پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی سینیئر رہنما اور سندھ اسمبلی کی ڈپٹی اسپیکر شہلا رضا نے کہا ہے کہ سیاسی جماعتوں کا سیکیورٹی اداروں کے ساتھ رابطے میں ہونا کوئی حیران کن بات نہیں، کیونکہ یہ ایک معمول کی کارروائی ہے۔

ڈان نیوز کے پروگرام 'نیوز آئی' میں گفتگو کرتے شہلا رضا کا کہنا تھا کہ بطور سندھ حکومت پیپلز پارٹی کے بھی رینجرز کے ساتھ رابطے رہتے ہیں، کیونکہ جب شہر کے امن کے لیے انہیں اختیارات دیے گئے ہیں تو پھر اس پر بات چیت کرنا کوئی انوکھی بات نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ 'ماضی میں جب جنرل بلال اکبر ڈی جی رینجرز تھے تب بھی میرے پاس وہ خواتین آتی تھیں جن کا متحدہ کے ساتھ تعلق ہے اور وہ اپنی لوگوں کی اپنے لوگوں کی بازیابی کے لیے ہمارے ذریعے ہی سیکیورٹی اداروں تک بات پہنچایا کرتی تھیں'۔

مزید پڑھیں: ’ایم کیو ایم، پی ایس پی الگ رہیں یا متحد، انتشار نہ ہو‘

ان کا کہنا تھا کہ پریس کانفرنس کے بعد بھی دونوں جانب سے ایک دوسرے کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور بظاہر تو دونوں ہی وہ لوگ ہیں جو کچھ سالوں پہلے ایک تھے اور ایک آدمی کی بات پر عمل کیا کرتے تھے۔

شہلا رضا کا کہنا تھا کہ 'اگر کوئی اب یہ کہا رہا ہے کہ ہم اچھے اور وہ بُرے تو یہ بات بلکل غلط ہوگی، کیونکہ ماضی میں یہ سب لوگ مل کر شہر میں قتلِ عام، بھتہ خوری اور جرائم جیسے واقعات کے اصل ذمہ دار تھے'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'مجھے سب سے زیادہ تشویش اس بات پر ہے کہ 8 ماہ سے دونوں جب مل رہے تھے تو پھر ایک دن پہلے تک ایم کیو ایم پاکستان کو ختم کرنے کی باتیں کیوں ہوتی رہیں اور پھر جب مصطفیٰ کمال اپنے کارکنوں کی ہلاکت کا الزام متحدہ پر عائد کررہے تھے تو پھر انہیں قاتلوں سے کیوں ملاقاتیں کرتے تھے۔

انھوں نےواضح کیا کہ یہ ایک سیاسی کھیل تھا اور کارکنوں کو لڑوا کر یہ اپنی سیاست کو بچانے کی کوششیں کررہے تھے۔

'الیکشن 2018 میں ٹھپے نہیں لگنے دیں گے'

موجودہ سیاسی صورتحال کے تناظر میں آئندہ کے انتخابات پر بات کرتے ہوئے شہلا رضا نے اس تاثر کو بھی رد کیا کہ پیپلز پارٹی سے لوگ ایم کیو ایم پاکستان میں گئے ہیں اور کہا جو کچھ یہ سوچ رہے ہیں کہ اب بھی لوگوں کو گھروں سے نکال کر زبردستی ٹھپے لگوائیں گے تو اس مرتبہ ہم ایسا ہونے نہیں دیں گے۔

واضح رہے کہ ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار اور پاک سرزمین پارٹی کے صدر مصطفیٰ کمال نے بدھ (8 نومبر) کو مشترکہ پریس کانفرنس میں سیاسی اتحاد کا اعلان کیا تھا۔

مصطفیٰ کمال کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے فاروق ستار کا کہنا تھا کہ ’ایک عرصے سے پی ایس پی اور ایم کیو ایم میں مشاورتی عمل جاری تھا، لیکن اب فیصلہ کیا ہے کہ مل کر سندھ بالخصوص کراچی کے عوام کی خدمت کی جائے اور بہترین ورکنگ ریلیشن شپ اور سیاسی اتحاد قائم کیا جائے۔‘

پریس کانفرنس کے دوران ان کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ سیاسی اتحاد عارضی اور جزوی عمل نہیں، آئندہ انتخابات میں ایک نام، ایک نشان اور ایک منشور کو لے کر جائیں گے، آئندہ ملاقاتوں میں فریم ورک کو تشکیل دیں گے، اتحاد میں دیگر سیاسی جماعتوں کو بھی دعوت دیں گے کیونکہ سندھ اور کراچی کی خدمت کے لیے دیگر جماعتوں کو بھی ساتھ ملانا ہوگا، جبکہ امید ہے اب ہمارے سیل دفاتر واپس مل جائیں گے۔‘

یہ بھی پڑھیں: 'ملکی اداروں کے بارے میں سرعام بات کرنا غیر مناسب'

مصطفیٰ کمال نے فاروق ستار کے سیاسی اتحاد کے اعلان کی توثیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ایک انتخابی نشان کے ساتھ پارٹی کے لیے تیار ہیں، ہم ایک نشان، نام اور منشور پر مل کر ایسی قیادت نکالنا چاہتے ہیں جو پاکستان کی آواز بنے۔‘

دونوں جماعتوں کے اتحاد کے ایک روز بعد ہی فاروق ستار، مصطفیٰ کمال پر خوب گرجے برسے اور اپنی رابطہ کمیٹی سے بھی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے پارٹی کی سربراہی اور سیاست سے دستبرداری کا اعلان کیا۔

تاہم اس اعلان کے ایک گھنٹے کے اندر ہی انہوں نے اپنی والدہ کی خواہش پر سیاسی چھوڑنے کا فیصلہ واپس لے لیا۔