چینی دکان کا سعودی شہزادہ

اپ ڈیٹ 20 نومبر 2017

ای میل

جب آپ کسی خراب بچے کو دیکھتے ہیں جو کسی دکان میں کچھ کر رہا ہوتا ہے اور اس کے والدین اسے کچھ بھی کرنے سے نہیں روکتے تو آپ جانتے ہیں کہ کسی آفت کے آنے سے قبل یہ ایک وقت کا کھیل ہے اور اس بات کا یقین کرنا کافی ہے کہ جب اس کے پاس طاقت نہیں تھی تب بھی اس نے طاقت کا استعمال کیا۔

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے یمن کے خلاف جنگ میں اپنے ملک کی قیادت کی، اس تنازع میں ہزاروں معصوم یمنی ہلاک ہوئے جبکہ سعودی طیاروں کی جانب سے اسکولوں، مارکیٹس، شادیوں اور جنازوں پر بمباری سے لگ بھگ 10 ہزار افراد کی ہلاکتیں ہوئیں۔

ان حملوں کے باعث انسانی حقوق کا بحران پیدا ہوا، جس میں لاکھوں لوگوں کو بھوک و افلاس کا سامنا کرنا پڑا جبکہ سعودی پابندیوں نے جہازوں سے خوراک اور ادویات اتارنے سے روک دیا۔

مزید پڑھیں: طاقتور ترین سعودی شہزادے محمد بن سلمان کو عروج کیسے ملا؟

قطر کے خلاف اقتصادی جنگ بھی غلط پالیسیوں کی ایک اور مثال ہے، سعودی عرب کے ولی عہد کے لیے قطر کوئی خطرہ نہیں، اصل مسئلہ صرف ان کا الجزیرہ چینل ہے جس کی عربی سروس ان کے لیے ایک کانٹا بنی ہوئی ہے، ساتھ ہی سعودیہ اور اس کے اتحادی اماراتی حکمرانوں کی نظر میں 2022 میں قطر میں ہونے والا فٹ بال ورلڈ کپ اور قطر کا مغربی ممالک میں مشہور مقامات کا حصول ریاض اور ابوظہبی کے شہزادوں کو کھٹک رہا ہے۔

اس کے ساتھ ہی ریاض، شام میں اپنی بیمار پالیسی کے خاتمے سے نمٹنے کی کوششیں کر رہا ہے جہاں برسوں تک ریاست نے جنگوؤں میں جہاد پسند گروہوں کی حمایت کی، اب جبکہ روس، ایران کی پاسداران انقلاب اور حزب اللہ کی مدد سے بشارالاسد کی افواج نے تقریباً جنگ جیت لی ہے تو سعودی عرب مختلف معاملات پر غور کر رہا ہے، خاص طور پر وہ خطے میں تہران کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو کم کرنا چاہتا ہے جو ایران سے لبنان، عراق اور شام تک پھیلا ہوا ہے۔

یہاں سعودی عرب کی لبنان میں حالیہ مداخلت بھی غور طلب ہے۔

مشرقی وسطیٰ کے امور پر ماہر بہترین کاروباری صحافی رابرٹ فِسک نے اپنے حالیہ مضمون میں لکھا تھا کہ ریاض میں سعودی عرب نے لبنان کے وزیراعظم کو اغوا کیا ہوا ہے۔

رابرٹ فسک کے مطابق اس کا مقصد ایران کی خطے میں بڑھتی ہوئی طاقت کا مقابلہ کرنے کے لیے حریری پر زور دینا تھا کہ وہ اپنی کابینہ میں حزب اللہ کے حمایت یافتہ وزیروں کو نکال کر حزب اللہ کو سیاست سے پاک کرے۔

یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب کے اصلاحات پسند ولی عہد محمد بن سلمان کون؟

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو یہ بات معلوم ہونی چاہیے کہ لبنان کا سیاسی نظام کس قدر نازک ہے، ایک کثیر فرقہ وارانہ معاشرے میں ہر برادری ایک پارٹی میں حصہ لے رہی ہے جس میں اکثر مشکل اور متنازع معاملات سامنے آتے ہیں، سعودی عرب کی جانب سے اس انفراسٹرکچر کو چھیڑنے کا نتیجہ ایسا ہوسکتا ہے جس کا صرف اندازہ ہی لگایا جاسکتا ہے۔

مشرق وسطیٰ میں ایک نئی جنگ اس خطے میں اسرائیل کو مداخلت کرنے کا موقع فراہم کرے گی، جس سے خطے میں ایک نیا تنازع شروع ہوگا۔

حقیقت میں، ڈونلڈ ٹرمپ اور نیتن یاہو دونوں کی انتہائی ناقابل یقین پالیسیوں اور اعمال بھی بہت جارحانہ ہیں جس سے دنیا کی متعدد ریاستوں کے حکمران پریشان ہیں ایسے موقع پر ریاض فوجی جنگجوؤں کو شکست دینے میں ناکام ہوگیا تو ان کی اپنی مداخلت سے ایک ایسے علاقائی تنازع کا آغاز ہوسکتا ہے جس کو ختم کرنے کے لیے مشکلات کا سامنا ہوگا۔

مزید پڑھیں: سعودی فرماں روا نے اپنے بیٹے کو ولی عہد نامزد کردیا

یہاں ناتجربہ کار سعودی شہزادے کو یہ احساس کرنا چاہیے کہ اس کی طاقت صرف مقامی طور اثر انداز ہو سکتی ہے، وہ مشرقی وسطیٰ میں اپنا حکم نہیں چلا سکتا، اس کا کسی بھی طرح کا کوئی عمل اسرائیل کی اسٹریٹجک پوزیشن کے لیے بہت فائدہ مند ثابت ہوگا۔

حالانکہ ٹرمپ اور نیتن یاہو، دونوں ہی نے اس جارحانہ مگر احمق ولی عہد کی پالیسیز اور اقدامات پر اعتماد کا اظہار کیا ہے لیکن واشنگٹن اور تل ابیب دونوں ہی غیر متوقع راستے اختیار کرنے سے پریشان ہوں گے جن سے تعلقات میں دراڑیں پیدا ہوسکتی ہیں تاہم دونوں ہی ایران پر نظر رکھنا چاہتے ہیں۔

مگر وہ یہ جانتے ہیں کہ ایران کو شکست دینے کے لیے ریاض کے پاس ہتھیاروں کی کمی ہے جبکہ یہ بھی جانتے ہیں کہ اگر انہوں نے خطے میں براہِ راست دخل اندازی کی کوشش کی تو یہاں ایسی آگ لگے گی جسے بجھانا مشکل ہوجائے گا

تاہم مقامی سطح پر شاہ سلمان کے رویے، درجنوں شہزادوں اور ارب پتی بزنس مین کی گرفتاریوں اور مبینہ طور پر کچھ لوگوں پر تشدد کرنے کی ان کو بھاری قیمت چکانی پڑ سکتی ہے، انہوں نے بحیرہ احمر میں قائم ہونے والے نئے منصوبے میں سرمایہ کاری کرنے والوں یا سرمایہ کاری کا ادارہ رکھنے والے عالمی سرمایہ کاروں کو قبل از وقت خطرات سے آگاہ کردیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب کا تاج آئندہ ہفتے 32سالہ شہزادے کو منتقلی کا امکان

حقیقت یہ ہے کہ سعودی تجارتی زندگی شہزادوں کے ساتھ تعلقات پر مبنی ہونے کے ساتھ ساتھ درآمدات پر کمیشن، اعلیٰ فوجی افسر کھلوانے اور بڑے تعمیراتی منصوبوں کے ذریعے بنتی ہے، لہٰذا آج کے دور میں ایک کامیاب سعودی کاروباری شخص کی تلاش مشکل ہوگی جو باقاعدہ طور پر رشوت دیتا یا لیتا نہ ہو، ایک نظریہ یہ بھی ہے کہ حالیہ کریک ڈاؤن ظاہر کرتا ہے کہ یہ تمام ممکنہ حریفوں اور مخالفین کو ختم کرنے کے لیے کیا جارہا ہے۔

محمد بن سلمان کی سعودی اشرافیہ کے خلاف بے مثال کارروائی کی ایک اور وجہ کھربوں پتی سعودی تیل کے ایک چھوٹے حصے آرامکو کی نجکاری بھی ہے۔

اگر ہم پس منظر میں بات کریں تو تیل کی قیمتیں کم ہونے سے سعودی معیشت پر کافی اثر پڑا تھا، ساتھ ہی ملک نے اپنے غیر ملکی کرنسی کے ذخائر کا ایک بڑا حصہ ختم کردیا ہے جبکہ ان کا تیل سے پائیدار توانائی کے رجحان کا طویل مدتی رجحان واضح ہے، لہٰذا اس کے آس پاس اور اس سے مطابقت رکھنے لیے ریاست کو ہائیڈرو کاربن پر انحصار کم کرنا اور معیشت کو مستحکم کرنا چاہیے۔

مزید پڑھیں: شاہ سلمان کے دورِ اقتدار کا سعودی عرب

محمد بن سلمان کے وژن 2030 کے مطابق وہ سعودی عرب میں زیادہ سے زیادہ افرادی قوت بڑھانا چاہتے ہیں تاہم کسی کو نہیں پتہ کہ یہ وژن کام بھی کرے گا یا نہیں، سعودی عرب نے ہمیشہ ایک بند اور قبائلی معاشرے کے طور پر کام کیا جبکہ دنیا کو تیل فروخت کرنے، مغربی خطرات کو دور رکھنے کے ہتھیار خریدنے میں مدد لی، اس حکمت عملی نے تب تک کام کیا جب تک محمد بن سلمان منظر عام پر نہیں آئے تھے، جنہوں نے دوسرے ولی عہدوں کو دیکھے بغیر حکمرانی کا ارادہ کیا، ایک ایسے ملک میں جہاں صدیوں تک بادشاہوں نے حکمرانی کی، اس میں تبدیلی کا وعدہ کرلیا، اگر چہ جو تبدیلیاں وہ لائے ہیں وہ اس سے زیادہ ہیں جن کی سعودی مانگ کر رہے تھے۔


یہ تجزیہ 20 نومبر 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوا