ہر رات کی طرح گزشتہ شب پاکستانی نیوز چینلز پر وہی سیاسی پروگرامات جاری تھی، تاہم ایک چیز اس رات مختلف ہوئی، وہ یہ تھی کہ ایک پروگرام میں پاکستان کی نامور سیاسی جماعت کے رہنما کو ان کے ایک جملے پر ٹوکا گیا اور انہیں سکھایا گیا کہ یہ بات کرنے کا صحیح انداز نہیں ہے۔

یہ واقعہ حالات حاضرہ پر مبنی جیو نیوز کے شو ’آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ‘ پر ہوا، جہاں پاک سر زمین پارٹی (پی ایس پی) کے چیئرمین مصطفیٰ کمال متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے لیڈر فاروق ستار سے ہوئے اپنے جھگڑے پر بات کررہے تھے۔

اس بات چیت کے دوران مصطفیٰ کمال نے فاروق ستار کے رویے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ عورتوں کی طرح رونا، چوڑیاں توڑنا، چیل کی طرح چلانا چھوڑیں‘۔

ایسا پہلی بار تو نہیں ہوا جب ٹیلی ویژن پر کسی کو خاموش کروانے، یا اسے طعنہ دینے، یا خاموش کروانے یا نیچا دکھانے کے لیے عورت کو بُرا بھلا کہا گیا ہو، تاہم اس انٹرویو کا مثبت پہلو یہ تھا کہ میزبان شاہ زیب خانزادہ نے مصطفیٰ کمال کو خاموش کرواتے ہوئے انہیں ان کی غلطی کا احساس ضرور دلایا۔

شاہ زیب کا کہنا تھا کہ ’میں مداخلت کرنے کے لیے معذرت کرتا ہوں، لیکن یہ درست نہیں ہے کہ اس طرح سے خواتین کا حوالہ دیا جائے، خواتین بھی ایک طاقتور گروپ ہیں، تو یہ درست نہیں لگتا کہ اس طرح ان پر بات کی جائے‘۔

مصطفیٰ کمال ان کی یہ بات سُن کر حیران ضرور ہوئے جس کے بعد انہوں نے کہا کہ ’میری غلطی بتانے کا شکریہ، میں آپ سے متفق ہوں، لیکن آپ کچھ مضبوط خواتین کو جانتے ہوں گے، مگر میں چند کمزور خواتین کو بھی جانتا ہوں‘۔

اس پر شاہ زیب نے کہا کہ ’مرد بھی کمزور ہوتے ہیں‘۔

شاہ زیب کی یہ 10 سیکنڈ کی مداخلت اس بات کی مثال ہے کہ ایک لیڈر کو کس طرح پبلک پلیٹ فارم پر بات کرنی چاہیے۔

ٹوئٹر پر بھی صارفین شاہ زیب خانزادہ کو ان کے اس عمل پر سراہتے نظر آئے۔

سماجی کارکن ماروی سرمد نے شاہ زیب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ ’امید ہے کہ میڈیا میں موجود ہر شخص اس طرح کے جنسی تعصب پر مبنی بیانات کے خلاف آواز اٹھائے، اور سیاست دانوں سے ہمیں بہتر بیانات کی امید ہے‘۔

نیوز اینکر رابعہ انعم نے لکھا کہ ’اس طرح کے بیوقوفانہ جملوں کو ختم ہونا چاہیے، جیسے عورتوں کی طرح رونا، مرد بنو۔ ان کا استعمال دوسروں کی بےعزتی کرنے کے لیے کیا جاتا ہے‘۔

مہوش اعجاز نے کہا کہ ’شاہ زیب کا شکریہ کے انہوں نے اس قسم کے بیان کو بیچ میں ہی روکا، اور بھی ٹی وی میزبان کو اس طرح کے لہجے کے خلاف بولنا چاہیے‘۔