سند یافتہ ڈاکٹر، انجینئر اور وکیل وغیرہ تو ہوتے ہی ہیں، لیکن ہماری خوش نصیبی یہ ہے کہ ہمیں عمران خان کے روپ میں سند یافتہ صادق اور امین بھی میسر آگیا۔

اگر کوئی اور اُن کے بارے میں یہ دعویٰ کرتا تو ہم ماننے میں پس و پیش سے کام لیتے، لیکن یہ بات تو خود محترم عمران خان نے فرمائی ہے اور جس طرح کھانے پینے کی ڈبا بند اشیاء وزارتِ صحت سے منظور شدہ ہوتی ہیں، اُسی طرح اب کُھلے ہوئے عمران خان عدالت سے تسلیم شدہ صادق و امین ہیں، چنانچہ اُنہیں سند یافتہ صادق و امین ماننے میں کسے کلام ہوسکتا ہے؟

یہی نہیں، اُن کی صداقت اور امانت کا تقاضا ہے کہ اب اُن کی ہر بات سچ مان لی جائے، جیسے اُن کا ٹوئٹ کہ ’مائی نیم از خان اینڈ آئی ایم ناٹ اے ٹیررسٹ۔‘ اُن کے خان ہونے اور دہشت گرد نہ ہونے پر کسے شبہہ ہے، پھر بھی انہوں نے شاہ رخ خان کا یہ ڈائیلاگ اپنے سند یافتہ صادق و امین ہونے کے اعلان کے طور پر ٹوئٹ کیا، مگر یہ جملہ شاہ رخ نے فلم ’مائی نیم از خان‘ میں دعوے کے طور پر نہیں بطور صفائی بولا تھا۔

عمران خان

ذاتی خیال تو یہی ہے کہ خان صاحب کے لیے موزوں ترین فلمی ڈائیلاگ یہ نہیں، بلکہ اُن کی شخصیت کا عکاس یہ مکالمہ ہے، ’ایک بار جو کمٹمنٹ کردی، اُس کے بعد میں خود کی بھی نہیں سُنتا،‘ اور اُن کا ہر ادارے سے مطالبہ اور دلی خواہش ہوتی ہے، ’یہ ہاتھ ہم کو دے دے ٹھاکُر۔‘

خان صاحب کی ہی طرح دوسرے سیاست دانوں پر بھی اُن کی شخصیت، سیاست اور موجودہ حالات کے اعتبار سے بعض فلموں اور ڈراموں کے ڈائیلاگ ’فٹ‘ بیٹھتے ہیں۔ آئیے اِن ڈائیلاگز پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔

میاں نواز شریف

میاں نواز شریف جن حالات سے گزر رہے ہیں، اُنہیں دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ سَنی دیول نے اُن ہی کے لیے یہ ڈائیلاگ بولا تھا، ’تاریخ پہ تاریخ، تاریخ پہ تاریخ، تاریخ پہ تاریخ۔‘ جو دوسرا مکالمہ اُن کی تصویر کشی کرتا ہے وہ پرانی فلموں کے جذباتی مناظر میں بولا جاتا تھا۔ پوری طرح دُکھ کا مارا ہیرو، ہیروئن کے بچھڑنے پر روتے ہوئے سبب پوچھنے پر کہتا تھا، ’نہیں نہیں، میں رو تو نہیں رہا۔‘

اسحٰق ڈار

اسحٰق ڈار کی مقدمات نے جو حالت بنادی ہے وہ وہی ہے جس میں اکثر پُرانی بھارتی فلموں میں عزت خطرے میں آنے پر ہیروئن روتے ہوئے کہتی تھی، ’بھگوان کے لیے مجھے چھوڑ دو۔‘

فاروق ستار

ڈاکٹر فاروق ستار کا تو نام سُنتے ہی ذہن میں یہ جملہ گونج اُٹھتا ہے،’میرے پاس ماں ہے۔‘ کوئی سال بھر پہلے تک اُنہیں ‘سردار‘ کے اِس استفسار کا جواب دینا پڑتا تھا کہ جلسے میں ’کتنے آدمی تھے۔‘ اِن دنوں وہ شاہ رخ خان کا یہ مشہور ڈائیلاگ سوچ کر دل دکھاتے اور جلاتے ہوں گے، ’ہم شریف کیا ہوئے، پوری دنیا ہی بدمعاش ہوگئی۔‘

الطاف حسین

الطاف بھائی کا ساتھ ساتھیوں نے یوں چھوڑا ہے کہ وہ ’شعلے‘ کے مولوی صاحب کی طرح پوچھ رہے ہیں، ’اتنا سناٹا کیوں ہے بھائی۔‘ ویسے اپنے اچھے دور میں وہ شتروگھن سنہا کی طرح ’خاموش ش ش ش ش‘ کہنے کے عادی تھے۔

مولانا فضل الرحمٰن

ہر دم ہنستے مسکراتے مولانا فضل الرحمٰن ’موگیمبو خوش ہوا‘ کی جیتی جاگتی تصویر ہیں۔

آصف زرداری

دنیا کے خوش نصیب ترین داماد کا اعزاز رکھنے والے آصف زرداری کی کہانی ایک پرانے پاکستانی ڈرامے کا ڈائیلاگ یاد دلادیتی ہے، ’آفٹر آل میں داماد ہوں۔‘ اُن کے لیے ’تھری ایڈیٹس‘ کا مکالمہ ’آل از ویل‘ بھی فِٹ بیٹھتا ہے، اور جو تیسرا مکالمہ اُن ہی کے لیے لکھا گیا، اُس سے کون آشنا نہیں، ’ڈان کو پکڑنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔‘

بلاول زرداری

بلاول زرداری کو دیکھ کر بھی پی ٹی وی کے ایک ڈرامے کا مکالمہ زبان پر آجاتا ہے، ’چھوٹی سی گُڑیا چھوٹی رہ گئی، امّی کی گود میں سوتی رہ گئی۔‘ شکتی کپور کا ایک فلمی مکالمہ ’میں ایک چھوٹا سا، ننھا سا پیارا سا بچہ ہوں‘ بلاول ہی کا نعرہ لگتا ہے۔

مصطفیٰ کمال

مصطفیٰ کمال کا ضمیر جس طرح نیند پوری کرنے کے بعد جاگا اور پھر جس عزم و ارادے کے ساتھ وہ بہ قول خود کامیابی اور ستائش سے بے گانے اور عبداﷲ دیوانے ہوکر رضا ہارون کے ساتھ اﷲ کی رضا کے لیے مصروف سیاست ہوئے اُسے دیکھتے ہوئے اُن کا تعارف ماضی کی فلموں کا وہ مکالمہ بنتا ہے جو ہیرو ہیروئن کو غنڈوں سے بچانے کے بعد بولا کرتا تھا، ’یہ تو میرا فرض تھا۔‘ اُن کا طرزِ سخن دھرمیندر کے ’کُتے کمینے‘ سے شروع ہونے والے مکالمے یاد دلا دیتا ہے۔

جب وہ اپنی جماعت میں متحدہ سے ٹوٹ کر آنے والے کسی رُکن اسمبلی یا رہنما کی شمولیت کی اطلاع بذریعہ پریس کانفرنس دیتے ہیں تو وہی منظر ہوتا ہے جب پرانی پاکستانی فلموں میں 30 یا 35 سال کا ہیرو گھر آکر جھوم جھوم کر خوش خبری سناتا تھا، ’ماں! ماں! میں نے بی اے کرلیا۔‘ اگر وہ مطلوبہ انتخابی کامیابی حاصل نہ کرپائے تو یقیناً اپنے مہربانوں سے رو کر پوچھیں گے، ’جب کھلا نہیں سکتے تو پیدا کیوں کرتے ہو۔‘

سراج الحق

ہر الیکشن کا نتیجہ جماعتِ اسلامی کے لیے جو کچھ لاتا ہے، وہ سراج الحق صاحب کو ’مغل اعظم‘ کا یہ مکالمہ سناتا ہے، ’انارکلی کی قسمت میں کانٹے آئے ہیں۔‘ عہدِ رفتہ کی فلموں میں ولن کوئی بُری خبر سُن کر خبر لانے والے ساتھی سے کہتا تھا، ’کہہ دو کہ یہ جھوٹ ہے۔‘ اِسی طرح ہر ہار کی خبر پر سراج الحق کے دل سے بھی یہی آواز نکلتی ہوگی۔

پرویز مشرف

فوج کی قیادت اور پھر کوئی 10 سال تک ملک کی صدارت کرنے والے پرویز مشرف کا فراغت کے بعد یہ حال ہے کہ ’مجھے کام بتاؤ، میں کیا کروں، میں کس کو کھاؤں۔‘ جب وہ برسرِ اقتدار تھے تو امریکی اشاروں پر اُن کی کارروائیاں ہر پُرانی فلم کے اُس منظر کی عکاس ہوتی تھیں جس میں ولن مغوی ہیروئن کو حکم دیتا تھا، ’ناچوووووو۔‘

چوہدری شجاعت، پرویز الٰہی اور شیخ رشید

جہاں تک تعلق ہے شیخ رشید، چوہدری شجاعت اور پرویز الہٰی کا تو اُن کا مستقبل ہمیشہ کسی آنے والے سے وابستہ رہا ہے اور آج بھی وہ فلم ’کَرن ارجُن‘ کی ماں کی طرح منتظر ہیں، ’میرے کرن ارجُن آئیں گے، زمین کی چھاتی پھاڑ کر آئیں گے، آسمان کا سینہ چیر کر آئیں گے۔‘ اپنی اِس آس میں ہماری سیاست کی یہ مائیں جمہوریت کے لیے ساس جیسا رویہ رکھتی ہیں۔

میر ظفراللہ جمالی

میرظفراﷲ جمالی کو پرویز مشرف نے بڑے پیار سے وزیرِاعظم بنایا اور پھر یوں نکالا کہ ہَکّابَکّا اور بھونچکّے رہ جانے والے یہ بھی نہ پوچھ سکے کہ کیوں نکالا، سو اُن پر جو بیتی اُس کا عنوان بنا، ’تھپڑ سے ڈر نہیں لگتا صاحب! پیار سے لگتا ہے۔‘