گریوں کو کھانا مختلف امراض کا خطرہ کم کرے

12 جنوری 2018

Email


یہ بات اسپین میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی— شٹر اسٹاک فوٹو
یہ بات اسپین میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی— شٹر اسٹاک فوٹو

ہفتہ بھر میں تین بار کچھ مقدار میں بادام، اخروٹ، پستہ ، مونگ پھلی سمیت کسی بھی قسم کی گریاں کھانا عادت بنانا مختلف امراض سے موت کا خطرہ نمایاں حد تک کم کردیتا ہے۔

یہ بات اسپین میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

بارسلونا یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ ہفتہ بھر میں تین بار گریوں کو کھانا مختلف امراض سے قبل از وقت موت کا خطرہ 39 فیصد تک کم کردیتا ہے۔

مزید پڑھیں : گریاں، مچھلی اور انڈے کی زردی بچوں کیلئے بہتر

تحقیق میں بتایا گیا کہ یہ عادت امراض قلب، خون کی شریانوں کے مسائل (ہارٹ اٹیک اور فالج) اور ذیابیطس وغیرہ سے تحفظ فراہم کرتی ہے۔

اور یہ بات تو پہلے ہی سامنے آچکی ہے کہ گریاں کھانا جسمانی وزن کو مستحکم رکھنے میں مدد دیتا ہے یا موٹا نہیں ہونے دیتا۔

تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ گریوں کا استعمال خون کی شریانوں کے مسائل سے موت کے خطرے کو 55 فیصد، کینسر کا 40 فیصد تک کم کردیتا ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ ان گریوں سے دور رہنے والوں کے مقابلے میں انہیں کھانے والوں میں مختلف امراض سے موت کا خطرہ 39 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ گریاں مونوسچورٹیڈ فیٹی ایسڈز، فائبر، منرلز، وٹامنز اور دیگر اجزاءسے بھرپور ہوتی ہیں اور صحت کے لیے بہت فائدہ مند ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : گریوں کے فوائد اور پکوان

تحقیق کے مطابق یہ عادت انسولین کی مزاحمت کم کرکے ذیابیطس میں مبتلا ہونے کا خطرہ کم کرتی ہے جبکہ جسمانی وزن میں کمی بھی مختلف امراض سے تحفظ دیتا ہے۔

اسی طرح ذیابیطس ٹائپ ٹو کے شکار افراد اگر بادام کھانا عادت بنالیں تو ان کے دل کی صحت بہتر ہوتی ہے اور یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ ذیابیطس کے نتیجے میں امراض قلب کا خطرہ بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے۔