لاہور: پنجاب کی صوبائی حکومت نے بالاخر ایک دہائی بعد اقتصادی رپورٹ 2017 جاری کردی، جس میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے لحاظ سے ملازمتوں کے زیادہ مواقع فراہم کرنے کے ذریعے زائد آمدنی پر زور دیا گیا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پنجاب اقتصادی رپورٹ میں پاک چین اقصادی راہداری کو ملک اور عام طور پر پنجاب کی طویل مدتی ترقی کے لیے ممکنہ تناظر میں پیش کیا گیا جبکہ رپورٹ میں تسلیم کیا گیا کہ آبادی اور جغرافیائی علاقوں کے بعض حصوں، خاص طر پر جنوبی علاقوں کی تاریخی طور پر کم توجہ دی گئی تاہم محروم علاقوں کے لیے ترقیاتی اخراجات میں اضافہ، اس عدم توازن کو کم کرسکتا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ ایک بہتر زندگی کے لیے بہتر روزگار کا ہونا ضروری ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ پنجاب کی معیشت کو بڑھتے آبادی کے تناسب کے لحاظ سے کافی تعداد میں ملازمتیں فراہم کرنی ہوں گی۔

رپورٹ کے مطابق نجی سیکٹر پنجاب کی تقریباً 90 فیصد خدمات اور سامان کی پیداوار کرتا ہے اور یہ معیشت میں اہم کھلاڑی ہے، اسی طرح پنجاب حکومت اقتصادی ماحول کو بہتر بنانے اور نجی شعبے کی صلاحیتوں میں اضافے کا مقصد رکھتی ہے۔

مزید پڑھیں: پنجاب کے بے روزگار نوجوان انسانی اسمگلرز کا آسان ہدف

نامور معاشی ماہرین کا خیال ہے کہ صوبائی حکومت کو بڑی فصلوں خاص طور پر کپاس کی پیداوار کو بڑھانے پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے، ساتھ ہی بے روز گاری پائیدار ترقی کی راہ میں ایک اہم چیلنج اور رکاوٹ ہے۔

رپورٹ جاری کرنے کے موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر حفیظ پاشا نے کہا کہ میں اب بھی یہی سجھتا ہوں کہ زراعت پنجاب کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور اس کی 70 فیصد صنعت زرعی بنیاد پر ہے جبکہ 50 فیصد ہول سیل اور ریٹیل جبکہ تجارت زرعی اشیاء پر مبنی ہے، اسی طرح 60 فیصد ٹرانسپورٹ کی نقل و حمل بھی زرعی اشیاء سے متعلق ہے لہٰذا مجموعی طور پر پنجاب کی معیشت میں زراعت 45 فیصد براہ راست یا بالواسطہ کردار ادا کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب کی حکومت نجی سرمایہ کاری کو دوگنا کرنے کے لیے ترقی کی شرح میں 7 سے 8 فیصد تک پہنچانے کا ارادہ رکھتی ہے، جو 10 لاکھ نوجوانوں کو ملازمتیں دینے اور صوبائی جی ڈی پی کے پلان میں سالانہ صوبائی ترقیاتی منصوبے کو 3.5 فیصد تک بڑھنا چاہتا ہے، جس سے جی ڈی پی کے 3.5 فیصد تک ترقیاتی اخراجات کو دوگنا کرنے میں کامیابی ملی ہے۔

انہوں نے کہا کہ خوشی کی بات یہ ہے کہ پنجاب کی معیشت نے پہلے 5 فیصد شرح نمو حاصل کی جو گزشتہ 10 برسوں میں سب سے زیادہ ہے، اس کے بعد 5.5 فیصد شرح نمو کو عبور کیا جو 11 برسوں کی بلند شرح ہے اور اب صوبہ 6 فیصد ترقی کی شرح کے قریب ہے۔

تاہم انہوں نے بے روزگاری کو سب سے خطرناک قرار دیتے ہوئے حکومت کو تجویز دی کہ وہ اس حوالے سے اقدامات کرے۔

انہوں نے کہا کہ آپ کو یہ سن کر حیرانی ہوگی کہ پنجاب کے 10 لاکھ نوجوان لڑکے بے روزگار ہیں جبکہ 30 لاکھ نوجوان بیکار ہیں جو نہ تو پڑھتے ہیں اور نہ ہی کہیں کام کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ 40 لاکھ نوجوان لڑکے بے روزگار ہیں، جس میں 50 فیصد کا تعلق جنوبی پنجاب سے ہے، جو ایک خطرے کی گھنٹی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 'سی پیک سے انتہاپسندی، غربت اور بے روزگاری کا خاتمہ ہوگا'

اس موقع پر بین الاقوامی ترقی مرکز کے ڈائریکٹر ڈاکٹر اعجاز نبی نے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ کی تعریف کی کہ انہیں پنجاب گروتھ اسٹریٹجی ( پی جی ایس) 2018 اور پنجاب اقتصادی رپورٹ 2017 کی تیاری کا موقع دیا گیا تاکہ یہ سمجھا جاسکے کہ آیا صوبہ اپنے مقاصد کو حاصل کرنے کی راہ پر ہے یا نہیں۔

تقریب میں صوبائی وزیر خزانہ ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا نے شہریوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرنے کے لیے صوبے کی اہمیت پر زور دیا، انہوں نے ثبوت پر مبنی پالیسی سازی کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ یہ اندازہ تھا کہ یہ رپورٹ اسٹریٹجک ترقیاتی مقاصد کے فروغ میں فائدہ مند ثابت ہوگی۔