اسلام آباد: پاکستان اور امریکا کے درمیان حالیہ کشیدگی پر ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا ہے کہ ہماری کوشش یہی ہے کہ ہم کوئی مشترکہ اہداف تلاش کرلیں جو امریکا اور پاکستان دونوں ملکوں کے لیے اہم ہوں اور جن پر مل کر کام کیا جاسکے۔

ڈان نیوز کے پرگرام ’دو رائے‘ میں بات کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ ’امریکا اور پاکستان کی حکمت عملی اور قومی مفادات میں تھوڑا فرق پایا جاتا ہے، سفارتکاری کا مقصد یہی ہے کہ دو مختلف قومی مفادات میں سے مشترکہ لائحہ عمل تلاش کیا جائے جس پر آگے بڑھ سکیں، چناچہ اس اقدام کی جتنی ضرورت ہمیں ہے اتنی ہی امریکا کو بھی ہے۔‘

یہ بھی پڑھیں: امریکا سے امداد کی بحالی کی درخواست نہیں کریں گے، آرمی چیف

انہوں نے کہا کہ 'ہم نے امریکا کو یہ باور کرایا ہے اور اب بھی کروا رہے ہیں کہ ہمارے اہم مسائل جن میں افغان مہاجرین کی واپسی کا مسئلہ اور افغانستان میں منشیات کی پیداوار کے ساتھ ساتھ پاکستان میں افغان سرزمین سے حملے ہمارے لیے بہت پریشان کن ہیں اور آگے چلنے کے لیے امریکا کو ہمارے ان مسائل پر توجہ دینی ہوگی۔‘

’پاک ۔ امریکا تعلقات مکمل طور پر کبھی منقطع نہیں ہوسکتے‘

پروگرام کے دوسرے مہمان اور سینئر تجزیہ کار امتیاز گل کا کہنا تھا کہ 'امریکا کی خواہشات اور توقعات پاکستان سے بہت زیادہ ہیں جبکہ پاکستان وہ سب نہیں کر پائے گا جو وہ چاہتا ہے، چنانچہ دونوں ملکوں کے درمیان یہ متضاد بیانیہ کا سلسلہ چلتا رہے گا جس کی وجہ سے وقتاً فوقتاً کوئی نہ کوئی تنازع کھڑا ہوتا رہے گا، تاہم پاکستان اور امریکا جیسے ملکوں کے درمیان تعلقات مکمل طور پر کبھی منقطع نہیں ہوسکتے۔‘

مزید پڑھیں: ’امریکا کی دوہری پالیسی پر مسلم ممالک کو چوکنا رہنے کی ضرورت‘

انہوں نے کہا کہ 'ہمیں اس امر کا احساس شدت سے ہورہا ہے کہ پاکستان جو مرضی کرلے، امریکا نے بھارت کے ساتھ مل کر اس علاقے کے لیے جو اہداف مقرر کیے ہوئے ہیں وہ ان سے پیچھے نہیں ہٹے گا اور امید ہے کہ ہماری عسکری اور سیاسی قیادت اس بات سے بخوبی آگاہ ہے اور آئندہ پالیسیاں انہی اسٹریٹیجک اہداف کو سامنے رکھ کر طے کیے جائیں گی۔'

یاد رہے کہ پاکستان فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے امریکی عسکری حکام پر واضح کیا ہے کہ پاکستان امریکا کو کبھی بھی امداد کی بحالی کے لیے درخواست نہیں کرے گا، پاکستان چاہتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانیوں کی قربانیوں کو سراہا جائے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کر دہ پریس ریلیز کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے سربراہ جنرل جوزف ووٹل اور ایک امریکی سینیٹر نے پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے ٹیلی فونک رابطہ کیا

امریکی جنرل نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو امریکی امداد اور کولیشن سپورٹ فنڈ سے آگاہ کیا، اور مزید کہا کہ امریکا، پاکستان میں موجود شرپسند عناصر کے خلاف کارروائی چاہتا ہے جو پاکستان کی سرزمین سے افغانستان میں امریکی اور افغان افواج کے خلاف منظم کارروائی کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔