پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما حنیف عباسی کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما جہانگیر ترین کے خلاف سپریم کورٹ میں دائر نااہلی کیس میں عدالت نے فیصلہ محفوط کرلیا۔

عدالت عظمیٰ میں ہونے والی سماعت کے دوران فریقین کے دلائل سننے کے بعد چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ پہلے تحریری جواب اور ٹرسٹ ڈیڈ میں تضاد ہے۔

چیف جسٹس آف پاکستان نے سماعت مکمل کرتے ہوئے ریمارکس دیے کے 'دونوں فریقین کے جانب سے پیش کیے گئے دلائل کا ہر طرح سے جائزہ لیں گے جس کے بعد ایسا فیصلہ سنائیں گے جو سب کو قابل قبول ہوگا'۔

مزید پڑھیں: نااہلی کیس: جہانگیر ترین نے ٹرسٹ کی دستاویزات عدالت میں جمع کرادیں

سماعت کے آغاز میں لندن ہائیڈ ہاؤس سے متعلق چیف جسٹس کے سوال کا جواب دیتے ہوئے جہانگیر ترین کے وکیل سکندر بشیر کا کہنا تھا کہ 'شائنی ویو ہائیڈ ہاؤس کے مالک ہیں اور لینڈ رجسٹری بھی شائنی ویوکے نام ہے'۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے جہانگیر ترین کے وکیل سے سوال کیا کہ 'شائنی ویو لمیٹڈ کے اکاوئنٹ کو آپریٹ کون کرتا ہے؟'

سکندر بشیر نے عدالت کو بتایا کہ ٹرسٹی کمپنی اکاوئنٹ کو آپریٹ کرتی ہے جبکہ چیکس پر نہیں لکھا ہوا کہ یہ رقم آف شور کمپنی کو گئی جس پر نااہلی نہیں ہوتی۔

یہ بھی پڑھیں: عمران خان نااہلی کیس پر فیصلہ محفوظ

ان کا کہنا تھا کہ جہانگیرترین نے قانونی آمدن سے رقم بھیجی اور میرے موقف کے خلاف کوئی مواد نہیں ہے، عدالت میں جوکہا اس پر قائم ہوں۔

سکندر بشیر کے دلائل سننے کے بعد چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ جہانگیر ترین نے براہ راست رقم آف شور کمپنی کو بھیجی جبکہ جہانگیر ترین کے تحریری جواب اور ٹرسٹ ڈیڈ میں تضاد ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ 'جہانگیر ترین کے تحریری جواب سے افسوس ہوا'۔

چیف جسٹس کا مزید کہنا تھا کہ 'یہ بات بظاہر درست لگتی ہے کہ جہانگیر ترین کے بچے ابھی ٹرسٹ کے بینیفیشل نہیں ہیں'۔

یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ کے جہانگیرترین کے ٹرسٹ کے دستاویزات پر سوالات

بعد ازاں سپریم کورٹ نے سماعت کا اختتام کرتے ہوئے جہانگیر ترین نااہلی کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا۔

اس سے قبل سپریم کورٹ نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما حنیف عباسی کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کی نا اہلی کے لیے دائر درخواست پر فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

خیال رہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما حنیف عباسی نے پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان اور سیکریٹری جنرل جہانگیر ترین پر اثاثے چھپانے اور آف شور کمپنیاں رکھنے کا الزام عائد کرتے ہوئے انھیں نااہل قرار دینے کی علیحدہ علیحدہ درخواستیں سپریم کورٹ میں دائر کر رکھی ہے۔

مزید پڑھیں: عمران خان نااہلی کیس پر فیصلہ محفوظ

24 اکتوبر کو عمران خان اور جہانگیر ترین کی نااہلی کیس کی سماعت کے دوران بینچ نے جہانگیر ترین کے ٹرسٹ بنانے پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہنا تھا کہ 'دیکھنا چاہتے ہیں جہانگیر ترین نے لندن میں شائینی ویو کمپنی کے لیے رقم پاکستان سے کب اور کیسے بھیجی'۔

بعد ازاں 7 نومبر کو جہانگیرترین نے زرعی آمدن سے متعلق اپنے ٹرسٹ کے حوالے سے دستاویزات سپریم کورٹ میں جمع کرادی تھی۔