اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی گئی پٹیشن میں کہا گیا ہے کہ سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف اور پاکستان عوامی تحریک (پی اے ٹی) کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری کو مختلف کیسز میں اشتہاری قرار دیے جانے کے باعث ان پر میڈیا میں آنے پر پابندی لگائی جائے۔

لیفٹننٹ (ر) کرنل انعام الرحمٰن کی جانب سے دائر کی گئی پٹیشن میں کہا گیا کہ الیکٹرانک میڈیا کے ضابطہ اخلاق میں شہریوں کو جمہوری نظام کے خلاف بھڑکانا جرم ہے اور یہ دونوں افراد اس جرم کے مرتکب ہیں۔

پٹیشن میں سیکریٹری اطلاعات، پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری (پیمرا)، پرویز مشرف اور طاہرالقادری کو جواب دہندگان کے طور پر نامزد کیا گیا۔

درخواست گزار کا کہنا تھا کہ جنرل مشرف پر غداری، عدلیہ پر حملے کا مقدمہ درج ہے جبکہ بے نظیر بھٹو قتل کیس میں انہیں اشتہاری بھی قرار دیا جا چکا ہے۔

مزید پڑھیں: بینظیر قتل کیس کا فیصلہ،مشرف اشتہاری قرار، پولیس افسران گرفتار

پٹیشن میں کہا گیا کہ پرویز مشرف کے غیر قانونی اقدامات سے پاکستان کی تذلیل ہوئی ہے جبکہ عدلیہ پر حملے کے کیس میں ایف آئی آر درج کیے جانے کے بعد پرویز مشرف نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ضمانت کی درخواست درج کرائی تھی جسے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے مسترد کرتے ہوئے ان کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کے سیکشن 7 کے تحت بھی مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ جنرل پرویز مشرف کو انسداد دہشت گردی عدالت کے جج شاہ رخ ارجمند کی جانب سے عدلیہ پر حملے کے کیس میں بھی اشتہاری قرار دیا جاچکا ہے۔

پٹیشنر نے بتایا کہ جنرل (ر) پرویز مشرف نے اپنی تقریر میں جمہوری نظام کے خلاف عوام کو بھڑکایا ہے اور اپنے غیر قانونی اور غیرآئینی اقدامات کی وضاحت دی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پرویز مشرف نے اپنے حالیہ انٹرویو میں کہا تھا کہ بے نظیر بھٹو کے قتل میں اسٹیبلشمنٹ کے کچھ افراد ملوث ہوسکتے ہیں۔

ڈاکٹر طاہر القادری کے حوالے سے پٹیشنر کا کہنا تھا کہ عدالتوں نے دو کیسز میں انہیں اشتہاری قرار دیا تھا اور وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: طاہرالقادری اشتہاری مجرم قرار

انہوں نے بتایا کہ طاہر القادری 2014 کے اسلام آباد دھرنوں اور لاہور حملے کے کیسز کا سامنا ہے۔

پٹیشن میں کہا گیا کہ جنرل (ر) پرویز مشرف اور ڈاکٹر طاہر القادری دونوں اشتہاری ملزم ہیں لیکن الیکٹرانک میڈیا روزانہ ان کی خبریں، بیانات، انٹرویوز اور تقریروں نشر کرہا ہے اور جس سے انہیں مزید بڑھاوا مل رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ الیکٹرانک میڈیا کی جانب سے ایسا کیا جانا نیشنل ایکشن پلان کی خلاف ورزی ہے جس میں الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے ذریعے نفرت انگیز مواز، انتہا پسندی، عدم رواداری اور دہشت گردوں کو بڑھاوا دینے کے خلاف سخت کارروائی کا کہا گیا ہے۔

پٹیشنر نے مزید کہا کہ انہوں نے پیمرا کو ان دونوں افراد کے بیانات انٹرویوز اور تقاریر دکھانے والے چینلز کے خلاف کارروائی کے لیے خط لکھا تھا تاہم ان کی جانب سے اس حوالے سے کوئی اقدامات نہیں کیے گئے۔

یہ بھی پڑھیں: غازی عبدالرشید قتل کیس: مشرف اشتہاری قرار

انہوں نے عدالت سے گزارش کی کہ پیمرا قانونی اعتراضات پر کارروائی کرنے میں ناکام ہوچکا ہے لحاظہ عدالت جنرل (ر) پرویز مشرف اور ڈاکٹر طاہرالقادری کو آئین کی تذلیل اور قانون کی خلاف ورزی کرنے پر میڈیا میں آنے پر زندگی بھر کی پابندی لگائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ عدالت وزارت اطلاعات اور پیمرا کو حکم جاری کرے کہ ایسے نیوز چینلز اور نیوز پیپرز جو اشتہاری ملزم کو نشر کرتے اور نیشنل ایکشن پلان کی خلاف ورزی کرتے ہیں کے خلاف سخت کارروائی کرے۔


یہ خبر ڈان اخبار میں 13 جنوری 2018 کو شائع ہوئی