کراچی: پولیس نے ملیر کے علاقے سعود آباد میں مبینہ طور پر دوران ڈکیتی قتل کی واردات کا معمہ حل کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے اعلان کیا کہ بڑی بہن اپنی سگی چھوٹی بہن کے قتل میں ملوث ہے۔

کراچی میں پریس کانفرنس کے دوران ایس ایس پی کورنگی نعمان صدیقی نے سعود آباد میں قتل کے واقعے میں ہونے والی تحقیقات میں پیش رفت سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ بڑی بہن نے اپنے دوستوں کی مدد سے چھوٹی بہن کو قتل کرنے کا اعتراف کرلیا ہے جبکہ اس سے قبل ملزمہ نے واقعے کو ڈکیتی کی واردات کے دوران مزاحمت پر قتل ثابت کرنے کی کوشش کی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ ملزمہ علوینہ نے اعتراف کیا کہ اس کے دوستوں نے مقتولہ علینہ کو پکڑا اور ملزمہ نے چھری سے اپنی سگی بہن کا گلا کاٹ کر اسے قتل کیا۔

مزید پڑھیں: کراچی: چاقو کے وار سے ایک بچی قتل، بہن زخمی

ایس ایس پی کورنگی نے بتایا کہ ملزمہ نے مقتولہ اور اس کے ایک دوست پر الزام لگایا کہ وہ اس کے ساتھ زیادتی کررہے تھے اور اس کی نازیبا ویڈیوز اور تصاویر کے ذریعے سے بلیک میل کررہے تھے۔

ملزمہ نے الزام لگایا کہ ایک سال قبل اس کی چھوٹی بہن کی جانب سے گھر میں بنائی گئی اس کی نازیبا ویڈیو اور تصاویر سے متعلق بلیک میلنگ کی جارہی تھی جو اس نے مبینہ طور پر اپنے دوست کو دے دیں تھی اور وہ ملزمہ کو متعدد مرتبہ بلیک میل کرچکا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ علوینہ نے پہلے بہن کے دوست کو قتل کرنے کا فیصلہ کیا تھا تاہم وہ ایسا نہ کرسکی۔

پریس کانفرنس کے دوران واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ والد کی کم آمدنی کے باوجود بچوں کے پاس جدید موبائل فون موجود تھے، والدین بچوں کواسمارٹ فون دیتے ہیں لیکن خطرات نہیں بتاتے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں سوچنا چاہیے کہ معاشرہ کہاں جارہا ہے جبکہ واقعے کے دیگر ملزمان کے حوالے سے سینئر پولیس افسر نے بتایا کہ گرفتار ملزمان جیولری کی شاپ پر سیلز مین کا کام کرتے ہیں۔

یہ بھی دیکھیں: کراچی میں لڑکیوں پر چاقو سے حملے

بعد ازاں ملزمہ علوینہ نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کے دوران سگی بہن کو قتل کرنے کا اعتراف کرتے ہوئے مقتولہ پر الزام لگایا کہ وہ اور اس کا دوست اس کو بلیک میل کررہے تھے۔

خیال رہے کہ 3 روز قبل کراچی کے علاقے سعود آباد میں ایک مبینہ ڈکیتی کی واردات کے دوران 16 سالہ علینہ ہلاک اور اس کی بڑی بہن زخمی ہوگئی تھی۔

پولیس کا اس واقعے کے حوالے سے کہنا تھا کہ واردات کے حوالے سے بڑی بہن کے بیان میں تضاد ہے تاہم تفتیش کی جارہی ہیں اور جلد اصل ملزمان تک پہنچ جائیں گے۔