پاکستان نے آزاد کشمیر میں لائن آف کنٹرول (ایل اوسی) کی دوسری جانب سے بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ کے نتیجے میں بزرگ خاتون کے جاں بحق ہونے پر بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو طلب کرکے احتجاج ریکارڈ کرا دیا۔

دفتر خارجہ کے مطابق بھارتی فوج کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی حالیہ خلاف ورزی آزاد کشمیر کے سیکٹر کوٹ کوٹیرا میں کی گئی جہاں ایک خاتون جاں بحق ہوئیں۔

ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا تھا کہ پاکستان نے بھارت کے ڈپٹی ہائی کمشنر کو طلب کرکے 65 سالہ خاتون حسین بی بی کی ہلاکت پر احتجاج کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں تاحال بھارتی فوج کی جانب سے 70 سے زائد مرتبہ ایل او سی اور ورکنگ باؤنڈری میں جنگ بندی کی خلاف ورزی کی گئی ہے جس کے نتیجے میں حسین بی بی جاں بحق ہوئی ہیں اور 5 دیگر افراد زخمی ہوگئے۔

یہ بھی پڑھیں:ایل او سی پر بھارتی فائرنگ، ایک پاکستانی جاں بحق

ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ 'جان بوجھ کر شہریوں کو نشانہ بنانا نہ صرف قابل مذمت ہے بلکہ یہ انسانی وقار اور عالمی انسانی حقوق قوانین کے بھی خلاف ہے'۔

ترجمان دفتر خارجہ نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ 'بھارت کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی خطے کے امن وسلامتی کے لیے خطرہ ہے اور یہ اسٹریٹریٹجک حوالے سے اندازوں کی غلط پیش بندی بھی کر سکتی ہے'۔

بھارت کو 2003 کے جنگ بندی معاہدے کا احترام کرنے پر زور دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس واقعے سمیت دیگر تمام جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کی جائیں اور ساتھ ساتھ ایل اوسی اور ورکنگ باؤنڈری پر امن کو بحال رکھنے کے لیے بھارتی فورسز کو جنگ بندی معاہدے کے احترام کی ہدایت کی جائے۔

مزید پڑھیں:ایل او سی پر بھارتی فورسز کی شیلنگ، ایک بزرگ شہری جاں بحق

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ 'بھارت کو چاہیے کہ وہ اقوام متحدہ کے مبصر مشن کو بھارت اور پاکستان میں سیکیورٹی کونسل کی قراردادوں کے عین مطابق اپنا کردار ادا کرنے کی اجازت دے'۔

نئی دہلی کی جانب سے دفتر خارجہ کے احتجاج پر تاحال کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

خیال رہے کہ ایل او سی پر جنگ بندی کے لیے 2003 میں پاکستان اور بھارتی افواج کی جانب سے ایک معاہدے پر دستخط کے باوجود جنگ بندی کی خلاف ورزی کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے۔

نومبر 2017 میں پاکستان رینجرز اور بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورسز کے اعلیٰ حکام کی ملاقات میں 2003 کے معاہدے پر عمل درآمد کی یقین دہانی کے باوجود بھارت کی طرف مسلسل خلاف وزری جاری ہے۔