امریکا اور چین میں سے 'حقیقی برتری' آخر کسے حاصل ہے؟

17 نومبر 2017

اس صدی کے مستقبل کا انحصار بڑے پیمانے پر ایک ابھرتے ہوئے چین اور ایک مخاصمت سے بھرپور امریکا کے مابین تعلقات پر ہوگا۔

چین اب تک پرامن طریقے سے ابھرا ہے۔ چالیس سال کے عرصے میں امریکا اور چین نے باہمی انحصار پر مشتمل معاشی اور ایک کافی حد تک تعاون پر مشتمل سیاسی رشتہ تعلق قائم رکھا ہے۔ ژی جن پنگ اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان دو ملاقاتوں کے مثبت اشاریوں سے امید پیدا ہوتی ہے کہ امریکا اور چین تصادم کی راہ اختیار نہیں کریں گے۔

حال ہی میں کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کے انیسویں اجلاس میں صدر ژی جن پنگ نے چین کے نسبتاً عاجزانہ اہداف کا جائزہ پیش کیا: 2035 تک "ایک مناسب طور پر خوشحال قوم" اور "مکمل جدید" معیشت اور معاشرہ بننا، اور 2050 تک متحد قومی قوت اور بین الاقوامی اثر رکھنے والا عالمی رہنما ملک بننا۔"

دوسری جانب ٹرمپ کا 'سب سے پہلے امریکا' کا نعرہ امریکا کو وہ اقتصادی، سیاسی اور اسٹریٹیجک اہمیت واپس دلوانا ہے جو اسے 70 سالوں تک حاصل رہی ہے۔ ٹرمپ کے نظریہ ساز' اسٹیو بینن (جو عہدے پر نہ ہونے کے باوجود بااثر ہیں) چین کو 'امریکا کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھتے ہیں۔" انہوں نے کہا کہ: "ہمیں حقیقی ایشیائی قوت کے طور پر اپنی اہمیت جتانی ہوگی۔"

اپنی مہم میں چین کا مذاق اڑانے اور 'ایک چین' پالیسی سے ہٹنے کا اعلان کرنے کے باوجود ٹرمپ نے صدر بننے کے بعد خود کو ان چیزوں سے باز رکھا ہے۔ اس کے بجائے انہوں نے شمالی کوریا کے خطرے سے نمٹنے کے لیے چینی تعاون حاصل کرنے پر توجہ دی ہے، اور امریکا اور چین کے مابین تجارتی عدم توازن کو بھی متوازن کرنے کی کوشش کی ہے۔

پر اگر مختصر مدت میں یہ مقاصد حاصل نہ ہوئے تو ٹرمپ کو مایوسی ہوسکتی ہے۔ اس سے تصادم کا دروازہ بھی کھل سکتا ہے، خاص طور پر تب جب ان کے 'سمجھدار' مشیران، مثلاً سیکریٹری دفاع جیمز میٹس اور وزیرِ خارجہ ریکس ٹلرسن چین کو حلیف کے بجائے حریف کے طور پر دیکھتے ہیں، اور انہوں نے چین کے اثر و رسوخ کو روکنے، اور ضرورت پڑنے پر اس کا سامنا کرنے کی پالیسیوں کے خدوخال بھی بنا لیے ہیں۔

معاشی اعتبار سے دیکھیں تو امریکا کو کئی فوائد حاصل ہیں: امریکی ڈالر اب بھی دنیا کی زرِمبادلہ کی کرنسی ہے؛ امریکا اگر دنیا کی مالیاتی منڈیوں اور اداروں کو کنٹرول نہیں کرتا تب بھی اس کا ان پر بہت اثر و رسوخ ہے؛ یہ کئی 'سپلائی چین' نیٹ ورکس کے اوپر موجود ہے؛ اور نت نئی چیزوں اور ٹیکنالوجیز کی ایجادات میں (باریک مارجن سے) آگے ہے۔

مگر امریکی معیشت میں 'طلب' کم ہے کیوں کہ لوگوں کی 'بنیادی ضروریات' پوری ہوچکی ہیں اور آبادی میں اضافے کی شرح بہت سست ہے۔ امریکا کے اندر پرانی ہوتی مشینری اور زیادہ اجرتوں کی وجہ سے پیداواری ملازمتیں دوسرے ممالک میں منتقل ہوچکی ہیں۔ اب ان ملازمتوں کے واپس آنے کا امکان نہیں۔ معیشت کو زبردست مالیاتی امداد دیے جانے کے باوجود امریکا کی شرحِ نمو دو سے تین فیصد سے زیادہ نہیں بڑھ سکی ہے۔

چین کی ترقی برآمدات اور سرمایہ کاری کی وجہ سے اس قدر بڑھ پائی ہے۔ اب چین کے اپنے اندر بڑھتی ہوئی اجرتوں اور مغرب کے تحفظِ تجارت کی وجہ سے اسے بیرونی محاذوں پر خطرات کا سامنا ہے۔ مگر تجارتی انحصار ایک دو طرفہ سڑک ہے۔ اور چینی معیشت ترقی کرتی رہے گی کیوں کہ 30 کروڑ چینی اب غربت سے نکل کر چین کی وسیع ہوتی مڈل کلاس کا حصہ بنتے جا رہے ہیں، چنانچہ طلب میں اضافہ ہوگا۔ اس کے علاوہ تاریخی بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے میں بھی کھربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔ اس دوران چین ایک ایسا مالیاتی نظام بنا رہا ہے جو بالآخر امریکا کے زیرِ غلبہ چلنے والے مالیاتی نظام کو چیلنج کر سکتا ہے، اور یہ جدید ترین ٹیکنالوجیز میں بھی ہر سطح پر بھاری سرمایہ کاری کر رہا ہے۔

امریکا کو اب بھی چین پر عسکری اعتبار سے خاصی برتری حاصل ہے۔ اس کا 600 ارب ڈالر کا عسکری بجٹ چین کے بجٹ سے چار گنا زیادہ ہے۔ امریکا کے پاس جدید ترین اسلحہ سسٹمز اور جنگ لڑنے کے طریقے موجود ہیں۔ اس نے عسکری اعتبار سے اہم ریاستوں کے ساتھ رسمی اور غیر رسمی عسکری اتحاد قائم کر رکھے ہیں جن میں سے ایشیاء کی سب سے بڑی قوتیں جاپان و ہندوستان اور آسٹریلیا بھی شامل ہیں۔ امریکا بحیرہءِ جنوبی چین میں چین کے بحری تنازعات کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتا رہے گا، اور چین کے اردگرد مضبوط اتحاد بناتا رہے گا تاکہ خطے میں چین کے اثر و رسوخ کو محدود کیا جا سکے۔

مگر چین امریکا کو حاصل عسکری برتری کا سامنا کرنے یا اسے ناکارہ بنانے کے لیے اپنی صلاحیتوں میں تیزی سے اضافہ کر رہا ہے۔ پہلی بات، بھلے ہی چین کا دفاعی بجٹ کم (150 ارب ڈالر) ہو، پھر بھی یہ 'کم پیسوں میں بڑا دھماکہ' کر سکتا ہے کیوں کہ امریکا اور چین کے درمیان قیمتوں میں بہت فرق ہے۔ دوسری بات، صدر ژی جن پنگ کی رہنمائی میں پیپلز لبریشن آرمی کو ایک "تکنیکی اعتبار سے جدید فوج" میں بدلا جا رہا ہے۔ چین عسکری تحقیق پر بے تحاشہ پیسہ خرچ کر رہا ہے۔ اس نے جن اسلحہ سسٹمز کی نمائش کی ہے ان میں سے کچھ نے تو مغربی عسکری مبصرین کو بھی حیران کر دیا ہے۔

ظاہر ہے کہ امریکا کے ایشیائی عسکری اتحآد خطرناک ہیں۔ چین کا واحد اسٹریٹجک اور عسکری حلیف اس وقت پاکستان ہے، مگر چین کافی حد تک امریکا اور 'اتحادیوں' کی بحرِ ہند و کاہل میں بحری برتری کو پورے یورایشیا میں پھیلے ہوئے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے سے نیچا دکھا سکتا ہے۔ واضح ہے کہ سی پیک چین کو یک بحری قوت سے دو بحری قوت میں بدل دے گا۔

دوسری بات، چین دوبارہ ابھرتے ہوئے روس کے ساتھ مضبوط معاشی اور عسکری روابط قائم کر رہا ہے جس کی وجہ سے امریکی ایشیائی اتحاد کے دوسرے پلڑے میں توازن پیدا ہوگا۔ اور آخری بات، اگر جاپان اور آسٹریلیا نہ بھی سہی، تب بھی ہندوستان ضرور 'جھوٹا دوست' ثابت ہو سکتا ہے۔ چین اس کا سب سے بڑا تجارتی شراکتدار ہے، اور جہاں ہندوستان امریکا کی معاشی، عسکری اور ٹیکنالوجیکل عنایتوں کا خیر مقدم کرے گا، وہیں اس بات کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے کہ وہ چین کے ساتھ عسکری تصادم کی راہ اختیار کرے گا، خاص طور پر امریکی مفادات کے لیے تو بالکل بھی نہیں۔

امریکا کے تاریخی اتحآد اس کی عالمی قوت اور اثر و رسوخ میں اضافہ تو کرتے ہیں، مگر اس میں سیاسی اور عسکری طور پر کئی مسائل ہیں، جیسا کہ اسرائیل کی غیر مشروط حمایت؛ 'دہشتگردی کے خلاف جنگ' عراق میں مداخلت؛ ایران کے ساتھ تنازع؛ افغان جنگ، اور روس کے ساتھ 'نئی سرد جنگ'۔

سب سے اہم بات یہ کہ چین اور امریکا کے درمیان اسٹریٹجک رقابت کے نتائج کا انحصار ان کے اپنے اپنے نظام ہائے حکومت کے استحکام اور قابلِ اعتبار ہونے پر ہوگا۔ چین کی 'سوشلسٹ جمہوریت' کو اب حکومت کے سب سے مؤثر نظام کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ دوسری جانب امریکا کا سیاسی نظام شکستہ، تقسیم اور بدعنوان محسوس ہوتا ہے۔

گزشتہ ماہ اپنے ایک کاٹ دار مضمون 'جب چین قیادت کرے گا' میں آسٹریلیا کے سابق وزیرِ اعظم کیون رڈ لکھتے ہیں: "مغرب کو مجموعی طور پر کچھ اندازہ نہیں ہے کہ ابھرتے ہوئے چین کی صورت میں کیا کچھ اس کا منتظر ہے۔ امریکا دنیا بھر میں مذاق بن چکا ہے، یورپ اپنے ہی اوپر ایک رولنگ سیمینار محسوس ہوتا ہے۔"

وہ لکھتے ہیں: "یورپ، امریکا اور دیگر جگہوں پر اب بھی لوگ سمجھتے ہیں کہ چین کے عالمی منظرنامے پر ابھرنے کا سفر کسی نہ کسی طرح خود ہی رک جائے گا۔ یہ سوچ خطرناک ہے۔"

ان حالات میں واشنگٹن دانا ہوگا اگر وہ ژی جن پنگ کے "انسانیت کے لیے بہتر مشترکہ مستقبل" کے منصوبے پر سنجیدگی سے توجہ دے گا۔

انگلش میں پڑھیں۔

یہ مضمون ڈان اخبار میں 12 نومبر 2017 کو شائع ہوا۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں