پاکستان کے مایہ ناز لیگ اسپنر یاسر شاہ نے بھارتی ٹیم اور ان کے کپتان ویرات کوہلی کے خلاف ٹیسٹ اور ایک روزہ میچوں میں کھیلنے اور عمدہ کارکردگی دکھانے کی خواہش کا اظہار کردیا۔

میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے جادوگر لیگ اسپنر یاسر شاہ کا کہنا تھا کہ وہ اپنی ’گگلی‘ اور ’فلِپر‘ پر سخت محنت کر رہے ہیں اور پُر امید ہیں کہ اس کی مدد سے وہ ایک اور ریکارڈ اپنے نام کر لیں گے۔

یاسر شاہ نے کہا ’میں پاکستان کے لیے کھیلتے ہوئے اپنے ہر میچ میں عمدہ کارکردگی پیش کرنے کی کوشش کرتا ہوں اور پُر امید ہوں کہ میں تیز ترین 200 وکٹوں کا ریکارڈ اپنے نام کر لوں گا‘۔

لیگ اسپنر نے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی جانب سے کھلاڑیوں کی فٹنس کو ترجیحی بنیادوں پر رکھنے اور کھلاڑیوں کے لیے یو یو ٹیسٹ متعارف کرانے کے لیے بورڈ کی تعریف کی۔

مزید پڑھیں: بھارت سے سیریز: پاکستان کا آئی سی سی سے کمیٹی کے قیام کا مطالبہ

ان کا کہنا تھا کہ وہ صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے صوابی سے آئے ہیں اور وہاں پر کھلاڑیوں کی فٹنس کا خیال رکھنے کے لیے سہولیات مہیا نہیں ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ ابتداء میں اپنے مطلوبہ اہداف حاصل نہیں کر سکتے تھے تاہم جب انہیں سہولیات ملیں اور انہوں نے اپنے فٹنس ٹیسٹ دیئے تو انہوں نے وہ پاس بھی کیے۔

پاکستان کو ٹیسٹ کرکٹ میں متعدد فتوحات دلوانے والے لیگ اسپنر کا کہنا تھا کہ نئے کھلاڑیوں کی شمولیت سے ٹیم میں مستقل جگہ بنانے کے لیے سخت محنت کرنی پڑتی ہے۔

انہوں نے نوجوان اسپنر شاداب خان کی تعریف کرتے ہوئے کہا ’میں ان (شاداب خان) کی ایک روزہ اور ٹی ٹوئنٹی میچوں میں بہترین کارکردگی سے انتہائی خوش ہوں اور مجھے یقین ہے کہ وہ جلد ٹیسٹ میچوں میں بھی اسی طرح پرفارمنس دکھائیں گے‘۔

یہ بھی پڑھیں: سیریز سے انکار پر بھارت کو 60ملین ڈالر کا نوٹس

یاسر شاہ اس وقت قائدِ اعظم ٹرافی ٹورنامنٹ میں مصروف ہیں اور آسٹریلیا کی ڈومیسٹک ٹی ٹوئنٹی لیگ ’بِگ بیش‘ میں شرکت کے لیے جلد ہی آسٹریلیا روانہ ہو جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ بگ بیش کھیلنے کے لیے جارہے ہیں اور پُر امید ہیں کہ وہاں اچھی کارکردگی دکھا کر اس فارمیٹ میں بھی قومی ٹیم میں جگہ بنانے کی کوشش کریں گے۔

یاد رہے کہ یاسر شاہ ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں تیز ترین 100 وکٹیں مکمل کرنے والے مشترکہ طور پر دوسرے جبکہ ایشیائی باؤلروں میں پہلے نمبر پر ہیں۔

مزید پڑھیں: سیریز سے انکار: بھارت کے خلاف قانونی کارروائی کا اعلان

علاوہ ازیں یاسر شاہ تیز ترین 150 وکٹیں حاصل کرنے والوں کی فہرست میں مشترکہ طور پر دوسرے نمبر پر ہیں جبکہ لیگ اسپنر کو تیز ترین 200 وکٹوں کا ریکارڈ اپنے نام کرنے کے لیے 7 میچوں میں 35 وکٹیں درکار ہیں۔

یاسر شاہ کی بدولت پاکستان ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ویسٹ انڈیز ٹیم کو اسی کی سرزمین پر ٹیسٹ سیریز میں شکست دینے میں کامیاب ہوا تھا۔

یاسر شاہ اب تک 28 ٹیسٹ اور 17 ایک روزہ میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کر چکے ہیں جہاں انہوں نے بالترتیب 165 اور 18 وکٹیں حاصل کیں جبکہ وہ 2 مرتبہ ٹی ٹوئنٹی میچوں میں قومی ٹیم کی نمائندگی کر چکے ہیں لیکن اس فارمیٹ میں انہیں اب تک کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔