کراچی: پاکستان میں تعینات ایرانی سفیر مہدی ہنر دوست نے کہا ہے کہ آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ اور ایرانی صدر حسن روحانی کے مابین حالیہ ملاقات کی روشنی میں حالات ساز گار ہیں اور ان کے تناظر میں دونوں ممالک کے درمیان خوشگوار تعلقات کے لیے بہتر اور تیز انداز میں اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے دیگر ‘ممالک’ سے بہتر تعلقات قائم کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران پاکستان کو بجلی فروخت کرنے والا بڑا ملک بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

مہدی ہنر دوست نے ساتھ ہی شپنگ اور ایوایشن کے شعبوں کا ذکر بھی کیا۔

ڈان کو دیئے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک (پاکستان اور ایران) کے مابین تمام مذاکرات میں بہتر سرحدی انتظام کو ترجیح حاصل ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ مہینے پاکستان اور ایران کے درمیان سرحدی تنازعے کے باعث دونوں ممالک میں کشیدگی دیکھنے میں آئی تھی۔

یہ پڑھیں: ‘پاکستان اور ایران تعلقات دوبارہ بحال کرنے کیلئے تیار’

رواں برس ایران کی سرحدی فورسز نے پاکستانی سرحد پر چار مختلف مقامات سے مارٹرحملے کیے تھے جس پر پاکستانی حکام نے سخت احتجاج کیا تھا جبکہ ایران کا دعویٰ تھا کہ ان کی فورسز نے پاکستانی سرحدی حدود میں اندر چھپے دہشتگردوں کے ٹھکانوں پر حملے کئے۔

ایرانی سفیر نے واضح کیا کہ آرمی چیف قمر باجوہ کا ایران میں حالیہ دورہ مذکورہ واقعے کے تناظر میں تھا۔

انہوں نے کہا کہ ‘دہشت گرد سرحدوں پر قائم چیک پوسٹ کو بائی پاس کرکے ایران میں داخل ہو جاتے ہیں جیساکہ 7 ماہ قبل ہوا تھا جب دہشت گردوں نے ایرانی سرحد پر حملہ کیا اور ایک ایرانی سیکیورٹی اہلکار کو پاکستان کی سرزمین پر لے آئے تھے اور دیگر تمام ایرانی گارڈز کو قتل کردیا تھا’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ایرانی حکومت ہرگز ایسا نہیں سمجھتی کہ پاکستانی حکام کسی بھی قسم کی مذموم سرگرمیوں میں ملوث ہیں، تاہم دہشت گرد پاکستان اور ایران کے درمیان طویل سرحد کا فائدہ اٹھا کر اپنی دہشت گردی کی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں’۔

یہ بھی پڑھیں : 'ایران سی پیک کو بڑی صلاحیت کا حامل منصوبہ تصور کرتا ہے'

مہدی ہنر دوست نے اپنے انٹرویو میں بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو اور ملااخترمنصور کے حوالے سے بھی بات کی۔

واضح رہے کہ رواں برس مئی میں امریکی ڈرون حملے میں طالبان کے رہنماء ملا اخترمنصور کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ ایران کی حدود سے پاکستانی سرزمین میں داخل ہوئے تھے۔

بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو سے متعلق ایرانی سفیر نے کہا کہ ان کی حکومت نے بھارتی حکام سے کلبھوش کے معاملے پر باضابطہ احتجاج بھی کیا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ طالبان رہنما ملا اختر منصورکے حوالے سے ہمیں باریک بینی سے دیکھنا ہو گا کہ کوئی تیسری قوت ایسے فساد برپا کرنی چاہتی ہے اور وہ دونوں ممالک کے (پاکستان اور ایران) تعلقات کو خوشگوار نہیں دیکھنا چاہتی۔

جب نمائندہ ڈان نے ایرانی سفیر سے سوال پوچھا کہ ‘کیا ان کی حکومت اس بات سے واقف ہے کہ ملااختر منصور ایران میں کیا کررہے تھے؟’

مہدی ہنر دوست کا کہنا تھا کہ ‘سوال یہاں سے شروع ہونا چاہیے کہ ملااخترمنصور کو کس ملک نے پاسپورٹ جاری کیا’۔

مزید پڑھیں : ’افغان طالبان کے امیر ملا اختر منصور ہلاک‘

پاک ایران گیس پائپ لائن سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ معاہدے کی روح سے پاکستان کو اپنے حصے کا کام مکمل کرنا چاہیے جبکہ ایران اپنی سرزمین میں لائن ڈالنے پر 2 ارب ڈالر کی رقم خرچ کر چکا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ‘یہ وقت گیس کی قیمت پر بحث و مباحثے کا نہیں، پہلے پائپ لائن ڈالنے کا عمل مکمل کرلیا جائے تو قیمت کے تعین کا فیصلہ بھی ہوجائے گا’۔

پاک-ایران کشیدگی

رواں برس کے آغاز میں سعودی عرب کی قیادت نے دہشت گری کے خلاف 39 مسلم ممالک کی افواج کا اتحاد قائم کرنے کا اعلان کیا تھا، جس کا سربراہ پاکستان کے سابق چیف آف آرمی اسٹاف (ر) راحیل شریف کو مقرر کیا گیا تھا اور بعد ازاں پاکستانی وزرات دفاع نے اس بات کی تصدیق بھی کی، جس کے بعد ایران اور پاکستان کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا۔

ایران نے فوجی اتحاد پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا اور موقف اختیار کیا تھا کہ فوجی اتحاد میں شمولیت کے لیے ایران سے نہیں پوچھا گیا جبکہ مشرق وسطیٰ کے تین ممالک ایران، عراق اور شام دہشت گردی کا زیادہ شکار ہیں۔

اس حوالے سے پڑھیں : پاک۔ ایران گیس پائپ لائن میں اہم پیشرفت

گزشتہ مہینے نومبر میں جنرل قمر جاوید باجوہ نے ایران کے دورے کے دوران صدر حسن روحانی کو یقین دلایا تھا کہ پاکستان، ایران سے بہتر تعلقات کے فروغ کے لیے کوشاں رہے گا اور سعودیہ عرب کی قیادت میں بننے والے فوجی اتحاد سے پاکستان اور ایران کے تعلقات میں خلیج نہیں آئی گی۔

آرمی چیف کی وطن واپسی پر قومی سلامتی کونسل میں گیس اور آئل پائپ لائن منصوبے کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ آمادگی کا اظہار کیا گیا کہ پاکستان اقتصادی اور قومی مفاد کے تناظر میں منصوبے کی تکمیل پر فوری عمل کرے گا۔

ایرانی سفیر مہدی ہنر دوست نے تصدیق کی کہ پائپ لائن سے متعلق پاک-ایران مذاکرات میں تازہ معاہدے نہیں ہوئے اور زور دیا کہ ‘منصوبے کی تکمیل کا مرحلہ پاکستان کے سر ہے’۔


یہ خبر 10 دسمبر 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی