’ننھے شہیدوں‘ کے والدین کو بڑی بڑی باتیں نہیں انصاف چاہیے

31 دسمبر 2017

ای میل

بڑھا چڑھا کر باتیں کرنے میں ہمارا کوئی ثانی نہیں۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ ہمارے ہاں کوئی بھی سیاسی مارچ چھوٹا نہیں ہوتا بلکہ ہر مارچ میں حاضرین کی کم از کم تعداد دس لاکھ تو ہوتی ہے، ہر منصوبہ گیم چینجر کی حیثیت رکھتا ہے، پھر چاہے وہ توانائی کا منصوبہ ہو، پبلک ٹرانسپورٹ کا ہو یا پھر کسی سڑک یا ایک ڈسپنسری کا ہی منصوبہ کیوں نہ ہو، اور ہاں وہ منصوبہ تاریخ ساز ترقی اور قوم کا مقدر بدلنے کا ضامن بھی ضرور ہوتا ہے۔ بڑی بڑی باتیں کرنا حقیقتاً ہمارا قومی خاصہ بن چکا ہے، اور یہ بھی کہنے میں کوئی حرج نہیں کہ جو لوگ ان بڑی بڑی باتوں میں شامل ہوتے ہیں اب وہ بھی بالکل ہماری طرح ان بڑی بڑی باتوں پر یقین نہیں کرتے۔

لیکن کبھی کبھار صرف دمدار الفاظ ہی کافی نہیں ہوتے، جس طرح 16 دسمبر 2014ء کو ہونے والے آرمی پبلک اسکول حملے کا واقعہ۔ بلاشبہ یہ واقعہ ہماری تاریخ کا سیاہ ترین باب تھا؛ ایسا واقعہ جو معصوم لوگوں کے قتلِ عام کے واقعات اور مظالم سہنے کی عادی بن چکی قوم کے لیے بھی اب تک کا سب سے زیادہ ہیبتناک دہشتگرد حملہ تھا۔ اس حملے کے بعد ہم نے چند دل سے عہد کیے تھے کہ ہم بدلہ لیں گے، معصوم بچوں کے ساتھ انصاف ہوگا، اور اس واقعے کو کبھی نہیں بھولیں گے۔

عملی اقدام بھی اٹھائے گئے: ضربِ عضب، جو پہلے سے جاری تھا لیکن واقعے کے بعد اس آپریشن پر اُٹھائی جانے والی مدھم آوازیں بھی خاموش ہو گئی تھیں۔ دہشتگردی میں ملوث ملزمان کا مقدمہ چلانے کے لیے ملٹری کورٹس قائم کی گئیں اور قومی ایکشن پلان مرتب کیا گیا۔ ملٹری کورٹس اور آغاز سے قبل ہی سرد خانے کے حوالے ہونے والے قومی ایکشن پلان کس حد تک کارگر ثابت ہوئے، اس پر طویل بحث و مباحثے ہوچکے ہیں، مگر ہم اس پر غور نہیں کریں گے۔

3 سال ہوگئے اُنہیں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے، جنہوں نے ہمارے مطابق اپنی جان دے کر قربانیاں دیں اور جنہیں ہم اپنے ننھے شہید پکارتے ہیں، اور اگر ہم سے کوئی ایسی اصطلاح اور اس سے اخذ ہونے والے معنی سے مطمئن نہیں ہے، تو دراصل ان کا مقصد بھی ان والدین کو تھوڑا دلاسا دینا ہے جن کے بچے اب صرف تصاویر اور یادوں میں محفوظ ہیں۔ چند کے نزدیک، شاید یہی چیز تھوڑی راحت کا باعث بنتی ہو، لیکن کئی دیگر کے لیے یہ راحت کم ترین ثابت ہوتی ہے، اور یہی وجہ ہے کہ وہ یہ سب دے چکے ہیں: گانے، ٹیبلوز اور وعدے۔

آپ شاید سوال کریں کہ اور کیا بھی کیا جا سکتا ہے؟ ہم ان بچوں کو تو واپس نہیں لاسکتے؛ ہم وقت میں پیچھے نہیں جا سکتے اور ان کی جانیں بچانے کے لیے خود ڈھال بن کر کھڑے نہیں ہوسکتے۔ تو پھر آخر ہم کر کیا سکتے ہیں؟

ہم سن سکتے ہیں۔ ہم اے پی ایس کے اُن بچوں کے والدین کی آوازوں میں اپنی آواز شامل کرسکتے ہیں، جب وہ والدین اپنا واحد مطالبہ سامنے رکھتے ہیں، اور بار بار رکھتے ہیں کہ اس حملے کے حوالے سے ایک سرکاری سطح پر جانچ ہونی چاہیے، لیکن کچھ حاصل نہیں ہوا۔ پھر جس موجودہ جانچ رپورٹ کا ہمیں بتایا جاتا ہے اسے منظر عام پر لایا جائے۔ 14 سالہ بیٹا کھونے والی ماں، شہانہ عاجون ہم سے یہی مطالبہ کرتی ہیں۔ 16 دسمبر کو شایع ہونے والے ایک مضمون میں وہ کہتی ہیں کہ ان کے کسی بھی سوال کا اب تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

والدین کے ساتھ ایک جانچ رپورٹ کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن جب وہ خیبر پختونخوا حکومت کے پاس یہ مطالبہ لے کر پہنچے تو انہیں بتایا گیا کہ رپورٹ تو موجود ہے لیکن اسے سیکیورٹی وجوہات کی بناء پر جاری نہیں کیا جاسکتا۔ جب والدین وفاقی حکومت کے پاس پہنچے تو اُنہیں بتایا گیا کہ چونکہ اے پی ایس فوج کے زیرِ انتظام چلنے والا اسکول ہے لہٰذا اس پر ان کا کوئی اختیار نہیں۔

شہانہ کہتی ہیں کہ واقعے کے چند ماہ بعد، اُن کی اور دیگر والدین کی طرف سے شدید انداز میں مطالبہ کرنے پر اُنہیں ایک بریفنگ میں مدعو کیا گیا جہاں افسران نے بقول اُن کے اے پی ایس کے مردہ حملہ آواروں اور اُن کے سہولت کاروں کی تصاویر دکھائی تھیں۔

اس موقعے پر ایک والد اُٹھ کھڑے ہوئے اور کہا کہ وہ یہ تصاویر پہلے بھی دیکھ چکے ہیں، بلکہ ان میں سے چند تو ان دہشتگردوں کی تصویریں ہیں جنہوں نے باچا خان ایئر پورٹ پر حملہ کیا تھا۔

شہانہ پوچھتی ہیں کہ، ’کیا ہمیں بے وقوف بنایا جارہا ہے؟‘ وہ کہتی ہیں کہ وہ صرف یہ چاہتی ہیں کہ کوئی منظرِ عام پر آئے اور کہے، ’جی ہاں، چونکہ میں اس کرسی پر بیٹھا ہوں، آپ کے بچوں کو تحفظ فراہم کرنا میری ذمہ داری تھی، میں اِس میں ناکام ہوا۔ ‘

اگر آپ یہ سوچ رہے ہیں کہ یہ مطالبے اب جا کر کیوں کیے جارہے ہیں، تو جان لیجیے کہ یہ مطالبے روزِ اول سے کیے گئے۔ واقعے کے دو ماہ بعد، والدین نے اسکول کے باہر احتجاج کیا، جس میں اُنہوں نے دعوی کیا کہ انہیں تحقیقات سے دور رکھا جا رہا ہے اور عدالتی جانچ کا مطالبہ کیا۔ انہیں صرف تسلیاں دی گئیں، اور ہر دوسرا احتجاج پچھلے سے کم توجہ حاصل کرتا چلا گیا، بلکہ احتجاج کو تقریباً پریشانی کے طور پر لیا جانے لگا۔ ایک پریشان کن سچ جو ریاست کے بڑے بڑے دعوؤں کو جھوٹا ثابت کرتا ہے۔

دہشتگردوں کے اُس ظلم پر ہمارا ردِعمل بھی بناوٹی نہیں تھا۔ دہشت، غصہ اور مایوسی، سب کچھ حقیقی تھا، اور اِن 3 برسوں میں بھی اس میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔ ہمارے تب بھی آنسوں بہے تھے اور آج بھی بہتے ہیں اور اگر ہمیں اِس درد کا اِس قدر احساس ہے تو کیا ہم اُن بچوں کے والدین کا درد تصور کرنے کی بھی ہمت جُٹا سکتے ہیں؟ اور کیا پھر ہم یہ بھی تصور کرسکتے ہیں کہ اُنہیں اب تک اپنے سوالوں کے جواب نہیں ملے؟ اور یہ کہ اُنہیں فقط بڑی بڑی تقریبات اور بڑے بڑے وعدوں سے مطمئن کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

اگر ہم ان لوگوں کے ساتھ ایسا سلوک کرتے ہیں جو ہمارے لیے سب سے زیادہ قابلِ احترام ہیں، تو پھر ہمیں اِس پر بھی حیران ہونے کا دکھاوا نہیں کرنا چاہیے جب بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے اسکینڈل کے متاثرین یہ شور مچائیں کہ ہم سے انصاف نہیں ہوا، اور اِس ناانصافی کے خلاف اُن کے پاس خود کو پنجاب اسمبلی کے باہر خود کو جلانے کے سوائے اور کوئی آپشن نہیں بچتا ہو۔ ہم اُن سے کہہ بھی کیا سکتے ہیں جب ہمارے اندر عزم نام کی کوئی چیز ہی نہ ہو۔

یہ مضمون 25 دسمبر 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔