عمران خان نااہلی کیس پر فیصلہ محفوظ

اپ ڈیٹ 14 نومبر 2017

Email


پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما حنیف عباسی کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کی نا اہلی کے لیے سپریم کورٹ میں دائر درخواست پر عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔

چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے عمران خان نا اہلی کیس میں دونوں فریقین کے وکلا کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا۔

سماعت کے آغاز میں عمران خان کے وکیل نعیم بخاری نے عدالت کو بتایا کہ گزشتہ سماعت کے دوران تین ایشوز اٹھائے جن میں لندن فلیٹ کی خریداری کا ذریعہ، قیمت خرید اور فروخت اور رقم کے استعمال کی وضاحت دی تھی۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنما حنیف عباسی کے وکیل اکرم شیخ نے سماعت کے دوران عدالت کو بتایا کہ عدالت نے عمران خان کو اپنے بیان میں تبدیلی کی اجازت نہیں دی۔

نعیم بخاری نے عدالت کو بتایا کہ این ایس ایل کے اکاونٹ میں ایک لاکھ پاؤنڈ رکھے گئے تھے جبکہ جولائی 2007 میں این ایس ایل اکاونٹ سے عمران خان کے اکاونٹ میں 20 ہزار یورو کی رقم آئی۔

مزید پڑھیں: ’عمران خان اور جہانگیر ترین نا اہلی کیس کا فیصلہ ایک ساتھ کریں گے‘

ان کا کہنا تھا کہ مارچ 2008میں اکاونٹ میں 22ہزاریورو کی رقم آئی تھی اور یہ رقوم 2012میں کیش کرائی گئیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان نے کچھ چھپایا ہوتا تو ریٹرننگ آفیسر اس کے دستاویزات مسترد کرسکتا تھا لیکن الیکشن کمیشن نے کوئی اعتراض نہیں اٹھایا۔

جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ 'اس وقت ریٹرننگ افیسر نے معاملہ نہیں دیکھا ہوگا، کیاعدالت اب کاغذات نامزدگی کو نہیں دیکھ سکتی؟'

عدالت کے سوال پر عمران خان کے وکیل نعیم بخاری کا کہنا تھا کہ کاغذات میں اثاثے یاغلط بیانی کی بات 2002 کی ہےجس پر موجودہ الیکشن میں نااہلی مانگی جا رہی ہے۔

جس پر جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا تھا کہ 'اثاثے چھپانے اور غلطی میں فرق ہے، عمران خان نے اپنا یورو اکاؤنٹ کب اور کتنی رقم سے کھولا؟'

یہ بھی پڑھیں: عمران خان نااہلی کیس: ’چیئرمین پی ٹی آئی کا موقف عدالتی نظام کی توہین‘

جسٹس عمر عطاء بندیال کے سوال کے جواب میں نعیم بخاری کا کہنا تھا کہ یورو اکاؤنٹ لندن فلیٹ کی عدالتی کاروائی کے دوران کھولا گیا جس کی رقم عمران خان پاکستان لے آئے تھے۔

نعیم بخاری نے دلائل مکمل کرتے ہوئے عدالت سے کہا کہ 'ایمانداری اور بے ایمانی میں فرق آپ کو کرنا ہے'.

اکرم شیخ کے دلائل کی شروعات میں عدالت کا ان سے کہنا تھا کہ 'آپ بھی نعیم بخاری کی طرح مختصر دلائل دیں'۔

تاہم اکرم شیخ نے دلائل کے آغاز میں کہا کہ 'عدالت پاناما فیصلے کا نظرثانی فیصلہ بھی دیکھ لیں، نعیم بخاری کہتے ہیں کہ اثاثے نہ بتانا غلطی ہوسکتی ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے جمائمہ کی بنی گالہ اراضی کاغذات میں بتائی تھی جبکہ جمائمہ کے پاکستان کے باہر کے اثاثے نہیں بتائے گئے تھے۔

مزید پڑھیں: 'عمران،جہانگیر نااہلی کیس ردی کی ٹوکری میں جائے گا'

جس پر چیف جسٹس نے نے اکرم شیخ سے سوال کیا کہ 'یہ بتائیں کہ ماضی کی غلط بیانی موجودہ الیکشن پرکیسے اثرانداز ہوسکتی ہے؟'

عدالت کے سوال کا جواب دیتے ہوئے اکرم شیخ نے نجیب الدین اویسی اوراللہ ڈینو کے مقدمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہنا تھا کہ 'جعلی ڈگری کے مقدمات میں عدالت ماضی کی غلط بیانی پر کامیاب امیدواروں کو نااہل کرچکی ہے'۔

چیف جسٹس نے اکرم شیخ کے دلائل سننے کے بعد ریمارکس دیے کہ 'آپ نے جہاں تضاد کی نشاندہی کی ہم نے نوٹ کرلیا ہے'۔

سماعت کے اختتام پر سپریم کورٹ نے عمران خان نااہلی کیس کا فیصلہ محفوظ کر تے ہوئے دونوں وکیلوں سے کہا کہ 'یہ امید نا رکھیں کہ فیصلہ کل آجائے گا'۔

خیال رہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما حنیف عباسی نے پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان اور سیکریٹری جنرل جہانگیر ترین پر اثاثے چھپانے اور آف شور کمپنیاں رکھنے کا الزام عائد کرتے ہوئے انھیں نااہل قرار دینے کی علیحدہ علیحدہ درخواستیں سپریم کورٹ میں دائر کر رکھی ہے۔