پارلیمانی کمیٹی برائے پاک-چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے چیئرمین اور سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری(سی پیک) منصوبے کے باعث پاکستان کو جنوبی ایشیا میں مرکزی حیثیت حاصل ہوئی ہے کیونکہ اس منصوبے سے توانائی کے ڈھانچے اور نئے تجارتی راستے پیدا ہوں گے۔

اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (آئی پی آر آئی) کےزیراہتمام جنوبی ایشیا کی علاقائی جہتیں اور تزویراتی خدشات پر 2 روزہ عالمی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مشاہد حسین سید نے کہا کہ مغرب سے مشرق کی طرف عالمی اقتصادیات میں تبدیلی آئی ہے اور چین اقتصادی طورپر ابھر ا ہے اب وہ علاقائی نہیں بلکہ عالمی طاقت ہے۔

انھوں نے کہا کہ 21 ویں صدی ایشیا کی صدی ہے اب چین نے بین الاقوامی اقتصادی ترقی میں 30 فیصد اضافہ کیا ہے۔

پارلیمانی کمیٹی کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ کہ سی پیک منصوبے کی وجہ سے پاکستان کو جنوبی ایشیا میں مرکزی حیثیت حاصل ہوئی ہے، ایران، چین، افغانستان سمیت وسطی ایشیائی ممالک اس میں شامل ہوں گے جن کی معیشت، نئی توانائی، نقل و حمل، پائپ لائنز اور بندرگاہوں کی طرف ایندھن کی سپلائی کی جائے گی۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان نے 35 لاکھ افغان مہاجرین کو پناہ دی ہے اور ان کی طویل عرصے تک خدمت کی ہے، پاکستانی عوام نے افغان مہاجرین کی کئی عشروں تک مہمان نوازی کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارت اور امریکا کے درمیان معاہدے نے خطے کو مشکلات میں ڈال دیا ہے،غیر روایتی خطرات اور چیلنجز خطے کے لیے خطرہ ہیں، سائبر سکیورٹی، ماحولیاتی تغیرات، دہشت گردی بڑے خطرات ہیں۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سری لنکا کے سابق چیف جیاناتھ کولمبیج نے کہا کہ سری لنکا اگر متحد ہے تو اس کا سہرا پاکستان کو جاتا ہے ایشیائی ممالک کی سارک میں دلچسپی ختم ہوتی جارہی ہے ، ہم سارک ممالک ایک دوسرے پر اعتماد نہیں کرتے ، بھارت اس وقت ساتویں بڑی معیشت ہے لیکن وہ پاکستان اور چین کے مابین تعلقات سے پریشان ہے اور اسی طرح سری لنکا اور چین کے تعلقات سے بھی خائف ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارت سی پیک کے بھی خلاف ہے ، بھارت اور جاپان مل کر چین کے اثر ورسوخ کو کم کرنا چاہتے ہیں۔

اس موقع پر پالیسی ریسرچ انسٹیٹوٹ کے صدر سابق سفیر عبدالباسط نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی تمام ہمسایہ ممالک سے دوستانہ تعلقات پر مبنی ہے اور جب تک امن و استحکام نہیں ہوتا ترقی و خوشحالی ممکن نہیں۔

انھوں نے کہا کہ افغانستان میں قیام امن کے لیے کوشاں ہیں، پاکستان کو افغان مسائل کا ذمہ دار قرار دینا زیادتی ہے، پاکستان اور افغانستان کو الزامات کے بجائے باہم مل کر آگے بڑھنا ہوگا اور مفاہمتی عمل کوآگےبڑھانے کی ذمہ داری افغانستان کی ہے۔

عبدالباسط کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر کے منصفانہ اور جلد حل کے بغیر خطے میں امن ممکن نہیں ،پاکستان بھارت کے ساتھ مذاکرات چاہتا ہے تاہم بھارت کو بھی سنجیدگی دکھانا ہوگی۔

سابق سفیرنے کہا کہ بھارت خطے کو عدم استحکام سے دو چار کررہا ہے لیکن پاکستان خطے میں اسلحہ اور جوہری دوڑ کے خلاف ہے اورعالمی برادری کو پاکستان کی پالیسی کو سراہنا چاہیے۔