کراچی: سپریم کورٹ سے پاناما پیپرز کیس میں نااہل قرار دیئے گئے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی نااہلی سے متعلق قومی اسمبلی کی ویب سائٹ پر تفصیلات 5 ماہ گزرنے کے باجود اپ ڈیٹ نہیں کی گئیں۔

قومی اسمبلی کی ویب سائٹ پر انگریزوں سے آزادی حاصل کرنے کے بعد 1947 سے لے کر ملک کے موجودہ سربراہ حکومت شاہد خاقان عباسی تک کی تفصیلات موجود ہیں، ان وزرائے اعظم میں 2 کو سپریم کورٹ نے نااہل قرار دیا، جس میں سے ایک وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی عدالت سے نااہلی کا تذکرہ تو ان کے نام کے ساتھ موجود ہے، تاہم نواز شریف کے معاملے میں یہ بات موجود نہیں۔

خیال رہے کہ نواز شریف، جنہیں سپریم کورٹ نے 28 جولائی 2017 کو آئین کی شق 62 (ون) ایف کے تحت نااہل قرار دیا تھا، بعد ازاں انہوں نے ریویو پٹیشن بھی دائر کی تاہم اس میں بھی فیصلہ برقرار رہا۔

پاناما اسکینڈل میں نواز شریف اور ان کے اہل خانہ کی آف شور کمپنیوں کا انکشاف ہوا تھا، جس کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان، جماعت اسلامی پاکستان (جے آئی پی) کے امیر سینیٹر سراج الحق اور عوامی مسلم لیگ (اے ایم ایل) کے سربراہ شیخ رشید احمد سمیت دیگر نے سپریم کورٹ میں تحقیقات کی درخواستیں دائر کیں، جس پر 4 جنوری 2017 کو سپریم کورٹ سماعت کا آغاز کیا، بعد ازاں عدالت نے مزید شواہد کے لیے 20 اپریل 2017 کو مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دی، جس نے 10 جولائی 2017 کو سپریم کورٹ میں اپنی رپورٹ جمع کروائی، جبکہ 28 جولائی 2017 کو عدالت نے نواز شریف نااہل قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیں : کون،کب،کتنی مدت کیلئے وزیراعظم رہا

نواز شریف کی نااہلی کے بعد ان کے بھائی، پنجاب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف کا نام ان کو وزیر اعظم بنانے کے لیے سامنے آیا تھا، تاہم بعد ازاں شاہد خاقان عباسی کو مسلم لیگ (ن) کی جانب سے وزارت عظمیٰ کے عہدے پر فائز کیا گیا۔

نواز شریف واحد شخصیت ہیں جن کو سب سے زیادہ مرتبہ پاکستان کی وزارت عظمیٰ پر فائز ہونے کا موقع ملا، قومی اسمبلی کی ویب سائٹ پر اس حوالے سے ان کا نام 4 مرتبہ موجود ہے۔

اس حوالے سے جب قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر مرتضیٰ جاوید عباسی کے اسلام آباد میں موجود سیکریٹری صادق سے رابطہ کیا گیا، تو انہوں نے بتایا کہ ڈپٹی اسپیکر ہفتے کے دو دن اپنے حلقے این اے - 18 (ایبٹ آباد) میں گزارتے ہیں، لہذا مرتضی جاوید عباسی سے ایبٹ آباد میں رابطہ کیا گیا۔

ویب سائٹ پر نواز شریف کی نااہلی کے حوالے سے تذکرہ نہ ہونے پر ڈپٹی اسپیکر مرتضی جاوید کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی کی ویب سائٹ متواتر اپڈیٹ کی جاتی ہے۔

مزید پڑھیں : نواز شریف کے سیاسی عروج و زوال کی تصویری کہانی

جب انہیں بتایا گیا کہ یوسف رضا گیلانی کی عدالت سے نااہلی کی بات ویب سائٹ پر موجود ہے، تاہم نواز شریف کے نام کے ساتھ اس حوالے سے کوئی تذکرہ نہیں کیا گیا، تو انہوں نے کچھ دیر سوچتے ہوئے کہا کہ وہ دارالحکومت جا کر ہی اس پر کوئی جواب دے سکیں گے کہ ویب سائٹ پر اس کا تذکرہ کیوں نہیں ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) گزشتہ پانچ سال (2008 سے 2013) تک وفاق میں حکومت کی تھی، پہلی مرتبہ کسی جمہوری حکومت نے اپنی مدت مکمل کی تھی، اور 2013 کے انتخابات میں ناکامی کے بعد مسلم لیگ (ن) کو حکومت حوالے کی تھی، تاہم پیپلز پارٹی کے 5 سال میں بھی 2 وزرائے اعظم رہے۔

یوسف رضا گیلانی 25 مارچ 2008 کو وزیر اعظم بنے تھے، تاہم 26 اپریل 2012 کو عدالتی حکم پر سویئزر لینڈ کے حکام کو صدر آصف علی زرداری کے خلاف مقدمات کھولنے کا خط نہ لکھنے پر ان کو 5 سال کے لیے نااہل قرار دیا گیا تھا، بنیادی طور پر انہیں توہین عدالت پر 30 سکینڈز تک کٹہرنے میں کھڑنے رہنے کی سزا سنائی گئی تھی۔