پولیس سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایم کیو ایم لندن کے کارکنوں کو پارٹی کے شہدا کی یاد میں کراچی اور حیدر آباد میں شہدا قبرستان جانے سے روک دیا۔

ایس ایچ اور عزیزآباد جمال لغاری نے ڈان کو بتایا کہ 'پولیس اور رینجرز کو تعینات کیا گیا تھا جہاں 50 کے قریب افراد نے آگے بڑھنے کی کوشش کی جن میں اکثریت خواتین کی تھی تاہم انھیں آگے جانے کی اجازت نہیں دی گئی'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'وہ شہدا قبرستان تک پہنچنے کی کوشش میں ناکام ہوئے'۔

ایم کیو ایم لندن کے کسی کارکن کی گرفتاری کے حوالے سے انھوں نے لاعلمی کا اظہار کیا۔

دوسری جانب حیدر آباد میں پولیس نے ایم کیو ایم لندن کی خواتین کارکنوں کو پکا قلعے کے قبرستان میں داخلے سے روک دیا۔

پولیس نے کارکنوں کو سخی عبدالوہاب شاہ جیلانی کے قبرستان کی جانب دھکیل دیا تاہم کسی قسم کے ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا جبکہ پولیس کی بھاری نفری قبرستان کے گرد تعینات رہی جس نے کارکنوں کو داخلے سے روکے رکھا۔

ایم کیو ایم لندن کے کارکنوں کو منتشر کیے جانے کے بعد حیدرآباد اور کراچی میں مذکورہ علاقوں میں ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی۔

یاد رہے کہ پولیس نے گزشتہ سال ایم کیو ایم لندن کے کارکنوں کو روکنے اور منتشر کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا تھا اور ہوائی فائرنگ کرنا پڑی تھی جبکہ کارروائی کے دوران کئی کارکنوں کو گرفتار بھی کرلیا تھا۔

حیدرآباد میں ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے کراچی، حیدرآباد اور دیگر علاقوں میں گزشتہ کئی برسوں میں جاں بحق ہونے والے کارکنوں کی یاد میں اسکاؤٹ کالونی میں فاتحہ خوانی کا اہتمام کیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ ایم کیو ایم ہر سال 9 دسمبر کو 9 دسمبر 1995 کو پارٹی کے بانی الطاف حسین کے بھائی ناصر حسین اور بھتیجے عارف حسین کے قتل کی یاد میں یوم شہدا مناتی ہے۔

ایم کیو ایم لندن نے ماضی کی طرح رواں سال بھی شہر میں طاقت کے مظاہرے کے لیے عزیز آباد کراچی میں واقع شہدا قبرستان جانے کا اعلان کیا تھا تاہم کسی قسم کے ناخوشگوا واقعے سے نمٹنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی بھاری نفری کو مختلف سڑکوں پر تعینات کیا گیا تھا۔