— شٹر اسٹاک فوٹو
— شٹر اسٹاک فوٹو

سائبر ورچوئل کرنسی بٹ کوائن کی قیمت پہلی بار 15 ہزار ڈالرز سے بھی تجاوز کر گئی ہے اور گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران اس کی قدر میں ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ انٹرنیٹ کی اس کرنسی نے گزشتہ روز پہلی بار پہلے 12 اور پھر 13 ہزار ڈالرز کا سنگ میل طے کیا تھا جبکہ بیس نومبر کو 8 ہزار ڈالرز کی حد عبور کرنے کے بعد سے اس کی قیمت میں انتہائی تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

مزید پڑھیں : 'ڈیجیٹل گولڈ' کی قیمت میں ریکارڈ اضافہ

یعنی اگر کسی نے کل 12 ہزار ڈالرز (12 لاکھ 64 ہزار سے زائد پاکستانی روپے) میں خریدا تو آج اس نے وہ 15 ہزار ڈالرز (لگ بھگ سولہ لاکھ روپے) میں فروخت کرکے لاکھوں روپے کا منافع کمالیا ہے۔

اور یہ تبدیلی صرف ایک دن کے اندر آئی ہے اور اس وقت اس ڈیجیٹل کرنسی کی قیمت ساڑھے 15 ہزار ڈالرز سے زائد (سولہ لاکھ چالیس ہزار پاکستانی روپے سے زائد) پر ٹریڈ ہورہی ہے۔

نومبر کے اختتام پر دس ہزار ڈالرز کا سنگ میل طے کرنے والی اس کرنسی کی قیمت میں ایک ہفتے کے دوران اتنا اضافہ ہوا ہے، وہ ناقابل یقین ہے، حالانکہ ماہرین اس کے آسمان سے زمین پر گرنے کا خدشہ ظاہر کرتے ہیں، مگر ایسا ہوتا نظر نہیں آرہا۔

اس سے بھی حیران کن بات یہ ہے کہ جنوبی کوریا میں اس کرنسی کی مقبولیت اتنی زیادہ بڑھ گئی ہے کہ وہاں اس کا ایک یونٹ انیس ہزار ڈالرز میں فروخت ہورہا ہے۔

بٹ کوائن کی موجودہ قیمت میں اضافے کی ممکنہ وجہ سی ایم ای، نیس ڈیک اور سی بی او ای جیسی اسٹاک مارکیٹوں کی جانب سے اس کرنسی کو فیوچر ٹریڈنگ کا حصہ بنانے کی اطلاعات ہیں۔

اس وقت اس کرنسی کی مجموعی مالیت 252 ارب ڈالرز سے زائد ہوچکی ہے اور دیگر ورچوئل کرنسیوں کے مالک افراد انہیں فروخت کرکے زیادہ سے زیادہ بٹ کوائن خریدنے کی کوشش کررہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : دنیائے انٹرنیٹ کی کرنسی

پہلے کہا جارہا تھا کہ یہ کرنسی رواں سال کے آخر میں دس ہزار ڈالرز کی حد عبور کرسکے گی مگر موجودہ تیزی کو دیکھ کر تو کہا جاسکتا ہے کہ 2017 کے اختتام پر یہ 20 سے 25 ہزار ڈالرز تک بھی پہنچ سکتی ہے، یہی وجہ ہے کہ اب بڑے ادارے بھی اب اس میں سرمایہ کاری کے لیے تیار ہیں۔

نومبر کے مہینے میں یہ کرنسی پہلے سات، آٹھ اور پھر نو اور دس ہزار کی حد پہلی بار عبور کرنے میں کامیاب ہوئی تھی جبکہ دسمبر میں اس نے گیارہ سے پندرہ ہزار کے ہندسے کو بھی چھولیا ہے۔

اس ڈیجیٹل کرنسی کی قیمت میں جنوری سے اب تک 15 سو فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا جاچکا ہے۔