ایران میں پُر تشدد مظاہرے جاری، 450 افراد گرفتار

اپ ڈیٹ 02 جنوری 2018

ای میل

ایک خاتون آنسو گیس سے بچنے کی کوشش کر رہی ہے — فوٹو، اے پی
ایک خاتون آنسو گیس سے بچنے کی کوشش کر رہی ہے — فوٹو، اے پی

تہران: ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ تین روز میں جاری پُر تشدد مظاہروں کے دوران دارالحکومت تہران سے اب تک 450 افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔

ایران میں جاری مظاہروں کا ایک منظر — فوٹو، اے ایف پی
ایران میں جاری مظاہروں کا ایک منظر — فوٹو، اے ایف پی

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق تہران کے گورنر ہاؤس کے ڈپٹی علی اصغر نصیربخت نے اِرنا نیوز ایجنسی سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ ہفتے (30 دسمبر 2017) کو 200، اتوار (31 دسمبر 2017) کو 150 جبکہ پیر (یکم جنوری 2018) کو 100 افراد کو گرفتار کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ تہران میں گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں صوتحال انتہائی اطمینان بخش ہے، جس میں گزشتہ روز مزید بہتری آئی ہے۔

ڈپٹی گورنر کا مزید کہنا تھا کہ اب تک پاسدارانِ انقلاب کو دارالحکومت میں مداخلت کرنے کی درخواست نہیں کی گئی۔

خیال رہے کہ گزشتہ برس 28 دسمبر کو شروع ہونے والے مظاہروں کی شدت تہران میں دیگر شہروں میں ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں سے کم دکھائی دیتی ہے۔

مزید پڑھیں: ایران: پُرتشدد مظاہرے، پولیس کے ساتھ جھڑپ میں 2 افراد ہلاک

ادھر پاسدارانِ انقلاب کے ایک مقامی ڈپٹی کمانڈر اسمٰعیل کووساری نے سرکاری ٹیلی ویژن سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ’ہم تہران میں عدم استحکام کو جاری رکھنے کی اجازت نہیں دیں گے، اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو اعلیٰ حکام اس معاملے کو ختم کرنے کا فیصلہ کریں گے۔‘

ایرانی صدر حسن روحانی نے کی جانب سے گزشتہ روز ایک بیان سامنے آیا تھا جس میں انہوں نے اعتراف کیا تھا کہ ایران کا سب سے بڑا مسئلہ بے روزگاری ہے اور ایرانی معیشت میں آپریشن کی ضرورت ہے جس کے لیے پورے ملک کو مل کر کھڑے ہونا ہوگا۔

ایرانی صدر نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ ایرانی حکومتی حلقے ملک میں لوگوں کو تنقید کرنے کے لیے ماحول فراہم کرتے ہیں تاہم مظاہرین کو خبردار کیا تھا کہ پُر تشدد کارروائیاں قابلِ قبول نہیں ہیں۔

خیال رہے گزشتہ روز (یکم جنوری) کو ایران کے سرکاری میڈیا کا کہنا تھا کہ ملک کے مختلف علاقوں میں جاری پُرتشدد مظاہرے دارالحکومت تہران تک پہنچ چکے ہیں جبکہ پولیس اور سیکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ جھڑپ میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 13 ہوگئی۔

یہ بھی پڑھیں: ایران میں ایک ہفتے سے احتجاج جاری، جھڑپوں میں 12افراد ہلاک

ایران میں پُر تشدد مظاہروں کا ایک منظر — فوٹو ، اے ایف پی
ایران میں پُر تشدد مظاہروں کا ایک منظر — فوٹو ، اے ایف پی

اسلامی نظام کے خلاف سازش

ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے کہا ہے کہ اسلامی نظام میں مسائل پیدا کرنے کے لیے حالیہ دنوں میں ایران کے دشمنوں نے پیسوں، ہتھیاروں، سیاست اور انٹیلی جنس ساز و سامان سمیت مختلف وسائل استعمال کیے ہیں۔

ایرانی سپریم لیڈر نے اس حوالے سے کسی ملک کا نام نہیں لیا لیکن انہوں نے کہا کہ وہ مستقبل میں مزید اس حوالے سے آگاہ کریں گے۔

بدامنی کے پیچھے سعودی عرب کا ہاتھ

ایران کے سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل ( ایس این ایس سی) کے سیکریٹری علی شمخانی نے کہا کہ ایران میں حالیہ بد امنی کے پیچھے سعودی حکومت اور اس کے اتحادی فورسز کا ہاتھ ہے۔

پریس ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے الزام لگایا کہ سعودی عرب کے ساتھ ساتھ امریکا اور برطانیہ نے ایران کے خلاف ٹوئٹر اور دیگر سماجی رابطوں کی ویب سائٹ کے ذریعے پراکسی جنگ شروع کی ہوئی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مختلف شعبوں میں ایران کی ترقی کے باعث مخالف قوتیں اس کے خلاف سازشیں کر رہی ہیں۔

تاہم سیکریٹری ایس این ایس سی نے واضح کیا کہ حالیہ مظاہروں کی لہر سے تہران پریشان نہیں ہے اور معاملات کچھ دن میں معمول پر آجائیں گے۔

واضح رہے کہ ایک اسرائیلی وزیر نے اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ ایران میں بڑے پیمانے پر جاری مظاہروں میں لوگ حکومت کے خلاف کامیاب ہو جائیں گے۔

اے پی کے مطابق اسرائیل کے ایک وزیر یزرائیل کاٹز نے مقامی ریڈیو انٹرویو کو دیتے ہوئے کہا ’اسرائیل اس معاملے میں اپنے آپ کو ملوث نہیں کر رہا تاہم میری خواہش ہے کہ ایران کے عوام اپنی آزادی اور جمہوریت کے لیے اس جدوجہد میں کامیاب ہوجائیں۔

ترکی کا مظاہروں کے بڑھنے کے خدشات کا اظہار

دوسری جانب ترکی نے پڑوسی ملک میں جاری پُر تشدد مظاہروں کے حوالے سے خبر دار کرتے ہوئے ایران میں مزید بد امنی بڑھنے کے خدشات کا اظہار کردیا۔

ترکی کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ایران میں پُر تشدد مظاہروں کی خبریں موصول ہوئی ہیں جن میں مظاہرین کی اموات اور سرکاری عمارتوں کو نقصان پہنچانے کی کارروائیاں ہوئیں۔

ایران میں مظاہروں کی صورتحال

خیال رہے کہ ایران کے شہر مشہد میں اقتصادری مسائل اور حکومت کے شاہانہ طرز زندگی کے خلاف جمعرات (28 دسمبر) کو مظاہروں کا آغاز ہوا اور جب مظاہرین کو روکنے کی کوشش کی گئی تو وہ جلد ہی حکومت مخالف مظاہروں میں تبدیل ہوگئے۔

بعدِ ازاں ان میں شدت آگئی تھی جبکہ ایرانی صدر حسن روحانی نے ایران میں غیر قانونی اجتماعات پر پابندی عائد کردی تھی۔

29 دسمبر کو مظاہرین نے 1979 کے ایرانی انقلاب کے نتیجے میں گرائی گئی شاہی حکومت کے حق میں بھی نعرے بازی کی تھی جبکہ کچھ مظاہرین نے حکومت کو اندرونی مسائل کے بجائے فلسطینی اور دیگر علاقائی تحاریک کی حمایت کرنے کے خلاف بھی نعرے بازی کی تھی۔

مظاہروں کے دوران روڈ پر گاڑیوں کی قطاریں لگ گئیں — فوٹو ، اے ایف پی
مظاہروں کے دوران روڈ پر گاڑیوں کی قطاریں لگ گئیں — فوٹو ، اے ایف پی

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری ہونے والی ایک ویڈیو کے مطابق ایرانی سیکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ کے دوران فائرنگ کے نتیجے میں دورود کے علاقے میں 2 مظاہرین زخمی ہوگئے تھے بعدِ ازاں یہ اطلاعات آئیں کہ زخمی مظاہرین ہلاک ہوگئے تھے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر جاری ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے کئی شہروں میں پُر امن ریلی نکالی اور ’آمر کی موت‘ کے نعرے بھی لگائے۔

ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق مسلح مظاہرین نے ایزا شہر میں فوجی بیس اور پولیس اسٹیشن پر قبضہ کرنے کی کوشش کی جہاں انہیں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا جس کے بعد مظاہرین اور سیکیورٹی اہلکاروں کے درمیان جھڑپ بھی ہوئی۔

گزشتہ روز (یکم جنوری کو) ایرانی سرکاری ٹی وی کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ ایران میں پُر تشدد مظاہروں میں پولیس اہلکار سمیت مزید 9 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ ایک مقامی ایران کے رکن اسمبلی ہدایت اللہ خادمی کا کہنا تھا کہ مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان تازہ جھڑپوں میں 2 مزید لوگ مارے گئے جس بعد یہ تعداد 13 ہوگئی تھی۔