قطر کی جانب سے متحدہ عرب امارات کے ایک طیارے کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی شکایت کے بعد آپس میں سفارتی تعلقات منقطع کرنے والے دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر الزامات کی بارش کردی۔

جون 2017 سے متحدہ عرب امارات سمیت چند عرب ممالک کی جانب سے سفارتی بائیکاٹ کا سامنا کرنے والے قطر کا کہنا تھا کہ اس نے 21 دسمبر کو مبینہ طور پر خلاف ورزی کے حوالے سے اقوام متحدہ میں احتجاج ریکارڈ کروا دیا ہے۔

قطر کی وزارت خارجہ کا سماجی ویب سائٹ ٹویٹر میں کہنا تھا کہ انھوں نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سیکیورٹی کونسل کے صدر کو متحدہ عرب امارات کے طیارے کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے قطر کے اکنامک زون میں ایک منٹ تک پرواز سے آگاہ کیا تھا۔

وزارت خارجہ کے مطابق 'متحدہ عرب امارات کا طیارہ بغیر اعتماد اور قطر کے متعلقہ حکام کی منظوری کے بغیر ریاست قطر کی فضائی حدود میں داخل ہوا تھا'۔

واقعے کو 'خودمختار ریاست قطر کی آزاد اور خودمختار سرحدوں کی کھلم کھلا خلاف وزری کے ساتھ ساتھ عالمی قوانین، کنونشنز، چارٹرز اور عالمی اقدار کے بھی منافی قرار دیا گیا ہے'۔

دوسری جانب متحدہ عرب امارات کی جانب سے فوری ردعمل سامنے آیا اوران کا کہنا تھا کہ 'قطر کی جانب سے اماراتی طیارے کی اس کی فضائی حدود کی خلاف کا الزام جھوٹا اور الجھن ہے'۔

مزید پڑھیں:سعودی عرب سمیت 6 ممالک نے قطر سے سفارتی تعلقات ختم کردیئے

متحدہ عرب امارات کے خارجہ امور کے وزیر انور غارغاش نے ٹویٹر میں اپنے پیغام میں کہا کہ 'ہم اس کا جواب شہادت اور ثبوت کے ساتھ سرکاری سطح پر دینے کے لیے کام کررہے ہیں جس کو ہم ایک بلاجواز سمجھتے ہیں'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'جو کچھ ٹیبل میں ہورہا تھا وہ اب کھلی فضا میں آگیا ہے'۔

خیال رہے کہ مشرق وسطیٰ میں اس وقت کشیدگی بڑھ گئی تھی جب 5 جون 2017 کو سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر نے قطر پر دہشت گردوں کی حمایت کا الزام عائد کرتے ہوئے سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا اعلان کیا تھا۔

قطر نے عرب ممالک کے الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے موقف اپنایا تھا کہ اس اتحاد کا مقصد قطر کے حکمرانوں کی تبدیلی ہے۔