اسلام آباد دھرنا: فوج کی جانب سےمعاہدہ کرانا تشویشناک ہے،زاہد حسین

اپ ڈیٹ 28 نومبر 2017
— فوٹو: ڈان نیوز
— فوٹو: ڈان نیوز

اسلام آباد: تجزیہ کار زاہد حسین کا کہنا ہے کہ مذہبی جماعت اور حکومت کے درمیان فوج کی جانب سے معاہدہ کرانا تشویشناک ہے۔

ڈان نیوز کے پروگرام ’نیوز وائز‘ میں گفتگو کرتے ہوئے زاہد حسین نے کہا کہ ’دھرنے کے خاتمے کے نتیجے میں دیکھے گئے واقعات کے بعد ملک سے قانون کی بالادستی کی بات ختم کر دینی چاہیے، اگر شیڈول فور میں شامل افراد سے معاہدے کرنے ہیں تو آپریشن ردالفساد اور دیگر کارروائیاں ختم کر دینی چاہیئیں جبکہ ان تمام افراد کو بھی رہا کر دینا چاہیے جو دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’جن افراد نے دارالحکومت کو یرغمال بنا رکھا تھا، ڈی جی رینجرز پنجاب انہیں گلے لگا کر ہزار روپے دے رہے ہیں کہ آپ اپنے علاقوں میں واپس جائیں، ایسا کس جگہ پر ہوتا ہے؟‘

ان کا کہنا تھا کہ ’اسلام آباد دھرنے کے نتیجے میں مذہبی جماعت اور حکومت کے درمیان ہونے والے معاہدے کو اگر دیکھا جائے تو اس میں جماعت کی جانب سے پیش کیے گئے تمام مطالبات مان لیے گئے، لیکن تشویشناک بات یہ ہے کہ دونوں فریقین کے درمیان ہونے والا یہ معاہدہ فوج کی جانب سے کروایا گیا ہے۔‘

مزید پڑھیں:کارکنان کی رہائی کے بعد دھرنا ختم ہوگا، خادم حسین رضوی

زاہد حسین کا کہنا تھا کہ ’اس دھرنے کے نتیجے میں ہونے والے واقعات کی حکومت ذمہ دار ہے، کیونکہ اس نے 21 دن تک بیٹھ کر تماشہ دیکھا اور وزیر داخلہ احسن اقبال نے بیان دیا کہ وہ یہ آپریشن نہیں کرنا چاہ رہے تھے لیکن عدالتی حکم پر انتظامیہ نے مظاہرین کو ہٹایا۔‘

’حکومت نے ایک کے بعد ایک حماقت کی‘

دھرنے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنما اور پروگرام کے دوسرے مہمان شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ’حکومت نے ایک کے بعد ایک حماقت کر کے اپنے لیے مسائل پیدا کیے، حزب اختلاف کی جانب سے حکومت سے کہا جاتا رہا کہ مسئلے کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے لیکن انہوں نے 21 دن تک اسے طول دیا اور فیض آباد کو کھلواتے کھلواتے پورا ملک بند کر دیا۔‘

انہوں نے کہا کہ ’سوشل میڈیا کو بند کر کے حکومت نے دوسری بڑی حماقت کی، جس سے مزید قیاس آرائیوں نے جنم لیا۔‘

’مذہبی جماعت کا معاملات کو طول دینا طے تھا‘

اس معاملے پر مسلم لیگ (ن) کے رہنما شیخ روحیل اصغر کا کہنا تھا کہ ’چند روز قبل زاہد حامد نے کہا تھا کہ اگر میرے استعفیٰ دینے سے معاملات درستگی کی جانب جاتے ہیں تو میں اس کے لیے تیار ہوں، لیکن میرا ذاتی خیال ہے کہ مذہبی جماعت کی جانب سے معاملات کو طول دینا طے تھا تاہم زاہد حامد کے استعفیٰ کے بعد یہ ممکن نہیں رہا۔‘

یہ بھی پڑھیں: وزیر قانون زاہد حامد کا استعفیٰ منظور

واضح رہے کہ پیر کی صبح وفاقی وزیر قانون زاہد حامد کی جانب سے استعفیٰ دینے کے بعد گزشتہ 20 روز سے اسلام آباد اور راولپنڈی کے سنگم فیض آباد کے مقام پر مذہبی جماعت تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے جاری دھرنا ختم کر دیا گیا تھا۔

مذہبی جماعت کے سربراہ علامہ خادم حسین رضوی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے ملک بھر میں موجود اپنے رہنماؤں اور کارکنوں سے کہا کہ وہ مختلف شہروں میں جاری دھرنا ختم کر دیں اور کارکنان اپنے گھروں کو واپس چلے جائیں، جبکہ ہڑتال بھی ختم کرکے دکانیں کھول دی جائیں۔

پریس کانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ ’ہم لاہور سے صرف اور صرف ختم نبوت کی حفاظت کے لیے چلے تھے، ہمارا مطالبہ تھا کہ وزیر قانون کو برطرف کریں لیکن ہمارے خلاف پروپیگنڈا کیا گیا، ہم پر الزامات لگائے گئے جن کی کوئی حیثیت نہیں۔‘

اس سے قبل مذہبی جماعتوں کے دھرنے اور ملک میں ہونے والے مظاہروں کے باعث زاہد حامد نے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کو اپنا استعفیٰ پیش کیا جو منظور کر لیا گیا۔

اپنا موقف پیش کرتے ہوئے زاہد حامد کا کہنا تھا کہ قومی مفاد کی خاطر وزارت سے استعفیٰ دیا اور یہ فیصلہ ذاتی حیثیت میں کیا۔

انہوں نے کہا کہ ’الیکشن ایکٹ کا قانون تمام پارلیمانی اور سیاسی جماعتوں نے متفقہ طور پر بنایا تھا، اس ایکٹ میں براہ راست میرا کوئی تعلق نہیں۔‘

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں