صوبہ سندھ کے ضلع خیر پور میں فائرنگ کے واقعے میں مذہبی جماعت سے تعلق رکھنے والے 3 افراد ہلاک اور 9 زخمی ہوگئے۔

ذرائع کے مطابق خیر پور کے علاقے حسین آباد میں جان بریرا کے مقام پر عید میلاد النبی کی ریلی پر مسلح افراد نے فائرنگ کردیا۔

فائرنگ کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے افراد کی شناخت ذوالفقار بریرو، مشتاق احمد اور عبدالطیف کے نام سے کی گئی، جن کا تعلق ایک ہی مذہبی جماعت سے بتایا جارہا ہے۔

واقعے کے بعد پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات کا آغاز کردیا جبکہ زخمیوں کو خیرپور کے سول ہسپتال منتقل کردیا گیا۔

مزید پڑھیں: سات سالوں میں 2090 فرقہ وارانہ ہلاکتیں

سندھ کے وزیر داخلہ سہیل انور سیال اور سندھ انسپیکٹر جنرل پولیس اے ڈی خواجہ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس خیرپور سے رپورٹ طلب کرلی۔

خیال رہے کہ اس مقام پر جشن عید میلاد النبی کی ریلی ہر سال نکالی جاتی ہے۔

ادھر آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے ڈان سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ حسین آباد کے علاقے میں پولیس موجود ہے اور ہم صورت حال پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جمعے کے روز عید میلاد النبی کے پیش نظر امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنایا جارہا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پولیس حکام کی جانب سے خیرپور واقعے کے ذمہ داروں کا تعین کیا جارہا ہے اور پولیس حکام تحقیقات کر رہے ہیں کہ کہیں اس کے پیچھے کسی کالعدم جماعت کا ہاتھ تو نہیں۔

انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ اس واقعے میں ملوث افراد کو جلد پکڑا جائے گا اور ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

ایس ایس پی خیرپور اظفر مہیسر نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پولیس نے واقعے کی ابتدائی تحقیقات مکمل کرلی ہیں اور اس بات کی تصدیق کی جاچکی ہے کہ یہ حملہ یک طرفہ تھا۔

انہوں نے کہا کہ جب یہ ریلی نکالی جارہی تھی تو گاؤں کے دیگر لوگوں نے اس پر اعتراضات اٹھائے تھے اور اس ریلی کو روکنے کی کوشش کی تھی۔

تاہم ان دونوں گروہوں کے درمیان تلخ کلامی سامنے آئی جس کے بعد فوراً بعد ریلی پر فائرنگ کا واقعہ رونما ہوگیا۔ کوٹ ڈیجی پولیس کے مطابق حملے میں ملوث 12 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔

ایس ایس پی خیرپور کا کہنا تھا کہ گرفتار افراد میں سے کچھ پولیس کو پہلے ہی قتل کے مقدمے میں مطلوب تھے۔

انہوں نے بتایا کہ 9 ایم ایم پستول کے 10 خول اور ایک مشین گن کا خول واقعے کے مقام سے بر آمد کیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ریلی نکالنے کے لیے انتظامیہ کی جانب سے اجازت نہیں لی گئی تھی۔

واضح رہے کہ پاکستان میں فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات اکثر رونما ہوتے رہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: فرقہ وارانہ گرہ

رواں سال کے اوائل میں 'ساؤتھ ایشیا ٹیررازم پورٹل' کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا تھا ملک میں اب تک 3049 فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات پیش آچکے ہیں جس کے نتیجے میں 5358 افراد جاں بحق ہوئے۔

اگر سال 2016 کی بات کی جائے تو 'پاکستان انسٹیٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز' کے مطابق فرقہ وارانہ تشدد کے 34 واقعات پیش آئے تھے، جس کے نتیجے میں 104 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔