ملزم کو گرفتار کرلیا گیا —فوٹو: انڈین ایکسپریس
ملزم کو گرفتار کرلیا گیا —فوٹو: انڈین ایکسپریس

جے پور: بھارت کی ریاست راجستھان میں ہندوانتہاپسند نے ایک مسلمان مزدور کو کلہاڑیوں کے وار کرکے قتل کرنے کے بعد اس کی لاش کو آگ لگادی، جب کہ اس سارے واقعے کی ویڈیو ریکارڈ کرکے واٹس ایپ کے ذریعے وائرل کردی گئی۔

واقعے کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد علاقے میں انٹرنیٹ سروس معطل کردی گئی، جب کہ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے مرکزی ملوث کو گرفتار کرلیا۔

این ڈی ٹی وی کے مطابق ملزم کی شناخت شنبولال کے نام سے ہوئی، جسے پولیس نے حراست میں لے لیا، جب کہ واقعے کی ویڈیو ریکارڈ کرنے والے ملزم کے 14 سال بھتیجے کو بھی گرفتار کرلیا گیا۔

شنبولال نے مغربی بنگال سے تعلق رکھنے والے 45 سالہ مسلمان مزدور محمد افرازل کو پہلے کلہاڑیوں کے وار کرکے قتل کیا، پھر اس کی لاش کو آگ لگادی، جب کہ اس سے سارے واقعے کی ویڈیو ریکارڈ کرکے واٹس ایپ کے ذریعے وائرل کی۔

واٹس ایپ پر 2 مختصر ویڈیو شیئر کی گئیں، جن میں ملزم شنبو لال کو مسلمان مزدور کو قتل کرتے اور بعد ازاں اس کی لاش کو آگ لگاتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: گائے لے جانے والے 2 مسلمان تشدد کے بعد قتل

ویڈیوزمیں قاتل کی 11 سالہ بچی کو بھی دکھایا گیا تھا۔

قاتل نے مسلمان مزدور کو ’لو جہاد‘ کے الزام میں قتل کیا، ویڈیوز میں ملزم کی جانب سے لگائے جانے والے نعرے بھی سنے جاسکتے ہیں کہ انہوں نے اپنی ہندو خواتین کو ’لو جہاد‘ کے تحت مسلمان ہونے سے بچا لیا۔

خیال رہے کہ ’لو جہاد‘ کے تحت بھارت بھر میں مسلمانوں کے خلاف تشدد میں اضافہ ہوا ہے، ہندو انتہاپسندوں کا الزام ہے کہ مسلمان مرد ’لو جہاد‘ کے ذریعے ہندو خواتین سے شادی کرکے انہیں مسلمان ہونے پر مجبور کرتے ہیں۔

ادگر ریاستی وزیر داخلہ گلاب چند کتریا کے مطابق ملزم کو اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم (ایس آئی ٹی) نے گرفتار کیا، جب کہ وہ مسلمان شخص کو قتل کرنے، انہیں جلانے اور اس سارے واقعے کی ویڈیو بناکر اسے وائرل کرنے کے عمل کو دیکھ کر حیران رہ گئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں، ملزمان کو قانون کے مطابق سزا دی جائے گی۔