اسلام آباد ہائی کورٹ نے قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے دائر ریفرنسز کو یکجا کرنے کے لیے سابق وزیراعظم نواز شریف کی اپیل مسترد کردی جبکہ ان ریفرنسز میں مشترکہ گواہان سے ایک ہی تاریخ کو جراح کرنے کی اجازت دینے کے احکامات جاری کر دیے۔

جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل اسلام آباد ہائی کورٹ کے ڈویژنل بینچ نے نواز شریف کی جانب سے نیب ریفرنسز کو یکجا کرنے سے متعلق درخواستوں پر فیصلہ سنایا۔

مذکورہ بینچ کے فیصلے میں کہا گیا کہ کسی بھی تعصب سے بچنے کے لیے درخواست گزار ٹرائل کورٹ سے مشترکہ گواہان سے جرح کرنے کی درخواست کر سکتا ہے یعنی کہ ایسے گواہان جو تینوں ریفرنسز میں یکساں ہیں انہیں ایک ہی تاریخ کو طلب کیا جاسکتا ہے تاکہ انہیں اپنے یکے بعد دیگرے بیان کے درمیان وقت کم سے کم یا پھر بالکل بھی حاصل نہ ہوسکے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق مذکورہ فیصلے میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے حکم جاری کیا ہے کہ ٹرائل کورٹ کو نیب کی جانب سے دائر تینوں ریفرنسز کا فیصلہ ایک ساتھ دینا ہوگا۔

مزید پڑھیں: شریف خاندان کے خلاف دائر تینوں ریفرنسز کو یکجا کرنے کی درخواست مسترد

اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلے میں یہ بھی کہنا ہے کہ کیونکہ سپریم کورٹ نے 28 جولائی 2017 کے فیصلے پر نواز شریف کی جانب سے دائر نظر ثانی کی دخواتست مسترد کردی تھی جبکہ عدالتِ عظمیٰ بھی تینوں ریفرنسز کو یکجا کرنے کی درخواست مسترد کر چکی ہے لہٰذا اسلام آباد ہائی کورٹ اس حوالے سے فیصلہ نہیں دے سکتا۔

عدالتی حکم نامے میں کہا گیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے پاس کورٹ آف اپیل کی حیثیت سے مخصوص دائرہ اختیار ہے۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے پاناما پیپرز کیس کے حتمی فیصلے میں دی گئی ہدایات کی روشنی میں قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے نواز شریف اور ان کے صاحبزادوں حسن نواز اور حسین نواز کے خلاف فلیگ شپ انویسمنٹ، ایون فیلڈ فلیٹس اور العزیزیہ اسٹیل ملز اور ہل میٹل اسٹیبلشمنٹ کی جائیداد کے حوالے سے 3 ریفرنسز دائر کیے گئے تھے جبکہ مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کا نام ایون فیلڈ ایونیو میں موجود فلیٹس سے متعلق ریفرنس میں شامل ہے۔

یہ بھی پڑھیں: نوازشریف کی سپریم کورٹ میں ریفرنسز یکجا کرنے کی درخواست

سپریم کورٹ نے نیب کو 6 ہفتوں کے اندر شریف خاندان کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کی ہدایت جاری کی تھی، تاہم نیب نے 8 ستمبر کو عدالت میں ریفرنسز دائر کیے تھے جس کے بعد 13 ستمبر کو ان ریفرنسز پر باقاعدہ کا آغاز ہوا تھا۔

یاد رہے کہ شریف خاندان کی جانب سے 19 اکتوبر کو ہونے والی سماعت میں اسلام آباد کی احتساب عدالت میں ایک درخواست دائر کی گئی تھی جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ نیب کی جانب سے دائر تینوں ریفرنسز کو یکجا کرکے کارروائی کا آغاز کیا جائے۔

درخواست میں کہا گیا تھا کہ چونکہ ان تینوں ریفرنسز میں الزامات، نیب کے قانون کی دفعات اور گواہان بھی ایک ہی ہیں لہٰذا انہیں یکجا کرکے کارروائی کی جائے تاہم عدالت نے اس درخواست کو مسترد کردیا تھا۔

سابق وزیراعظم نواز شریف نے مذکورہ درخواست کے مسترد ہونے کے فیصلے کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل کی تھی جسے عدالتِ عالیہ نے سماعت کے لیے منظور کر لیا تھا بعدِ ازاں عدالت نے 23 نومبر کو اس اپیل پر فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔