امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر برائے مسلم کمیونٹی ساجد تارڑ کا کہنا ہے کہ 70 سال پر محیط پاکستان اور امریکا کے تعلقات ایک مہینے یا ہفتے میں ختم نہیں ہوسکتے۔

اپنے ویڈیو پیغام میں ساجد تارڑ نے کہا کہ وہ پاک ۔ امریکا تعلقات سے پرامید ہیں اور انہیں موجودہ تعلقات میں تناؤ پر کوئی مایوسی نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’دونوں ممالک کی حکومتیں موجود آپشنز پر غور کر رہی ہیں اور دیکھ رہی ہیں کہ مستقبل میں ایک دوسرے کے ساتھ کیسے معاملات کو آگے لے کر چلا جائے گا۔‘

ساجد تارڑ کا کہنا تھا کہ ’پاکستان میں کچھ چھوٹے قد کے سیاستدان اس معاملے میں اپنی دُکان چمکانے کی کوشش کر رہے ہیں اور لوگوں کو گمراہ کر رہے ہیں جیسے پاکستان اور امریکا کے درمیان جنگ ہونے جارہی ہے، لیکن ایسے بلکل حالات نہیں ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’امریکا میں مقیم ہم پاکستانی دونوں حکومتوں کی غلط فہمیاں دور کرنے میں کردار ادا کر رہے ہیں، 70 سال کے عرصے پر محیط پاک ۔ امریکا تعلقات ایک مہینے یا ہفتے میں ختم نہیں ہوسکتے اور ہم بہتری کی طرف جائیں گے۔‘

یہ بھی پڑھیں: امریکا نے پاکستان کی سیکیورٹی امداد روک دی

انہوں نے کہا کہ ’امریکا کی جانب سے پاکستان کی امداد مستقل نہیں بلکہ عارضی طور پر معطل کی گئی ہے، حساس معاملات پر پاکستانی سیاستدانوں کو انتشار کے بجائے احتیاط سے کام لینا چاہیے، جبکہ دونوں ممالک کے تعلقات جلد معمول پر آجائیں گے۔‘

واضح رہے کہ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے سربراہ جنرل جوزف ووٹل اور ایک امریکی سینیٹر نے پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور امریکی صدر کے بیان سے قبل اور بعد کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا تھا۔

سینٹ کام کے کمانڈر جنرل جوزف ووٹل نے کہا ہے کہ امریکا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کو سراہتا ہے اور امید ظاہر کی کہ اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی کو جلد ختم کر لیا جائے گا۔

اس موقع پر آرمی چیف نے امریکی عسکری حکام پر واضح کیا کہ پاکستان، امریکا کو کبھی بھی امداد کی بحالی کے لیے درخواست نہیں کرے گا جبکہ پاکستان چاہتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانیوں کی قربانیوں کو سراہا جائے۔