لاہور ہائی کورٹ نے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے خلاف سیالکوٹ میں عدلیہ مخالف تقریر کرنے پر دائر پٹیشن کی سماعت کے دوران وزیر اعظم، وفاقی حکومت اور پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کو نوٹس جاری کردیے۔

خیال رہے کہ ایڈووکیٹ اظہر صدیقی کی جانب سے دائر کی گئی پٹیشن میں کہا گیا تھا کہ وزیر اعظم نے پاناما پیپر کیس کے فیصلے کو ردی کا ٹوکرا قرار دیا۔

مزید پڑھیں: کیا عدالتی فیصلے نے نواز شریف کو نئی زندگی دے دی؟

اظہر صدیقی نے پٹیشن میں موقف اختیار کیا کہ وزیراعظم نے اپنی تقریر میں توہین عدالت کا ارتکاب کیا اور ان کے اس بیان سے عدالت کو متنازع بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔

قبل ازیں ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نواز شریف ان کی بیٹی مریم نواز نے اپنی تقاریر میں عدالت عظمیٰ اور اس کے ججز کے خلاف کھلے عام تنقید کا بازار گرم کر رکھا ہے اور وہ عوام میں عدالت کے حوالے سے جذبات کو بھی ٹھیس پہنچا رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے بھی اپنا عہدہ سنبھالنے سے قبل اٹھائے گئے حلف کی خلاف ورزی کرتے ہوئے عدالت عظمیٰ کے خلاف محاذ آرائی شروع کردی۔

یہ بھی پڑھیں: ہمارے وزیراعظم نواز شریف ہی ہیں، شاہد خاقان عباسی

انہوں نے عدالت سے درخواست کی کہ وزیراعظم کے خلاف توہین عدالت کا کیس شروع کیا جائے اور پیمرا کو وزیر اعظم کی جانب سے عدلیہ کو نشانہ بنانے والی تقاریر کی روک تھام کے لیے اقدامات کرنے کا حکم دیا جائے۔

بعد ازاں عدالت نے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی، وفاقی حکومت اور پیمرا کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت کو 15 جنوری تک کے لیے ملتوی کردیا۔


یہ خبر 13 جنوری 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی