پشاور: خیبرپختونخوا اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں نے مطالبہ کیا ہے کہ یکم دسمبر کو پشاور کے زرعی ٹریننگ انسٹیٹیوٹ پر ہونے والے حملے میں ایک طالب علم کی جانب سے مبینہ طور پر دہشت گرد کو غیر مسلح کرنے اور اسے کمرے میں بند کرنے کے باوجود پولیس کی جانب سے دہشت گرد کو مارنے کی تحقیقات کی جائیں۔

خیبر پختونخوا حکومت میں پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) کی اتحادی سیاسی جماعت ’جماعت اسلامی‘ نے بھی اس مطالبے کی توثیق کردی۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن اسمبلی نگہت اورکزئی کی جانب سے نقطہ اٹھایا گیا کہ ایک طالب علم کا کہنا ہے کہ اس نے حملہ آور کو غیر مسلح کرکے کمرے میں بند کردیا گیا تھا لیکن پولیس کی جانب سے حملہ آور کو گرفتار کرنے کے بجائے فائرنگ کرکے مار دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ پولیس نے حملہ آور کو مار کر ثبوت ختم کردیئے، دہشت گرد کی گرفتاری انٹیلی جنس ایجنسیوں کو حملے کے منصوبہ سازوں اور ماسٹر مائنڈز تک پہنچنے میں مدد فراہم کرسکتی تھی۔

مزید پڑھیں: زرعی ٹریننگ انسٹیٹیوٹ کے حملہ آوروں کو ہدف سے متعلق گمراہ کیا گیا، پولیس

واضح رہے کہ زرعی ٹریننگ انسٹیٹیوٹ پر ہونے والے حملے میں 8 طلباء سمیت 9 افراد جاں بحق اور 28 زخمی ہوئے تھے جبکہ پولیس کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی فورسز کے آپریشن کے دوران تین حملہ آور بھی مارے گئے تھے۔

وزیر قانون و پارلیمانی امور امتیاز شاہد کا کہنا تھا کہ رکن صوبائی اسمبلی کی معلومات افواہیں ہیں کیونکہ انہوں نے حملے سے متعلق پولیس کی رپورٹ کا خود جائزہ لیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پولیس کے مطابق اس حملےمیں 4 یا 5 دہشت گردوں کو مارا گیا ہے جبکہ رپورٹ میں اس حوالے سے کوئی سچائی نہیں کہ پولیس نے ایک دہشت گرد کو مار دیا گیا، جسے غیر مسلح کرکے کمرے میں بند کردیا گیا تھا۔

امتیاز شاہ نے حملے کے بروقت جواب پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تعریف کی۔

جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے سینئر وزیر عنایت اللہ خان نے تجویز دی کہ رپورٹ کی روشنی میں غیر مسلح حملہ آور کے قتل کی تحقیات کی جائیں۔

انہوں نے کہا کہ طالب علم کے دعویٰ کی بھی انکوائری ہونی چاہیے۔

سینئر وزیر نے صوبے میں دوبارہ دہشت گردی کے واقعات پر پارلیمانی رہنماؤں کے ان کیمرا بریفنگ کے مطالبے کی بھی حمایت کی۔

انہوں نے کہا کہ پولیس کے سربراہ سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو حملے کے بارے میں موجودہ پیش رفت سے آگاہ کریں۔

یہ بھی پڑھیں: پشاور: زرعی ٹریننگ انسٹیٹیوٹ پر دہشت گردوں کا حملہ، 9 افراد ہلاک

انہوں نے کہا کہ شاعر اور نقاد ٹی ایس ایلیوٹ کہتے ہیں کہ اپریل ظالمانہ مہینہ ہے لیکن میں کہتا ہوں کہ پشاور کے لیے دسمبر ظالمانہ مہینہ ہے۔

انہوں نے حوالہ دیا کہ آرمی پبلک اسکول اور دیگر دہشت گردی کے واقعات دسمبر کے مہینے میں پیش آچکے ہیں۔

اپوزیشن جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان صوبائی اسمبلی سید جعفر شاہ، سردار حسین بابک، سردار اورنگزیب نالوتھا، سکندر شیرپاؤ، مفتی سید جانا اور فخر اعظم جبکہ جماعت اسلامی کے ملک افکاری نے بھی غیر مسلح حملہ آور کو مارے جانے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

ارکان اسمبلی نے مطالبہ کیا کہ موجودہ حالات پر ان کیمرا بریفنگ کی جائے جبکہ وفاقی حکومت کے نیشنل ایکشن پلان پر بھی نظر ثانی کی جائے۔

اسمبلی اجلاس کے دوران اسپیکراسد قیصر نے حکم دیا کہ طالب علم کے غیر مسلح حملہ آور کے بیان سے متعلق تحقیقات کی جائیں۔

انہوں نے اپوزیشن کی جانب سے جمع کرائی گئی تحریک استحقاق کے حوالے سے تسلیم کیا کہ دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات پر تفصیلی بات چیت ہونی چاہیے۔

اس کے علاوہ اجلاس میں متفقہ قرار داد منظور کی گئی جس میں مطالبہ کیا گیا کہ وفاقی حکومت سعودی حکومت کی جانب سے حراست میں لیے گئے پاکستانیوں کی رہائی اور ان کی ملک بدری روکنے کے حوالے سے بات چیت کرے۔

پیپلزپارٹی کے ایم پی اے صاحبزادہ ثناءاللہ نے قرار داد پیش کی، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ ہزاروں پاکستانی سعودی عرب میں حراست میں ہیں۔

تحریک انصاف کے رکن اسمبلی محمود خان کی جانب سے پشاور اور مردان ڈویژن کے مل مالکان کی جانب سے گنے کی کرشنگ میں تاخیر کا معاملہ اٹھایا گیا، انہوں نے کہا کہ کرشنگ کا موسم 15 نومبر سے شروع ہونا چاہیے تھا لیکن مل مالکان کی جانب سے ابھی تک اس کا آغاز نہیں کیا گیا،جس سے کاشتکاروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: پشاور میں پولیس کا سرچ آپریشن، 9 مشتبہ افراد گرفتار

انہوں نے کہا کہ گنے کے کمشنر نے ابھی تک گنے کی نئی قیمتوں کا بھی اعلان نہیں کیا۔

نقطہ اعتراض پر وزیر خوراک قلندر لودھی نے مل مالکان کی جانب سے ایک حصے میں گنے کی کرشنگ میں تاخیر کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں گنے کی کرشنگ کا عمل شروع ہوگیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کاشتکاروں کے حقوق کا تحفظ کرے گی اور کرشنگ کا عمل جلد شروع ہوجائے گا۔


یہ خبر 05 دسمبر 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی