اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے لاپتہ افراد کے معاملے پر انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی)، ملٹری انٹیلی ایجنس (ایم آئی)، انٹیلی جنس بیورو (آئی بی)، فرنٹیئر کور (ایف سی) سمیت تمام متعلقہ حکام کو طلب کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کا اجلاس پارلیمنٹ میں ہوا، اجلاس کی صدارت نسرین جلیل نے کی، جس میں ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ بلوچستان نے لاپتہ افراد کے معاملے پر بریفنگ دی۔

بریفنگ کے دوران ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ بلوچستان کا کہنا تھا کہ ان کے صوبے سے اس وقت 136 افراد لاپتہ ہیں جبکہ لاپتہ افراد کی فہرست میں بعض نام غلط درج کئے گئے اور لاپتہ افراد کی فہرست میں درج 120 لوگوں کا کرمنل ریکارڈ موجود تھا۔

مزید پڑھیں: 'لاپتہ افراد کمیشن ملوث اداروں کو ذمہ دار ٹھہرانے میں ناکام'

ان کا کہنا تھا کہ لاپتہ افراد سے متعلق کمیشن کے سربراہ نے ان 120 افراد کے نام فہرست سے ختم کردیئے ہیں جبکہ لاپتہ افراد میں سے 27 افراد کی لاشیں ملیں اور لاپتہ افراد میں 104 افراد بازیاب ہوکر گھر واپس پہنچ گئے۔

ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ نے کمیٹی کو بتایا کہ گھروں کو واپس آنے والے افراد سے تفصیلات لینے کی کوشش کی گئی تاہم گھروں کو لوٹنے والوں نے بیان دینے سے انکار کردیا، اس لیے معلوم نہیں ہوسکا کہ ان لوگوں کو اٹھانے والے کون ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایک دو کیسز میں لاپتہ افراد کے لواحقین نے ایجنسیز پر الزام لگایا۔

یہ بھی پڑھیں: لاپتہ افراد معاملہ: سپریم کورٹ میں تفصیلی رپورٹ طلب

کمیٹی نے اجلاس کے دوران لاپتہ افراد کے معاملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کمیٹی کے رکن سینیٹر جہانزیب جمالدینی نے آئی ایس آئی، ایم آئی، آئی بی سمیت دیگر ایجنسیز کے متعلقہ حکام کو طلب کرنے کا مطالبہ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ لاپتہ افراد کے معاملے پر تمام متعلقہ حکام کو کمیٹی میں بلایا جائے۔

اس موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ آئی ایس آئی اور آئی بی کو سپریم کورٹ نے بھی بلایا لیکن کوئی پیش رفت نہیں ہوئی جبکہ اس معاملے پر پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ، دونوں ہی ناکام ہوچکی ہیں۔

مزید پڑھیں: لاپتہ افراد کے جرائم کی تفصیلات پیش کی جائیں: سپریم کورٹ

انہوں نے کہا کہ لوگوں کو اٹھانے والے ریاست کے اداروں سے طاقتور ہیں اور ’ریاست کے اندر ریاست بنی ہوئی ہے‘ جبکہ انہوں نے لاپتہ افراد سے متعلق کمیشن کو ختم کرنے کا مطالبہ بھی کردیا۔

ان کا کہنا تھا کہ کمیشن اپنا بنیادی کام کرنے میں ناکام ہو چکا ہے جبکہ اس معاملے پر نیا کمیشن تشکیل دیا جانا چاہیے اور ایجنسیز کے حکام کا بیان کچھ بھی ہو لیکن انہیں بلایا جائے۔

علاوہ ازیں کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ایجنسیز اور بازیاب افراد کو ان کیمرا اجلاس میں بلایا جائے گا جبکہ بازیاب افراد کو بلاکر ان کا موقف بھی معلوم کیا جائے گا اور ان سے پوچھا جائے گا کہ ان کو کس نے اٹھایا۔

یہ بھی پڑھیں: انسانی حقوق کمیشن کو لاپتہ افراد کی بڑھتی تعداد پر تشویش

کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ بازیاب ہونے والے افراد سے جرح بھی کی جائے گی اور اس کے بعد بازیاب افراد کا موقف سن کر ایجنسیز کو بلایا جائے گا، کمیٹی نے فیصلہ دیا کہ یہ بہت اہم معاملہ ہے کیونکہ اس معاملے پر ملک کی بدنامی ہو رہی ہے۔

بعد ازاں کمیٹی کی سربراہ نسرین جلیل نے کہا کہ ایجنسیز کے سامنے تمام حقائق رکھے جائیں گے اور کہیں گے کہ اب یہ سلسلہ رکنا چاہیے۔

اس موقع پر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ ’ہم سب کو پتہ ہے کہ اٹھانے والے کون ہیں لیکن ہم پبلک نہیں کرتے‘۔