ہولی وڈ اداکارہ گال گدوت کو نامور امریکی کریٹکس چوائس ایوارڈز کے دوران سی ہر نامی ایوارڈ سے نوازا گیا۔

یہ ایوارڈ گال گدوت کو ان کے فلاحی کاموں اور خواتین کو بااختیار بنانے کی کوششوں کے ساتھ ساتھ رواں سال ان کی کامیاب فلم ’ونڈر وومن‘ میں بہترین کارکردگی ادا کرنے پر ملا۔

اس ایوارڈ کو فلم ’ونڈر وومن‘ کی لکھاری پیٹی جینکنز نے ہی اداکارہ کو پیش کیا۔

اس ایوارڈ کو قبول کرتے ہوئے اداکارہ نے کہا کہ وہ اپنی پوری زندگی مضبوط، آزاد، صاف دل خاتون کا کردار ادا کرنا چاہتی تھیں اور انہیں یہ تمام صلاحیتیں ونڈر وومن میں نظر آئیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ خواتین کو اب سینما میں بہتر کردار مل رہے ہیں جبکہ باکس آفس پر بھی خواتین کی فلمیں زیادہ کمائی کررہی ہیں، لیکن ابھی بھی منزل سے کافی دور ہیں۔

گال گدوت کے مطابق اس سال کی 100 ٹاپ فلموں میں 8 کی ہدایت کاری خواتین ڈائیریکٹرز نے کی، جبکہ تین سب سے زیادہ کمائی کرنے والی فلمیں ’اسٹار وارز‘، ’بیوٹی اینڈ دی بیسٹ‘ اور ’ونڈر وومن‘ خواتین کے مضبوط کرداروں پر مبنی تھیں۔

اداکار نے ہولی وڈ میں خواتین کا خود کو ہراساں کرنے کے حوالے سے آواز اٹھانے کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ ’میں اپنا ایوارڈ ہر اس خاتون اور مرد کے نام کرتی ہوں جو صحیح بات کے لیے کھڑا ہوا، ان کے لیے کھڑا ہوا جو خود کے لیے کھڑے نہیں ہوسکتے، اور میں وعدہ کرتی ہوں کہ میں کبھی خاموش نہیں رہوں گی‘۔

اس تقریب میں گال گدوت کی فلم ونڈر وومن کو تین اور زمروں میں نامزد کیا گیا، جبکہ اسے بہترین ایکشن فلم کے ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ گال گدوت بہت جلد ونڈر وومن 2 پر کام کا آغاز کردیں گی، جسے اگلے سال یکم نومبر کو ریلیز کرنے کا اعلان کیا ہے۔