Email


بولی وڈ کا چاکلیٹی ہیرو: ششی کپور

خرم سہیل

ہندوستانی تھیٹر اور سینما میں 'ششی کپور' کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے۔ ہم سے ایک اداکار نہیں بلکہ ایسا انسان بچھڑ گیا ہے، جس کی زندگی میں رومان کے رنگ بہت گہرے تھے، وہ اپنے رشتوں میں سچا اور خوابوں کا دھنی تھا۔ ایک ایسا فنکار، جس نے اداکاری کا شعور تھیٹر کے منچ سے حاصل کیا، بولی وڈ میں اُن کے فلمی منظر نامے پر کہیں لکھے ہوئے خطوں کی خوشبو مہکتی محسوس ہوتی ہے، تو کبھی کبھی کوئی خیال اُن کی یاد کا دیپ روشن کرنے بھٹک کر یادوں کی راہداری میں آنکلتا ہے۔

برطانوی اور امریکی فلموں میں کیے گئے کرداروں سے اُن کے تخلیقی سفر کی جدیدیت اور بلند خیالی کے زاویے بھی نمایاں ہوتے ہیں۔ ششی کپور کے جانے سے بہت کچھ چلا گیا، وہ عہد جس میں فلم بین، فنکاروں کو اپنا آدرش مانتے تھے، جہاں امن اور محبت کے گیت گائے جاتے تھے۔ زندگی جہاں نغمہ سراں تھی، وہ منظر اوجھل ہوا، لیکن فلم کے پردے پر، تصور کی پرچھائیوں میں ششی کپور ہمیشہ یاد آتے رہیں گے۔

ششی کپور کا اصل نام بلبیر پرتھوی راج کپور تھا، اُن کا جنم 1938 میں غیر منقسم ہندوستان میں، بنگال کے شہر کلکتے میں ہوا۔ ہندوستانی تھیٹر اور سینما میں کپور خاندان کو کلیدی اہمیت حاصل رہی ہے۔ پرتھوی راج تھیٹر کے ذریعے ہندوستانی ناٹکوں کو عالمی دنیا میں متعارف ہونے کا موقع ملا۔ یہ ورثہ ششی کپور کا تھا، جو اُنہیں اپنے والد پرتھوی راج سے ملا۔

پرتھوی راج پنجابی ہندو خاندان ہے، جس نے ہندوستان کی فنی دنیا میں بہت شہرت حاصل کی ہے۔ فنی پہلو سے دیکھا جائے تو اِس خاندان کی پہلی نسل میں سربراہ پرتھوی راج کپور تھے۔ دوسری نسل میں، اُن کے تین بیٹے راج کپور، شمی کپور اور ششی کپور تھے۔ تیسری نسل میں رندھیر کپور اور رشی کپور نے بے پناہ شہرت حاصل کی۔ اب چوتھی اور موجودہ نسل میں کرشمہ کپور، کرینہ کپور اور رنبیر کپور بولی وڈ کے مقبول ترین فنکار ہیں۔

چھوٹا بیٹا ہونے کی حیثیت سے ششی کپور سب سے لاڈلے بھی تھے، والد سے دلی طور پر قریب بھی، چنانچہ کم عمری سے ہی والد کی قربت میں رہے، اب یہ کیسے ممکن تھا کہ پرتھوی راج کی رفاقت ہو اُن میں فنکارانہ کونپلیں نہ پھونٹیں۔ ابھی محض چار برس کے ہی تھے کہ جب وہ پہلی مرتبہ پرتھوی راج تھیٹر کے ناٹک میں بحیثیت 'چائلڈ اسٹار' شامل ہوئے۔ 40 اور 50 کی دہائی میں تھیٹر کی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ اسی حیثیت میں فلموں میں جلوہ گر ہونے لگے۔ انہوں نے بڑی تیزی سے اداکاری کی دنیا میں اپنا مقام بنانا شروع کردیا اور کچھ مشکل وقت دیکھنے کے بعد پھر ڈھیروں کامیابیاں بھی سمیٹیں۔

ششی کپور نے اپنے فلمی کیرئیر میں تقریباً 168 فلموں میں کام کیا، جن میں سے 148 فلمیں ہندی اور اردو زبان میں تھیں، جن میں سے 61 فلموں میں مرکزی کردار نبھائے مگر حیرت انگیز طور پر جن فلموں میں معاون اداکار کے طور پر شریک ہوئے، وہاں بھی اپنی موجودگی کا خوب احساس دلایا، اِس کی مثال امیتابھ بچن کے ساتھ کی جانے والی فلم 'نمک حلال' ہے۔

ششی کپور کی نمایاں اور کامیاب فلموں میں ’جب جب پھول کھلے‘، ’دیوار‘، ’آوارہ‘، ’نیند ہماری خواب تمہارے‘، ’کبھی کبھی‘، ’کنیا دان‘، ’پیار کا موسم‘، ’شرمیلی‘، ’چور مچائے شور‘، ’پھانسی‘، ’تریشول‘، جیسی فلمیں شامل ہیں۔ انہوں نے 21 فلموں میں معاون اداکار کے طور پر کام کیا، جبکہ 4 فلموں میں بطور چائلڈ اسٹار اور 7 فلموں میں مہمان اداکار کے طور پر بھی دکھائی دیے، 2 فلمیں ایسی بھی ہیں جو نمائش کے لیے پیش نہ ہوسکیں۔ کہیں اکا دکا ٹیلی وژن کے لیے مختصر فلموں اور منصوبوں میں بھی اپنا حصہ ڈالا۔ 60 اور 70 کی دہائی میں مصروف ترین اور کئی برس تک مہنگے ترین اداکار بھی رہے، اپنے کیریئر میں 33 سُپرہٹ فلمیں دیں، جنہیں بالی وڈ کی تاریخ میں فراموش نہیں کیا جا سکے گا۔

انہوں نے بین الاقوامی سینما کے لیے 12 فلموں میں اداکاری کی، وہ تمام فلمیں انگریزی زبان میں تھیں۔ اُن کا شمار چند ایسے ہندوستانی اداکاروں میں بھی ہوتا ہے، جنہوں نے غیر ملکی فلموں میں کام کرکے بین الاقوامی شہرت حاصل کی۔ اُن کے کیریئر کی آخری فلم، پاکستانی نژاد برطانوی ہدایت کار جمیل دہلوی کی 'جناح' تھی، جس میں وہ ایک راوی کے طور پر نمودار ہوئے۔ ششی کپور نے فلم ساز کی حیثیت سے 6 فلمیں تخلیق کیں، جن میں 'جنون' کو اُس سال کی سب سے بہترین فلم قرار دیا گیا۔ ہدایت کار کے طور پر 2 فلمیں بنائیں، جن میں امیتابھ بچن کے ساتھ بنائی جانے والی فلم 'عجوبہ' یادگار ہے، جس کے فلم ساز بھی یہ خود تھے، اُنہیں سوویت یونین پروڈکشن ہاؤس کا تعاون بھی دستیاب تھا۔ اُنہوں نے بطور نائب ہدایت کار 5 فلموں کے لیے اپنی خدمات پیش کیں۔

اُنہوں نے فلم 'سہاگ' میں اپنی آواز کا جادو بھی جگایا۔ محمد رفیع اور اشوک کمار کی آواز میں اُن پر بہت سارے گیت عکس بند ہوئے۔ اُن پر فلمائے گئے چند مشہور گیتوں میں ساحر لدھیانوی کا لکھا ہوا گیت ’کبھی کبھی میرے دل میں خیال آتا ہے‘ دل کو چھو لینے والا گیت ہے۔

’پردیسیوں سے اکھیاں نہ ملانا‘ اور ’لکھے جو خط تجھے‘ جیسے گیتوں میں بھی اُن کی اداکارانہ صلاحیتوں کا اعتراف کیا گیا۔ یہ گیت آج بھی فلم بینوں کے تصور میں نقش ہیں۔ امیتابھ بچن کے ساتھ اداکار جوڑی کو شہرت ملی، دونوں نے 11 فلموں میں ایک دوسرے کے ساتھ کام کیا، دیگر اداکاروں میں سنجیو کمار، راجیش کھنہ، دھرمیندر، ونودکھنہ، راج ببر اور دیگر شامل ہیں، جبکہ سینئر اداکاروں میں بھارت بھوشن، اشوک کمار اور پران جیسے اداکاروں کے ساتھ بھی اُنہیں کام کرنے کا موقع ملا۔ اُن کے کئی ڈائیلاگ مشہور ہوئے، جن میں سب سے زیادہ شہرت ایک ڈائیلاگ کو ملی، جس میں وہ کہتے ہیں ’میرے پاس ماں ہے۔‘

بالی وڈ کی تمام مرکزی اداکاراؤں کے ساتھ کام کیا، جن میں سرِفہرست، آشا پاریکھ، نندا، راکھی، شرمیلا ٹیگور، زینت امان، شبانہ اعظمی، ریکھا اور دیگر شامل ہیں، مگر زینت امان اور شرمیلا ٹیگور کے ساتھ اُن کے کام کو فلم بینوں نے بہت زیادہ پسند کیا، مگر اُنہیں خود نندا اور راکھی کے ساتھ کام کرنے میں لطف آیا۔ وہ یادیں اُن کو بہت عزیز رہیں، لیکن اُن کی زندگی کی ہم سفر ’جینفر کینڈل‘ بنی، جس سے اُن کی ملاقات پرتھوی راج تھیٹر کے ایک کھیل ’شیکسپیئرینا‘ کے دوران ہوئی۔ اُس وقت عالم شباب تھا اور بالآخر دونوں کی محبت نے انہیں زندگی بھر کی رفاقت میں بدل دیا۔ جینفر سے 3 بچے کنال، کرن، سنجنا ہیں، جنہوں نے فلمی دنیا کو ہی اپنا پیشہ بنایا ہوا ہے۔

ششی کپور نے 1961 میں یش چوپڑا کی فلم ’دھرم پترا’ سے اپنے فلمی کیریئر کا باقاعدہ آغاز کرتے ہوئے پہلا مرکزی کردار نبھایا۔ یہ ابتدائی سفر اُن کے لیے خاصا کٹھن ثابت ہوا، چند برسوں تک اُن کی فلمیں باکس آفس پر کامیابی حاصل نہ کرسکیں، مگر اُنہوں نے ہمت نہ ہاری، اور پھر قسمت کی دیوی مہربان ہوئی اور دو دہائیوں تک ہندی سینما پر راج کیا۔

کمرشل اور آرٹ فلموں میں نمایاں اداکار رہے۔ اسماعیل مرچنٹ اور جیمز آویوری جیسے مایہ ناز فلم سازوں کے ساتھ کام کرنے کے بعد، اُن کی شہرت کو چار چاند لگ گئے، بالخصوص عالمی سینما میں اُن کی جداگانہ شناخت بنی، وہاں اُن کی فلموں کو بہت پسند کیا گیا۔ جس کے بعد اُنہیں ہندوستانی سینما میں بھی کامیابیاں ملنا شروع ہوگئیں، انگریزی سینما میں کام کرنا اُن کے لیے نیک شگون ثابت ہوا۔

ہندوستانی سینما کے رومانوی عہد میں ششی کپور ایک کامیاب اداکار کے طور پر یاد رکھے جائیں گے، اُنہیں بولی وڈ میں وہی حیثیت ملی، جو پاکستانی فلمی صنعت میں وحید مراد کو حاصل تھی۔ دونوں نے اپنے اپنے فلمی منظر نامے پر تہلکہ مچایا اور فلم بینوں کے دلوں پر راج کیا۔ عجیب اتفاق ہے، ششی کپور کی آخری فلم ’جناح‘ ثابت ہوئی، اِس اہم ترین فلم کی وجہ سے وہ پاکستانی فلم بینوں کے ذہن میں بھی ہمیشہ نقش رہیں گے۔ ششی کپور ایک عہد کا نام تھا، جس نے ہندوستان کی فلمی صنعت کو رومان کرنا سکھایا۔ اُن کی رحلت سے دل بہت دنوں تک اُداس رہے گا۔


بلاگر صحافی، محقق، فری لانس کالم نگار اور کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔

ان سے ان کے ای میل ایڈریس [email protected] پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔


ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔