اسلام آباد: سپریم کورٹ نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل ( پی ایم ڈی سی) کو تحلیل کرتے ہوئے عبوری کمیٹی کو کام جاری رکھنے کا حکم دے دیا۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے پی ایم ڈی سی کے وجود اور سنٹرل ایڈمیشن پالیسی سے متعلق کیس کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کو تحلیل کرنے کا حکم دیتے ہوئے ایک عبوری کمیٹی تشکیل دی جو پی ایم ڈی سی کا عبوری سیٹ اپ کا نظام چلائے گی۔

مزید پڑھیں: پی ایم ڈی سی کیس: ’پاکستان کو 5 لاکھ عطائی نہیں ڈاکٹر درکار‘

عدالتی حکم کے مطابق یہ 7 رکنی عبوری کمیٹی جسٹس شاکر اللہ جان کی سربراہی میں کام کرے گی اور اٹارنی جنرل اشتر اوصاف بھی اس کا حصہ ہوں گے، جو پی ایم ڈی سی کی قانون سازی میں معاونت کریں گے۔

اپنے حکم میں چیف جسٹس نے کہا کہ اس کمیٹی کو نجی میڈیکل کالجوں کی انسپکشن کا اختیار ہوگا جبکہ اس تمام عمل کی نگرانی وہ خود کریں گے تاہم اس کیس سے متعلق تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔

اس سے قبل گزشتہ روز سماعت کے دوران پی ایم ڈی سی کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے عدالت کو بتایا تھا کہ پاکستان میں رجسٹرڈ طبی معالجین کی تعداد ایک لاکھ 64 ہزار اور اسپیشلسٹ ڈاکٹر کی تعداد 47 ہزار سے زائد جبکہ 25 ہزار سپیشلسٹ ڈاکٹر بیرون ملک ملازمت کر رہے ہیں۔

جس پر عدالت نے ریمارکس دیئے تھے کہ پاکستان کو پانچ لاکھ عطائی نہیں بلکہ ڈاکٹرز درکار ہیں جو اتنی قابلیت رکھتے ہوں کہ آپریشن کرسکیں۔

عدالت عظمیٰ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ‘ایسے ماہرین نہیں جو داتا دربار سے نشئی اٹھا کر لے جائیں اور اسکا گردہ نکال کر عربی کو بیچ دیں’۔

میاں ثاقب نثار نے کہا تھا کہ عطیات لینے پر ہم اپنے حکم کے زریعے پابندی لگائیں گے اور عدالتی حکم کی خلاف ورزی کرنے والے کو ہم خود دیکھیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: نجی میڈیکل کالج کیس: ڈاکٹر عاصم کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم

جس پر پی ایم ڈی سی کے وکیل نے عدالت کے موقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ نجی میڈیکل کالجز کی جانب سے عطیات لینا غلط اقدام ہے۔

اٹارنی جنرل اشتراوصاف نے عدالت میں کہا تھا ‘کابینہ نے مجھ سے پی ایم ڈی سی آرڈینینس اور میڈیکل کالجز کے موضوع پر بریفنگ لی ہے اور حکومت اپنے مشترکہ اجلاس میں اس معاملے پر اہم فیصلے کرکے اس معاملے پر قانون سازی کرے گی۔