کراچی کی پارسی کالونی میں رواں ماہ کے اوائل میں ایک اسکول پرنسپل کے قتل میں مبینہ سہولت فراہم کرنے والے ایک پولیس اہلکار کو گرفتار کرلیا گیا۔

مقتولہ عنبرین فاطمہ کو مبینہ طور پر ان کے شوہر علی الحسن نے 10 دسمبر کو گولی مار کرقتل کردیا تھا جس کا ابتدائی مقدمہ ڈکیتی کی واردات کے طور پر درج کیا گیا تھا۔

پولیس نے علی الحسن اور ان کی دوسری بیوی سحر شمس اور ان کے بھائی بالاچ کو گرفتار کرلیا تھا جنھیں تفتیش کے لیے 28 دسمبر تک پولیس کے حوالے کیا گیا تھا۔

تاہم اب پولیس نے ایک اہلکار بلال کو قتل میں ملوث ہونے کے شبہے میں گرفتار کرلیا ہے جو سحرشمس کے بھائی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:کراچی: پرنسپل کے قاتل کامعمہ حل، شوہر گرفتار

ڈان کو سولجربازار کے اسٹیشن ہاؤس افسر (ایس ایچ او) نے بتایا کہ پولیس نے بلال سے پستول بھی برآمد کرلیا ہے جو ممکنہ طور پر قتل کے واقعے میں استعمال ہوا تھا۔

پولیس ذرائع کا کہنا تھا کہ ایک اور پولیس افسر دانش اور ان کے والد گل نواز کی گرفتاری کے لیے چھاپہ مارا گیا لیکن وہ فرار ہو چکے تھے۔

ملزم سے برآمد ہونے والے پستول کے حوالے پولیس کا کہنا تھا کہ یہ پستول نواز کا ہے جن کے بیٹے نے ساتھی اہلکار بلال کو دیا جس کو انھوں نے سحر تک پہنچایا اور انھوں نے اپنے شوہر کو دے دیا۔

پولیس کا ماننا ہے کہ عنبرین کا قتل ان کے شوہر کی دوسری خفیہ شادی کا نتیجہ ہے کیونکہ سحر شمس اپنی شادی کو عام کرنا چاہتی تھی۔