اسلام آباد: سابق وزیر قانون زاہد حامد کے استعفے کے بعد وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے معاون خصوصی بیرسٹر ظفراللہ کو وزارت قانون کے امور سونپ دیئے گئے۔

وزیر اعظم کی جانب سے بیرسٹر ظفراللہ کو وزارت قانون کے امور سونپے جانے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا۔

وزیر اعظم ہاؤس سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق بیرسٹر ظفراللہ امور سونپے جانے کے بعد وزارت قانون کی تمام کمیٹیوں اور بورڈز کے اجلاسوں کی صدارت کریں۔

وہ سینیٹ اور قومی اسمبلی میں وزارت سے متعلق سوالات کے جوابات دیں گے، جبکہ وزیر قانون کی تقرری تک وزارت قانون کے روز مرہ کے معاملات دیکھیں گے۔

مزید پڑھیں: اسلام آباد دھرنا: حکومت کو قوم سے معافی مانگنی چاہیے، پی پی پی رہنما

واضح رہے کہ زاہد حامد نے 27 نومبر کو وزیر قانون کے عہدے سے استعفیٰ دیا تھا، جسے وزیر اعظم نے منظور کرلیا۔

استعفے کے حوالے سے وفاقی وزیر زاہد حامد نے موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ قومی مفاد کی خاطر وزارت سے استعفیٰ دیا اور یہ فیصلہ ذاتی حیثیت میں کیا ہے۔

اسلام آباد کے فیض آباد انٹرچینج پر مذہبی جماعت کی جانب سے 22 روز تک دھرنا دیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد دھرنا کئی ہفتے بعد ختم، کارواں روانہ

حکومت کی جانب سے مذہبی جماعت کے مطالبات منظور کر لیے گئے، جن میں زاہد حامد کا استعفیٰ مرکزی مطالبہ تھا۔

مظاہرین نے الزام لگایا کہ قانون میں ’ختم نبوت‘ کے حلف نامے میں متنازع ترمیم کے ذمہ دار زاہد حامد تھے۔