پاکستان کے اٹارنی جنرل اشتر اوصاف علی کا کہنا ہے کہ اسمبلی کو تحلیل کرنے یا کسی مجرم کو معاف کرنے کے صدارتی اختیارات وزیر اعظم اور کابینہ کی تجویز سے مشروط ہیں۔

لاہور ہائیکورٹ میں اٹارنی جنرل کے آفس کے باہر میڈیا سے انہوں نے اسمبلی کے تحلیل ہونے کی خبروں اور سبکدوش وزیر اعظم نواز شریف کی صدارتی معافی کے حوالے سے گفتگو کی۔

اٹارنی جنرل پاکستان کا کہنا تھا کہ صدر ریاست کا سربراہ ہوتا ہے لیکن پارلیمنٹ کی تحلیل اور معافی نامہ جاری کرنے میں ان کا محدود کردار ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اختیارات پارلیمنٹ کو نہ دیتا تو نوازشریف تاحیات صدر بن جاتے: زرداری

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں صدر کے اختیارات اتنے ہی ہیں جتنے برطانیہ کی ملکہ اور بھارت کے صدر کے ہیں۔

گرفتار بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کے معاملے پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ پاکستان عالمی عدالت برائے انصاف (آئی سی جے) کی 13 دسمبر کو ہونے والی سماعت میں اپنا جواب نامہ جمع کرائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ سزا یافتہ بھارتی جاسوس کو اسلامی قوانین اور انسانیت کے ناطے اپنی اہلیہ سے ملاقات کی اجازت دے دی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان آئی سی جے کے سامنے بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی کرنے کا معاملہ بھی سامنے لے کر آئے گا۔

مزید پڑھیں: کلبھوشن یادیو کیس میں پاکستان کا جواب زیرِ بحث

اشتر اوصاف علی نے بتایا کہ مختلف منصوبوں میں تاخیر ہونے کی وجہ سے چینی تشویش کا شکار ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اورنج لائن ٹرین منصوبے میں تاخیر کی وجہ سے قومی خزانے کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے اور منصوبے کی لاگت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔


یہ خبر 21 نومبر 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی