کراچی: پولیس کا احتجاج کرنے والے اساتذہ پر لاٹھی چارج،متعدد گرفتار

اپ ڈیٹ 25 دسمبر 2017

ای میل

— فوٹو: ڈان نیوز
— فوٹو: ڈان نیوز

کراچی پولیس کی جانب سے احتجاج کرنے والے اساتذہ کو وزیر اعلیٰ ہاؤس کی طرف جانے سے روکنے کے لیے لاٹھی چارج، آنسو گیس اور واٹر کینن کا بے دریغ استعمال کیا گیا۔

اساتذہ اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج کر رہے تھے جن میں سے چند کو پورا کرنے کے لیے صوبائی انتظامیہ پہلے ہی رضامندی ظاہر کر چکی ہے۔

پولیس کی کارروائی کے دوران کئی افراد کو گرفتار بھی کیا گیا۔

مطالبات کے حق میں احتجاج ریکارڈ کرانے کے لیے سیکڑوں اساتذہ کراچی پریس کلب پہنچے اور وہاں سے آگے جانے کی کوشش کی، تاہم اطراف کی سڑکوں پر پولیس پہلے سے تعینات تھی اور وزیر اعلیٰ ہاؤس جانے والے راستے کو رکاوٹیں لگا کر بند کردیا گیا تھا۔

مظاہرین نے رکاوٹیں ہٹا کر آگے بڑھنے کی کوشش کی تو پولیس کی جانب سے ان پر لاٹھی چارج کیا گیا جبکہ آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال بھی کیا گیا، جس سے خواتین سمیت متعدد اساتذہ زخمی ہوئے۔

— فوٹو: ڈان نیوز
— فوٹو: ڈان نیوز

سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس پی) صدر توقیر محمد نعیم نے ڈان کو بتایا کہ مظاہرین نے ریڈ زون کے علاقے میں احتجاج کرکے پولیس کو ایکشن لینے پر مجبور کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’شروعات میں پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے واٹر کینن کا استعمال کیا، تاہم جب مظاہرین نے اہلکاروں پر مبینہ طور پر پتھروں سے حملہ کیا اور موبائل وینز کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تو پولیس کو مجبوراً لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا سہارا لینا پڑا۔‘

انہوں نے کہا کہ کارروائی کے دوران 20 سے 25 اساتذہ کو حراست میں بھی لیا گیا۔

مزید پڑھیں: بلاول چورنگی پر گنے کے کاشتکاروں پر پولیس کا بدترین لاٹھی چارج

تاہم ’آل سندھ پرائمری ٹیچرز ایسوسی ایشن‘ کے مرکزی رہنما جاوید احمد کا ڈان سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ انہیں 70 سے 80 دیگر اساتذہ سمیت آرٹلری میدان تھانے میں حراست میں رکھا گیا، جبکہ متعدد دیگر اساتذہ کو مختلف تھانوں میں رکھا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم نے اپنے 16 نکاتی مطالبات پورے کرانے کے لیے مارچ کا آغاز کیا، جن میں سے چند کو صوبائی انتظامیہ نے مان بھی لیا ہے لیکن ان پر عملدرآمد نہیں کیا گیا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’مارچ کا 10 دسمبر کو بھٹ شاہ میں شاہ عبدالطیف بھٹائی کے مزار سے آغاز ہوا جو کئی شہروں سے گزرنے کے بعد پیر کو کراچی پریس کلب پہنچا۔‘

متعلقہ حکام نے اساتذہ کو کمشنرز آفس میں مذاکرات کی دعوت دی تاہم فریقین مسائل کے حل کے لیے متفق ہونے میں ناکام رہے۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی میں اساتذہ کا احتجاج اور دھرنا، متعدد مظاہرین گرفتار

جاوید احمد کا کہنا تھا کہ ’مذاکرات میں ناکامی کے بعد جب ہم پریس کلب پہنچے تو پولیس نے ہمیں حراست میں لے لیا، جبکہ متعدد کو شدید زدو کوب کیا گیا۔‘

انہوں نے کہا کہ ’پولیس کی جانب سے تشدد اور لاٹھی چارج کے بعد ہم نے مطالبات پورے ہونے تک بھوک ہڑتال کا فیصلہ کیا ہے۔‘