وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے فیڈرل بورڈ آف ریوینیو (ایف بی آر) کے اعلیٰ افسران کو ہدایت کی ہے کہ کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ کی مدد سے نئے ٹیکس ادا کرنے والوں کو شامل کیا جائے اور ٹیکس ادائیگی کے نظام کو آسان بنایا جائے۔

ایف بی آر کی جانب سے مدعو کیے گئے 50 بڑے ٹیکس دہندگان سے خطاب کے دوران وزیراعظم نے ٹیکس دائرے کو بڑھانے پر زور دیا۔

اسلام آباد میں منعقد اجلاس میں افسران کی جانب سے ٹیکس وصولی کے لیے نئی حکمت عملی تشکیل اور رواں مالی سال ٹیکس آمدنی کا مجموعی ہدف حاصل کرنے کے لیے اقدامات پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے خزانہ ہارون اختر خان نے کہا کہ شاہد خاقان عباسی پہلے وزیراعظم ہیں جنہوں نے ایف بی آر کا دورہ کیا اور حکام سے براہ راست ملاقات کیں۔

یہ پڑھیں : موبائل صارفین کا ڈیٹا ایف بی آر کو دینے کی منظوری

ان کا کہنا تھا کہ ایف بی آر نے خود وزیراعظم کو دورے کی دعوت دی تھی۔

ہارون اختر نے بتایا کہ وزیراعظم ملک میں ٹیکس کمپلائنس کے موجودہ گراف سے خوش نہیں۔

ان کے مطابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ٹیکس کے دائرے میں 10 ہزار افراد کو شامل کرنا بڑی بات نہیں، اصل مسئلہ 80 لاکھ لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں لانا ہے۔

موجودہ اعداد وشمار کے مطابق اب تک صرف 12 لاکھ شہریوں نے ٹیکس ریٹرن جمع کرائے ہیں۔

وزیراعظم نے ایف بی آر حکام کو ہدایت دی کہ شناختی کارڈ کے ذریعے نان فائلرز کے خلاف گھیرا تنگ کیا جائے جو بینکنگ، یوٹیلٹی سروسز اور خرید و فروخت میں ٹرانزکشن کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : رواں مالی سال کا اقتصادی سروے جاری

وزیراعظم نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی اور نادرا کی مدد سے متعلقہ شہریوں کو نوٹس ارسال کیے جائیں۔

شاہدخاقان عباسی کا کہنا تھا کہ ایسے شہریوں کی تلاش مشکل ہے جو ٹیکس کی ادائیگی کے بغیر گھر یا کار کی خریدوفروخت کرتے ہیں۔

اجلاس میں ٹیکس ریفارمز کمیشن (ٹی آرسی ) نے ٹیکس اصلاحات پر مشتمل مفصل رپورٹ بھی وزیراعظم کو پیش کی۔

وزیراعظم نے ایف بی آر حکام پر زور دیا کہ وہ محصولات کے لیے نادرا، بینکس، صوبائی اداروں اور سروسز فراہم کرنے والے اداروں کے ساتھ مربوط رابطے قائم کریں۔

مزید پڑھیں : مالی سال 18-2017 میں پاکستان مالی طور پر مضبوط ہوگا: رپورٹ

ٹیکس وصولی کا دائرموثر بنانے کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ ٹیکس دہندگان اور ٹیکس کلکٹرز کے درمیان عدم اعتماد کو ختم کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔

وزیراعظم نے نومبر سمیت گزشتہ 4 مہینوں میں محصولات جمع کرنے میں اضافے پر ایف بی آر کی خدمات کو سراہا اور ہدایات دیں کہ ایف بی آر ٹیکس دہندگان کو خوف و ہراس میں مبتلا کیے بغیر ٹیکس جمع کرے۔


یہ خبر ڈان اخبار میں 7 دسمبر 2017 کو شائع ہوئی