائی، جس پر اسلام آباد ہائی کورٹ کا ڈویژن بینچ منگل 14 نومبر کو ہی سماعت کرے گا۔

سابق وزیراعظم کی درخواست پر سماعت جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی کا دو رکنی بینچ کرے گا۔

مزید پڑھیں: شریف خاندان کے خلاف دائر تینوں ریفرنسز کو یکجا کرنے کی درخواست مسترد

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ احتساب عدالت کے فیصلے میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے تفصیلی فیصلے میں درج وجوہات کو زیر غور نہیں لایا گیا اور احتساب عدالت نے جلد بازی میں فیصلہ دیا ہے۔

درخواست میں کہا گیا کہ تینوں ریفرنسز کو یکجا کرنے سے متعلق احتساب عدالت کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل 2 نومبر کو بھی نواز شریف کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں تینوں ریفرنسز کو یکجا کرنے کی درخواست کی تھی جس میں نواز شریف نے موقف اختیار کیا تھا کہ عدالت احتساب عدالت کو، الزامات یکجا کرنے اور شریف خاندان کے خلاف تین ریفرنسز کے بجائے ایک ٹرائل کرنے کی ہدایت دے۔

ہائی کورٹ کے ڈویژنل بینچ نے نواز شریف کی درخواست پر سماعت کے دوران احتساب عدالت کا 19 اکتوبر کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے اس پر نظر ثانی کا حکم دیا تھا۔

اس کے بعد 8 نومبر کو سابق وزیراعظم اور ان کے اہل خانہ کے خلاف ریفرنسز کی سماعت کا آغاز ہوا تو احتساب عدالت نے شریف خاندان کے خلاف دائر تینوں ریفرنسز کو یکجا کرنے کی ملزمان کی درخواست مسترد کردی تھی۔

اس موقع پر احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے نواز شریف کو پہلی مرتبہ کٹہرے میں بلا کر ان پر فردِ جرم عائد کی تھی۔

بعد ازاں احتساب عدالت نے سماعت کو 15 نومبر تک کے لیے ملتوی کردیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: حدیبیہ پیپرز ملز ریفرنس: شریف خاندان کے ایک اور امتحان کا آغاز

اس موقع پر احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا کہ نظر ثانی کے فیصلے سے کوئی امید نہیں تھی، مجھے معلوم تھا یہی فیصلہ آئے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ جج صاحبان کا غصہ ان کے الفاظ میں آگیا ہے اور یہ فیصلہ پاکستان کی تاریخ میں سیاہ باب میں لکھا جائے گا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ جب بھی ملک پر ڈکٹیٹر کی حکومت آئی تو عدلیہ کی طرف سے پاکستان کی تاریخ میں کئی مرتبہ سیاہ باب لکھے گئے۔