لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر بھارت کی بلااشتعال فائرنگ کے نتیجے میں پاکستانی بزرگ خاتون جاں بحق ہوگئیں۔

ضلع پونچھ کے ڈپٹی کمشنر راجا طاہر ممتاز کا کہنا تھا کہ عباس پور سیکٹر کے گاؤں پولاس کَکوٹا 78 سالہ امام بی بی گھر کے آنگن میں کاموں میں مصروف تھیں کہ سہ پہر 3 بجے جان لیوا گولی ان کی گردن پر آکر لگی، جس سے وہ موقع پر ہی دم توڑ گئیں۔

گاؤں پولاس کَکوٹا کنٹرول لائن کے انتہائی قریب واقع ہے، جہاں بھارتی فورسز کی طرف سے سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کی وجہ سے کئی بار جانی و مالی نقصان ہوچکا ہے۔

مقامی پولیس اہلکار قاضی ارسلان نے ڈان کو بتایا کہ بھارتی فورسز کی مسلسل اشتعال انگیزی کے باعث کنٹرول کے انتہائی خطرناک علاقوں کی آبادی سے بیشتر خاندان نقل مکانی کرچکے ہیں، تاہم کئی خاندان ہمت و جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے اب بھی ان علاقوں میں رہ رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’جاں بحق ہونے والی خاتون بھی ان افراد میں شامل تھیں جو نقل مکانی کرچکے تھے لیکن وہ حال ہی میں دوبارہ اس علاقے میں لوٹی تھیں۔‘

مزید پڑھیں: ایل او سی پر بھارتی فائرنگ سے 8 افراد زخمی

انہوں نے کہا کہ ’خاتون کی خواہش تھی کہ ان کی اسی علاقے میں تدفین کی جائے جس کے مطابق ان کی بدھ کو، پولیس کی جانب سے گارڈ آف آنر پیش کیے جانے کے بعد تدفین کی جائے گی۔‘

واضح رہے کہ اتوار کے روز بھی تحصیل حاجرہ کے بٹل سیکٹر میں بھارتی فورسز کی بلااشتعال فائرنگ سے 10 سالہ لڑکا شدید زخمی ہوگیا تھا۔

قبل ازیں 24 اکتوبر کو مظفر آباد ڈویژن کی وادی لیپا میں ہیوی بھارتی شیلنگ سے 2 خواتین جاں بحق اور 6 زخمی ہوگئے تھے۔

عسکری ذرائع کے مطابق بھارت کی طرف سے رواں سال اب تک ایک ہزار 141 بار سیز فائر کی خلاف ورزی کی گئی، جو نومبر 2003 میں دونوں ممالک کی فوج کے درمیان سیز فائر معاہدے کے بعد کے سالوں میں سب سے زیادہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایل او سی پر بھارتی فائرنگ سے 2 پاکستانی شہری جاں بحق

اسٹیٹ ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کا کہنا تھا کہ بھارتی اشتعال انگیزی سے رواں سال 42 شہری جاں بحق اور 248 زخمی ہوئے۔

گزشتہ جمعہ کو وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے ہمراہ لائن آف کنٹرول کا دورہ کیا تھا، جہاں انہوں نے بھارت کے معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے کے ’غیر پیشہ ورانہ رویے‘ کی شدید مذمت کی تھی۔

اسی روز پاکستان رینجرز اور بھارت کی بارڈر سیکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کے درمیان نئی دہلی میں ہونے والا 44واں مذاکراتی دور اختتام پذیر ہوا، جس میں دیگر امور کے ساتھ سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی اور بلااشتعال فائرنگ کا امور بھی زیر غور آیا۔