اسلام آباد میں انتخابی بل میں حلف نامے میں ختم نبوت کے حوالے سے ردوبدل کرنے والے ذمہ داروں کی معطلی کے لیے دھرنے میں شریک مذہبی جماعتوں تحریک لبیک یارسول اللہ (ٹی ایل وائی) اور سنی تحریک (ایس ٹی) کے کارکنان اور پولیس کے مابین معمولی جھڑپ کے بعد پولیس نے شرکا کے گرد گھیرا تنگ کرتے ہوئے فیض آباد انٹرچینج سے 8 افراد کو گرفتار کرلیا۔

پولیس اور ایف سی کی بھاری نفری آئی جی پی روڈ اور اسلام آباد ایکسپریس پر پہنچی تو دھرنے میں آپریشن کے اعلانات کرتے ہوئے تمام شرکا کو تیاری کی ہدایت کی گئی۔

پولیس کا ایک دستہ جب فیض آباد اڈے کے قریب پہنچا تو دھرنے میں شریک ڈنڈا بردار چند افراد نے پولیس پر پتھر پھینکے جس کے نتیجے میں چند پولیس اہلکاروں کو ہاتھ اور بازو پر معمولی چوٹیں آئیں جس پر پولیس نے آگے بڑھ کر دھرنے کے شرکا کے 8 افراد کو گرفتار کرکے تھانہ آئی نائن منتقل کردیا۔

پولیس کی جانب سے گرفتار افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے جس کی تصدیق ایس پی لیاقت نیازی نے کردی۔

دوسری جانب دھرنے کے شرکا نے ممکنہ پولیس آپریشن سے بچنے کے لیے مخصوص گلاسز اور ماسک پہن لیے اور جوابی کاروائی کے لیے ڈنڈا بردار اور غلیل سے نشانہ بنانے کے لیے شرکا کو تیار رہنے کی ہدایت کردی گئی۔

پولیس ذرائع کے مطابق انھیں حکم ملا ہے کہ دھرنے کے شرکا کے گرد گھیرا تنگ کرکے ان کے لیےلایا جانے والا کھانے پینے کا سامان روک لیا جائے اور جو دھرنے کی جگہ سے واپس جارہے ہوں ان کو گرفتار کیا جائے۔

وزیر داخلہ احسن اقبال کی زیر صدارت راولپنڈی اور اسلام آباد انتظامیہ اور پولیس کا اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا جس میں فوری آپریشن نہ کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے دھرنے کے شرکا سے راجا ظفرالحق اور وزیرمملکت مذہبی امور پیر حسنات کے ذریعے مذاکرات کا ایک اور موقع حاصل کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔

وزارت داخلہ کے ترجمان یاسر شکیل نے اس طرح کے کسی بھی اجلاس سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔

خیال رہے کہ دھرنے میں شامل دونوں مذہبی جماعتوں کا حکومت سے مطالبہ ہے کہ وہ حال ہی میں ختم نبوت کے حوالے سے حلف نامے میں کی جانے والی تبدیلی کے ذمہ داروں کی نشاندہی کرتے ہوئے معطل کرے۔