نبی کریم ﷺ؛ تمام جہانوں کے لیے رحمت

اپ ڈیٹ 01 دسمبر 2017

ای میل

قرآن پاک میں حضرت محمد ﷺ کا تذکرہ بہت ہی لطیف پیرائے میں کیا گیا ہے۔ ان کی پیدائش سے منسوب اس دن پر اچھا ہوگا کہ ہم ان روحانی القاب پر غور کریں جو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اپنے نبی ﷺ کے لیے استعمال کیے ہیں، تاکہ ہم رسول اللہ ﷺ کی شخصیت کو جان سکیں اور ان القاب میں انسانیت کے لیے پنہاں اسباق سے شناسائی حاصل کر سکیں۔

سورۃِ احزاب کی آیت 46 میں اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر ﷺ کو سراجِ منیر یا ایک روشن چراغ کہتے ہیں۔ جس طرح ایک چراغ اندھیروں کو دور کردیتا ہے، اُسی طرح اللہ تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کے ذریعے انسانیت کی ارواح کو منور کردینا چاہتے ہیں۔ اپنی کتاب میں ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کو 'رحمۃ اللعالمین' کہتے ہیں (21:107)۔ یہ اہم بات ہے کہ یہاں الرحمان اور الرحیم اپنے رسول ﷺ کو اپنی رحمت کے مظہر کے طور پر بیان کر رہا ہے۔

قرآن میں ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کے بارے میں کہتے ہیں کہ: ’بے شک آپ زبردست اخلاقی کردار کے مالک ہیں (خلقِ عظیم)‘ (68:4)۔ جہاں قرآن پاک سے بنیادی واقفیت رکھنے والے تمام مسلمان رسول اللہ ﷺ کے لیے استعمال ہونے والے ان روحانی القاب سے واقف ہیں، وہاں ہم میں سے کتنے ایسے لوگ ہیں جو واقعی ان القاب کے مقصد پر غور کرتے ہیں، خاص طور پر تب جب قرآن رسول اللہ ﷺ کو 'اسوۃ حسنہ' یعنی انسانیت کے لیے 'بہترین مثال' بھی قرار دیتا ہے؟

یہ ’بہترین مثال‘ اکثر روشنی، محبت اور اخلاقیات کے معانی میں لی جاتی ہے۔ مگر کیا یہ بدقسمتی نہیں ہے کہ کئی لوگ جو رسول اللہ ﷺ کے محب اور ان کے پیروکار ہونے کے دعویدار ہیں، ’بہترین مثال‘ کے بالکل متضاد کام کرتے ہیں؟ زیادہ تر مسلم معاشروں میں علم، محبت و ہمدردی، اور بلند ترین اخلاقیات کی کمی موجود ہے۔

اس تضاد کی ایک وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے محبت اور ان کے امّتی ہونے کے دعوے کے باوجود آج مسلمان بھول چکے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے خود دنیا میں اپنی آمد کے بنیادی مقصد کے بارے میں کیا کہا تھا: حدیثِ مبارکہ میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے مطابق وہ ’اخلاقیات مکمل کرنے کے لیے‘ بھیجے گئے ہیں۔

سادہ الفاظ میں کہیں تو خود پر قابو پائے بغیر اور ہمیں غلط راہ کی جانب دھکیلنے والے اندرونی شیاطین سے مسلسل جنگ کیے بغیر ہم رسول اللہ ﷺ کے روحانی نور کو جذب نہیں کرسکیں گے، وہی نور جسے قرآن پاک نے چراغ سے تشبیہ دی ہے۔ ان کی تعریف کرنا ان سے عقیدت کا مظہر ہے؛ ان کی ہدایات پر عمل کرنا اس سے بھی زیادہ اہم ہے۔

مگر ان زبردست آزمائشوں اور مشکلات کے دور میں بھی، جہاں کئی لوگ ’صحیح راستے‘ کے نمائندہ ہونے کے دعویدار ہیں، مگر وہ ہدایت اور وہ نور کہاں دستیاب ہے جس کے بارے میں قرآن بات کر رہا ہے؟ درحقیقت سچائی کے متلاشیوں کے لیے خطرات تو بہت ہیں۔ مثال کے طور پر، کئی لوگ ایسے ہیں جو خود کو ’دین کا محافظ‘ کہتے ہیں، مگر اُن کی ایذا رسانیاں اور تند و تیز زبانیں رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کے بالکل متضاد ہیں۔

حضرت علی کے الفاظ میں، ’ان (رسول اللہ ﷺ) کے ذریعے روشن ہدایت پہنچ چکی اور اندھیرے (گمراہیاں) چھٹ گئے ہیں۔‘ شاید اس دنیا کو ٹھیک کرنے کی کوششوں سے پہلے ہمیں خود اُس ’روشنی‘ کی تلاش میں وہ کام کرنا چاہیے جسے احادیثِ مبارکہ میں جہادِ اکبر، یا اپنے نفس کے خلاف جہاد کہا گیا ہے۔ چاہے کہ انسان کسی مذہبی پیشوا کے روپ میں ہو یا کسی اور میں، اپنے آپ کا جائزہ لیے بغیر روحانیت اور اخلاقی برتری حاصل کرنا نہایت مشکل ہوگا۔

یہ ہمارے اندر کا چھوٹا پن، خود غرضی، لالچ، حسد، دنیاوی لذّتوں کی محبت اور شر ہے جس پر ہمیں قابو پانا ہوگا۔ یہی رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کا جوہر ہے۔ کمزوروں اور پسے ہوئے طبقات سے نرمی کے ساتھ پیش آنا، ظالم کے خلاف کھڑے ہونا، اور ایک زیادہ منصفانہ اور مساوی معاشرے کے لیے جدوجہد کرنا۔ یہی وہ عظیم مقاصد ہیں جن کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ یہ سنّتِ رسول اللہ ﷺ کی بنیاد ہیں۔

مگر کیا یہ چیزیں معاشرتی اور انفرادی سطح پر ہماری ترجیحات میں شامل بھی ہیں؟ صدیوں تک بزرگوں، متلاشیوں اور داناؤں نے رسول اللہ ﷺ کی مثال کو ’خود سازی‘ کے لیے استعمال کیا ہے۔ یہ فارمولے صرف عقلی بحثوں کے لیے نہیں بلکہ عملی طور پر اپنانے کے لیے ہیں۔ ہماری دنیا، بالخصوص مسلم معاشروں میں ایک بہت بڑا اخلاقی خلا موجود ہے، جہاں مذہبیت تو بہت زیادہ ہے مگر روحانیت بہت کم۔

مگر مثال پر عمل کرنے کا مطلب ساتویں صدی کے طور طریقوں کو لغوی معنوں میں جیسے کا تیسا اپنا لینا نہیں ہے؛ بلکہ اس کا مطلب دورِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق جینا ہے، مگر مضبوط اخلاقی و کردار کے ساتھ جس سے انسان صحیح اور غلط کی تمیز کرسکے۔

الفاظ سے آگے، بلند و بانگ بیانات سے آگے، یہ کردار کی مضبوطی ہی ہے جو کہ معاشرے اور انسان کی تعمیر کے لیے ضروری ہے، اور جیسا کہ قرآن پاک کی آیات نے واضح کیا ہے، روحِ انسانی کے لیے رہنما نور رسول اللہ ﷺ کی ذاتِ مبارک ہے۔

قرآن پاک اِس سب کا خلاصہ اپنی اِس خوبصورت آیت میں پیش کرتا ہے: ’اللہ تعالیٰ اور اُس کے فرشتے اس نبی پر رحمت بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم (بھی) اُن پر درود بھیجو اور خوب سلام (بھی) بھیجتے رہا کرو۔‘

یہ مضمون ڈان اخبار میں 1 دسمبر 2017 کو شائع ہوا۔

انگلش میں پڑھیں۔