ہفتے میں دوبار گریاں کھانا جان لیوا امراض سے بچائے

16 نومبر 2017

ای میل

یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی— شٹر اسٹاک فوٹو
یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی— شٹر اسٹاک فوٹو

ہفتے میں دو بار مٹھی بھر گریاں کھانا امراض قلب کا خطرہ 25 فیصد تک کم کردیتا ہے۔

یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

ہارورڈ یونیورسٹی کی تحقیق کے دوران دو لاکھ سے زائد افراد کا جائزہ تین دہائیوں تک لیا گیا اور معلوم ہوا کہ ہر طرح کی گریاں امراض قلب کی روک تھام میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔

مزید پڑھیں : اخروٹ کھائیں اور صحت مند ہوجائیں

تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ اخروٹ، بادام، کاجو، مونگ پھلی یا پستے سمیت ہر قسم کی گریاں کھانے کی عادت موٹاپے کا باعث نہیں بنتیں۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ ہفتے میں دو بار گریوں کو کھانا صحت میں ڈرامائی حد تک بہتری لاتا ہے۔

جو افراد تین قسم کی گریاں ہفتے میں دو یا اس سے زائد بار کھاتے ہیں، ان میں امراض قلب یا خون کی شریانوں کے مسائل کا امکان 15 سے 23 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔

اسی طرح مونگ پھلیاں کھانے کی عادت یہ خطرہ 13 سے 15 فیصد تک کم کردیتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : روزانہ 4 بادام کھانے کے یہ فائدہ جانتے ہیں؟

ہفتے میں ایک یا اس سے زائد بار اخروٹ کھانا امراض قلب اور خون کی شریانوں کے مسائل کا خطرہ بالترتیب 21 اور 19 فیصد تک کم کردیتا ہے۔

موجودہ تحقیق گریوں کے فوائد کو جاننے کے لیے ہونے والی سب سے بڑی اور طویل ترین تھی اور نتائج سے یہ بھی معلوم ہوا کہ امراض قلب سے ہٹ کر انہیں کھانا سنگین امراض بشمول کینسر، ذیابیطس، سانس کی بیماریاں اور دماغی تنزلی سے بھی تحفظ دیتا ہے۔

یہ بھی دیکھیں : گریوں کے فوائد اور پکوان

محققین کا کہنا تھا کہ نتائج سے عندیہ ملتاہ ے کہ ان گریوں کو کھانا صحت مند غذائی عادات کو فروغ دیتا ہے جس سے جان لیوا امراض کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

تحقیق کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ اخروٹ اور مونگ پھلی کھانا فالج کا خطرہ بھی کم کرتا ہے۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل آف دی امریکن کالج آف کارڈیالوجی میں شائع ہوئے۔