کراچی: پولیس کا 5 ’دہشت گردوں‘ کو ہلاک کرنے کا دعویٰ

30 دسمبر 2017

ای میل

کراچی پولیس نے شہر کے نواحی علاقے میں کارروائی کے دوران ’داعش‘ سے تعلق رکھنے والے 5 مشتبہ دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) ملیر راؤ انوار کے مطابق خفیہ اطلاع ملنے پر سہراب گوٹھ پولیس نے سپر ہائی وے سے دور ایوب گوٹھ کے قریب غریب آباد کے علاقے میں دہشت گردوں کے مبینہ ٹھکانے پر ٹارگٹڈ کارروائی کی۔

پولیس کی ٹارگٹڈ کارروائی کے دوران 5 مشتبہ دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا۔

راؤ انوار نے کہا کہ انہیں انٹیلی جنس ایجنسی کی جانب سے علاقے میں داعش سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع ملی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی: القاعدہ برصغیر کے 4 'دہشت گرد' مقابلے میں ہلاک

ہلاک دہشت گردوں میں سے ایک کی شناخت قاری حبیب اللہ عرف عبدالسلام برمی کے نام سے ہوئی۔

ایس ایس پی ملیر کا کہنا تھا کہ ’کارروائی کے دوران مارے جانے والے دہشت گرد پولیس، مسلح افواج، مسیحی برادری اور دیگر شہریوں کے قتل کی واردارتوں میں ملوث تھے۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ 2003 میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے قیوم آباد کے علاقے میں کالعدم القاعدہ کے مبینہ ٹھکانے پر کارروائی کی تھی، جس میں مصر سے تعلق رکھنے والا ایک مشتبہ دہشت گرد ہلاک ہوا تھا جبکہ قاری حبیب اللہ کو اس کے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ گرفتار کیا گیا تھا۔

بعد ازاں القاعدہ، داعش میں شامل ہوگئی۔

مزید پڑھیں: کراچی میں پولیس مقابلہ: 5 دہشت گرد ہلاک

راؤ انوار نے دعویٰ کیا کہ قاری حبیب اللہ دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں میں ملوث تھا۔

پولیس نے ہلاک دہشت گردوں سے ایک آٹھ ایم ایم رائفل، ایک 99 پستول اور دو 30 بور کے پستول برآمد کرنے کا بھی دعویٰ کیا۔

واضح رہے کہ ایس ایس پی راؤ انوار کراچی میں متعدد بار ایسے پولیس انکاؤنٹر کرچکے ہیں جس میں کئی افراد مارے گئے، لیکن ان مبینہ مقابلوں میں کسی پولیس اہلکار کو خراش تک نہیں آئی۔