پاکستان کرکٹ بورڈ(پی سی بی) نے ٹی ٹین لیگ کے حوالے سے مقامی اخبار میں شائع منفی رپورٹس پر مبنی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹی10 لیگ کے زیادہ تر مالکانہ حقوق پاکستانیوں کے پاس ہیں۔

پاکستان کے ایک مقامی اخبار میں ٹی ٹین لیگ سےمتعلق خبرشائع ہوئی جس میں پی سی بی پر الزام عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا گیا ہے کہ بورڈ نے قومی کھلاڑیوں کو ایک ایسی مشکوک لیگ میں کھیلنےکی اجازت دے دی ہے جس کے اکثر مالکانہ حقوق بھارت کے پاس ہیں۔

مذکورہ رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ پی سی بی نے سینٹرل کنٹریکٹ یافتہ تمام کھلاڑیوں کو لیگ میں شرکت کی اجازت دے دی ہے جس سے پاکستان سپر لیگ کے برانڈ پر منفی اثرات پڑنے کے امکانات ہیں اور ساتھ ساتھ یہ بھی کہا گیا کہ پی ایس ایل کے فرنچائز مالکابھی پی سی بی کے اس فیصلے سے متفق نہیں۔

پی سی بی نے تمام خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹی ٹین لیگ کےزیادہ ترمالکان پاکستانی ہیں اور مسلمان ہیں جبکہ ایک بھارتی مالک بھی مسلمان ہے اور اسے آئی سی سی کی منظوری حاصل ہے جس میں دنیا کے دیگرممالک کے کھلاڑی بھی کھیل رہے ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ پی سی بی نے لیگ کو اپنے اینٹی کرپشن یونٹ کے مکمل تعاون کا یقین دلایا ہے جبکہ سری لنکا اور بنگلہ دیش کے بورڈ نے بھی لیگ کی حمایت کی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہر ٹیم میں دونوں ملکوں کا ایک ایک کرکٹر شامل ہے۔

پی سی بی نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ بورڈ نے اپنے سینٹرل کنٹریکٹ یافتہ محض دس کھلاڑیوں کو لیگ میں شرکت کی منظوری دیتے ہوئے ٹی ٹین لیگ انتظامیہ سے اس کے بدلے چار لاکھ ڈالر فیس لی ہے جو ملک میں کرکٹ کے فروغ پر خرچ کی جائے گی۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے رپورٹ میں عائد الزامات کی سکتی سے مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان کرکٹ کی ساکھ پر حملہ ہے اور قومی مفاد کے منافی ہے۔