تھر کی لازوال فنکارہ ، مائی بھاگی

07 جولائ 2013

ای میل

مائی بھاگی، ویڈیو عکس
مائی بھاگی، ویڈیو عکس

جو لوگ راجستھان یا تھر کی موسیقی میں دلچسپی رکھتے ہیں وہ برصغیر کی عظیم لوک فنکارہ مائی بھاگی سے بھی واقف ہوں گے۔ تھر کی کوئل مائی بھاگی کی آج ستائیسویں برسی منائی جارہی ہے۔

تھر کی کوئل مائی بھاگی، تھرپارکر کے ضلع ڈیپلو میں سن چالیس کے عشرے میں پیدا ہوئیں۔ وانہیون فقیر ان کے والد اور خدیجہ مگنہار ان کی والدہ تھیں اور یہ دونوں اپنے عہد کے ممتاز لوک گلوکار تھے۔

مائی بھاگی کو بھاگ بھری ( خوش نصیب) کا نام بھی دیا گیا ۔ انہوں نے کم عمری سے ہی اپنے والدین کے ساتھ آواز سے آواز ملائی۔ وہ اپنے والدین کے ساتھ شادیوں اور تہواروں میں اپنے فن کا مظاہرہ کرتی رہیں۔

ان کا نام 1968 میں اس وقت منظرِ عام پر آیا جب بھلوا ( ماروی کے گاؤں) میں منعقدہ جشنِ ماروی کی ایک تقریب میں انہوں نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ اسی سال شیخ غلام حسین نے انہیں ریڈیو پاکستان حیدرآباد اور پاکستان ٹیلی ویژن پر گانے کیلئے بلایا۔ شیخ غلام حسین بین الاقوامی شہرت یافتہ لوک فنکارہ ، عابدہ پروین کے شوہر تھے۔

سولہ برس کی عمر میں ان کی شادی ہوتھی فقیر سے ہوگئی جو تھرپارکر کے ضلعے اسلام کوٹ کے ممتاز لوک فنکار تھے۔ مائی بھاگی نے تھر کے ایک اور مشہور گلوکار استاد مراد فقیر کےساتھ مختلف زبانوں میں گانے گئے جن میں سرائیکی، مارواڑی، سندھی اور برصغیر کی دیگر زبانیں شامل ہیں۔

اس کے بعد ان کی شہرت پاکستان کے طول و عرض میں پھیل گئی اور یہاں سے نکل کردنیا کے دیگر علاقوں تک جاپہنچی۔

ان کی وجہ شہرت جو گانا بنا وہ ' کھڑی ہوں نیم کے نیچے تان ہیکلی' تھا۔ یہ گانا ان لوگوں نے بھی پسند کیا جو زبان سے ناواقف تھے۔

موسیقی کے میدان میں ان کی شاندار خدمات کے نتیجے میں انہیں 1981 میں  پرائڈ آف پرفارمنس دیا۔ اسی طرح ریڈیو پاکستان سے شاہ عبدالطیف بھٹائی ایوارڈ، قلندر لعل شہباز اور سچل سرمست ایوارڈ کے علاوہ درجنوں اعزازات اور انعامات دیئے گئے۔

سات جولائی 1986 کو جب انہوں نے حج کا ارادہ کیا تو مائی بھاگی نے زندگی کی آخری سانسیں لیں اور یہ صحرا میں گونجتی یہ آواز خاموش ہوگئی۔

انہوں نوکوٹ میں مشہور صوفی بزرگ رضی شاہ کے پہلو میں دفن کیا گیا .

معروف براڈکاسٹر اور ریڈیو پاکستان حیدرآباد کے سٹیشن ڈائریکٹر نصیر مرزا نے ڈان ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے مائی بھاگی کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے مائی بھاگی کے انتقال سے چند ماہ قبل ان کا آخری نایاب انٹرویو ریکارڈ کیا تھا۔