پنجاب حکومت کے ترجمان ملک احمد خان نے سانحہ ماڈل ٹاؤن پر جسٹس باقر نجفی کمیشن کی انکوائری رپورٹ کو نامکمل قرار دے دیا۔

ڈان نیوز کے پروگرام 'نیوز وائز' میں گفتگو کرتے ہوئے ملک احمد خان کا کہنا تھا کہ رپورٹ میں اصل حقائق کو شامل نہیں کیا گیا جبکہ مذکورہ رپورٹ بظاہر کسی اور کی تفتیش کی بنیاد پر تیار کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ جہاں تک حکومت کے تعاون کی بات ہے تو یہ ان کا حق تھا اور اگر وزیراعلیٰ شہباز شریف یا کسی بھی عہدیدار کو طلب کیا جاتا تو ہم ضرورت پیش ہوکر اپنا مؤقف دینے کے لیے تیار تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ حالیہ رپورٹ میں وزیراعلیٰ شہباز شریف کے حوالے سے جو بات لکھی گئی ہے اس میں بھی تضاد پایا جاتا ہے، لہذا یہ بات بھی سمجھ سے بالاتر ہے کہ میرے ایفی ڈیوڈ کو پھر کیوں تسلیم نہیں کیا گیا۔

ترجمان نے کہا کہ یہ رپورٹ اتنی متصاد تھی کہ کہیں بھی ایسا محسوس نہیں ہورہا تھا کہ اس معاملے پر کوئی نتیجہ نکالا گیا ہو۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس رپورٹ کو عام کرنا قانون میں شامل ہی نہیں تھا اور ہم شروع دن سے یہی بات کرتے آئے ہیں کہ اس انکوائری کا مقصد یہ تھا کہ حکومت معلوم کرسکے کہ حقیقت کیا ہے، تاہم جب عدالت کا حکم تھا اس وجہ سے ہم نے اسے منظر عام پر لانے پر مزید کوئی قانونی چارہ جوئی نہیں کی اور نہ ہی کوئی اپیل دائر کی گئی۔

مزید پڑھیں: عدالت کا سانحہ ماڈل ٹاؤن کی انکوائری رپورٹ شائع کرنے کا حکم

ملک احمد خان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت بھی چاہتی ہے کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن میں ذمہ داروں کو سزا دی جانی چاہیے لیکن بدقسمتی سے ایک جانب یہ معاملہ عدالت میں ہے اور دوسری جانب اس کو سیاسی رخ دینے کے لیے دھرنے دیئے جارہے ہیں۔

واضح رہے کہ 17 جون 2014 کو لاہور کے علاقے ماڈل ٹاون میں تحریک منہاج القران کے مرکزی سیکریٹریٹ اور پاکستان عوامی تحریک (پی اے ٹی) کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری کی رہائش گاہ کے سامنے قائم تجاوزات کو ختم کرنے کے لیے آپریشن کیا گیا تھا۔

آپریشن کے دوران پی اے ٹی کے کارکنوں کی مزاحمت کے دوران ان کی پولیس کے ساتھ جھڑپ ہوئی جس کے نتیجے میں 14 افراد ہلاک ہو گئے تھے جبکہ 90 کے قریب زخمی بھی ہوئے تھے۔

بعدازاں حکومت نے اس واقعے کی انکوائری کروائی، تاہم رپورٹ کو منظرعام پر نہیں لایا گیا، جس کا مطالبہ سانحے کے متاثرین کے ورثاء کی جانب سے متعدد مرتبہ کیا گیا۔

رواں برس اگست میں سانحہ ماڈل ٹاؤن میں جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین اور زخمیوں کی جانب سے لاہور ہائی کورٹ میں جسٹس باقر نجفی کی انکوائری رپورٹ منظر عام پر لانے کے لیے درخواست دائر کی تھی۔

ان افراد کی جانب سے دائر کردہ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ 2014 میں ہونے والے ماڈل ٹاؤن سانحے کی تحقیقات کے لیے قائم کمیشن نے انکوائری رپورٹ مکمل کرکے پنجاب حکومت کے حوالے کردی تھی، جسے منظرعام پر نہیں لایا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: سانحہ ماڈل ٹاؤن میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی جائے: طاہرالقادری

مذکورہ درخواست پر سماعت کے بعد 21 ستمبر کو لاہور ہائی کورٹ نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے حوالے سے جسٹس باقر نجفی کی رپورٹ کو منظرعام پر لانے کا حکم جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ جاں بحق ہونے والوں کے ورثاء اور زخمیوں کا حق ہے کہ انہیں اصل ذمہ داروں کا پتہ ہونا چاہیے۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کی جوڈیشل انکوائری رپورٹ عوامی دستاویز ہے، جوڈیشل انکوائری عوام کے مفاد میں کی جاتی ہے اور اسے عوام کے سامنے ہونا چاہیے۔

دوسری جانب پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری نے لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے سانحہ ماڈل ٹاؤن پر جسٹس باقر نجفی کمیشن کی انکوائری رپورٹ کو منظر عام پر لانے کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے واقعے میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔