— شٹر اسٹاک فوٹو
— شٹر اسٹاک فوٹو

بلڈ پریشر کو خاموش قاتل بھی کہا جاتا ہے جو امراض قلب یا فالج وغیرہ کا خطرہ سنگین حد تک بڑھا دیتا ہے مگر فکر کرنے کی بات نہیں کیونکہ آپ اپنے طرز زندگی میں چند عادات اپنا کر یا تبدیل کرکے اس پر قابو پاسکتے ہیں۔

ایسے طریقے جن کے ذریعے بلڈ پریشر کو نارمل رکھا جا سکتا ہے وہ درج ذیل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : بغیر مشین کے بلڈ پریشر کیسے چیک کریں؟

صحت بخش غذا

سبزبوں اور پھلوں سے بھرپور غذا کا استعمال بلڈپریشر کو کنٹرول میں رکھنے کا اچھا خیال ہے۔ مختلف تحقیقی رپورٹس کے مطابق پھل سبزیاں، اجناس اور صحت مند فیٹس جیسے زیتون کا تیل وغیرہ کا استعمال دل کی صحت کیلئے فائدہ مند ہوتا ہے، جس کی وجہ ان غذاﺅں میں شامل اجزا سے جسم کے اندر ورم یا سوجن کا امکان کم ہوجاتا ہے، اور خون کی رگیں صاف اور مضبوط ہوتی ہیں

مزید پڑھیں : بلڈپریشر سے بچاﺅ کے لیے 10 بہترین غذائیں

نمک کا کم استعمال

اگر تو آپ کی عمر پچاس سال سے زائد ہے یا کسی بھی عمر کے حصے میں ہیں اور بلڈ پریشر، ذیابیطس یا گردوں کے امراض کے شکار ہیں، تو روزانہ 1500 ملی گرام سے زیادہ نمک استعمال نہ کریں، اسی طرح صحت مند افراد کے لیے یہ حد 2300 ملی گرام ہے۔ اسی طرح جنک یا پراسیس فوڈز کا بہت کم استعمال کرنا چاہیے کیونکہ ان میں نمک کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : صحت مند افراد کا بلڈ پریشر کتنا ہونا چاہیے؟

وزن کو کنٹرول میں رکھیں

یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ بلڈ پریشر جسمانی وزن میں اضافے کے ساتھ بڑھتا ہے تو صحت مند جسامت کو برقرار رکھنا خود کو تحفظ دینے کا بہترین طریقہ ہے۔ جسمانی وزن کم کرکے آپ بلڈ پریشر کی سطح بھی نیچے رکھ سکتے ہیں اور دل پر پڑنے والے مضر اثرات سے بچ سکتے ہیں۔

جسمانی سرگرمیاں

جسمانی سرگرمیاں فشار خون سے بچانے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں، ہفتے بھر میں کم از کم 30 منٹ سے ایک گھنٹے کی ورزش بلڈ پریشر کی سطح کو کم رکھتی ہے، یہاں تک کہ صرف چہل قدمی کی عادت ہی دل کی صحت کے لیے بہترین ہے۔

تمباکو نوشی سے گریز

سیگریٹ میں شامل نکوٹین بلڈ پریشر کو بڑھاتا ہے، تو جو لوگ دن بھر بے تحاشہ تمباکو نوشی کرتے ہیں ان کا بلڈ پریشر ہمیشہ بڑھا ہوا ہی ہوتا ہے، جس سے گریز امراض قلب اور فالج وغیرہ سے تحفظ کے لیے بہترین ثابت ہوتا ہے۔

تناﺅ میں کمی لائیں

ذہنی تناﺅ میں جس حد تک کمی لائی جاسکے، بہتر ہے، اس کے لیے گہری سانسیں لینا، مراقبہ یا دیگر طریقہ کار کا انتخاب کیا جاسکتا ہے۔ اس سلسلے میں جسمانی سرگرمیاں اور مناسب نیند بھی مددگار ثابت ہوتی ہیں۔

گھر میں بلڈ پریشر ریڈنگ چیک کرنے کا انتظام

گھر میں بلڈ پریشر کی مانیٹرنگ کے لیے مشین کی موجودگی بھی ضروری ہے، تاکہ فشار خون میں اضافے کی صورت میں فوری طور پر رجوع کیا جاسکے۔

کیفین کا کم استعمال

اگر آپ ہائی بلڈ پریشر کے شکار نہیں تب بھی کیفین کے زیادہ استعمال سے گریز زیادہ بہتر ہوگا، کیونکہ یہ عنصر دل کی دھڑکن کی رفتار اور بلڈ پریشر کو بڑھا دیتا ہے۔ ابھی یہ تو واضح نہیں کیفین سے بلڈ پریشر کیوں بڑھتا ہے مگر ایسا ہوتا ضرور ہے، اس لیے دن بھر میں 4 کپ سے زیادہ کافی کا استعمال بلڈپریشر کا مریض بنادینے کے لیے کافی ہے۔