سپریم کورٹ میں شوگر ملز کیس کی سماعت کے دوران پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور سابق رکن اسمبلی جہانگیر ترین سمیت پانچ شوگر ملز مالکان نے متعلقہ علاقے کا تمام گنا سرکاری نرخ پر خریدنے کی یقین دہانی کرادی۔

سماعت کے آغاز میں عدالت نے رحیم یار خان میں واقع شریف خاندان کی بند شوگر ملز کو کھولنے سے روکنے کا حکم دے دیا۔

چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ ’بابا رحمتے‘ کے سامنے سچ بولو گے تو سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا، نگرانی کی جائے گی تو کوئی غلطی بھی نہیں کرے گا۔

مزید پڑھیں: اتفاق شوگر ملز منتقلی معاملہ، لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ چیلنج

سماعت کے دوران جہانگیر ترین کے وکیل اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ گنے کا ریٹ شوگر کین کمشنر طے کرے گا جبکہ ہم زیادہ سے زیادہ یہ ریلیف دے سکتے تھے کہ کسان کا گنا کھیت سے اٹھالیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر ڈھائی سومیل کے فاصلے سے بھی ہمیں گنا اٹھانا پڑا تو اٹھا لیں گے۔

چیف جسٹس نے کسانوں کو مخاطب کرتے ہوئے عدالت میں ریمارکس دیے کہ آپ کسی اور کے آلہ کار بنیں گے تو معاملہ خراب ہوجائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے کسانوں کو بھی ریلیف دیا اور شوگر ملوں کو غیر قانونی کام سے بھی روک دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: شریف خاندان کو شوگر ملز کی منتقلی سے روک دیا گیا

اعتزاز احسن نے عدالت میں کسانوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سوال کیا کہ کسانوں کے اتنے بڑے اشتہاروں کی رقم کس نے دی۔

جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا آپ کو لگتا ہے کہ کمزور چیف جسٹس کی آنکھیں اور کان کھلے نہیں ہوں گے جبکہ ایسا نہیں ہے میری تمام آنکھیں اور کان کھلے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جب تک کیس چلے گا ملیں منتقل کرنے کا لاہور ہائی کورٹ کا حکم معطل رہے گا، اگر کسی کو شکایت ہے تو عدالت کے علم میں لائے، اسے چیمبر میں سنا جائے گا۔

مزید پڑھیں: میرپور خاص: احتجاج کے دوران کسان کی خود سوزی کی کوشش

بعد ازاں سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت کو 18 اپریل تک کے لیے ملتوی کردیا۔

خیال رہے کہ شریف خاندان کی ملکیت میں موجود اتفاق شوگر ملز نے لاہور ہائی کورٹ کے 11 ستمبر کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا، جس میں لاہور ہائی کورٹ نے شوگر پلانٹ کو بہاولپور منتقل کیے جانے کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔

واضح رہے کہ اس سے شوگر مل کو 2015 میں ضلع پاکپتن سے بہاول پور منتقل کیا گیا تھا۔